Top 10 similar words or synonyms for گیارہ

تیرہ    0.867399

اٹھارہ    0.860714

سترہ    0.837816

چودہ    0.836857

پندرہ    0.834061

سولہ    0.830842

آٹھ    0.828299

چوبیس    0.813626

تیس    0.809248

پچیس    0.808266

Top 30 analogous words or synonyms for گیارہ

Article Example
گیارہ اضلاع کینیڈا کا سکہ لونی (loonie) منظم گیارہ اضلاع سے ملتا جلتا ہے مگر درحقیقت یہ منظم گیارہ اضلاع نہیں ہے۔
گیارہ اضلاع یہ ایک ایسی کثیرالاضلاع شکل (polygon) ہوتی ہے جس کی 11 سطحیں ہوتی ہیں۔ منظم گیارہ اضلاع (regular hendecagon) صرف پرکار اور سیدھے خط سے نہیں بنایا جا سکتا ہے اور اس کا اندرونی زاویہ 147.27 ہوتا ہے۔ اندرونی زاویوں کا مجموعہ 1620 ہوتا ہے۔
گیارہ اضلاع منظم تیرہ اضلاع جس کے کنارے (edge) کی لمبائی a ہو اس کا رقبہ مندرجہ ذیل قائدے سے نکالا جا سکتا ہے۔
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر جب ہندوستان کی تقسیم بالآخر مکمل ہو گئی تو محمد علی جناح نوزائیدہ ریاست پاکستان کے پہلے گورنر جنرل منتخب کر لیے گئے۔ اس موقع پر پاکستان کی ریاست، نظریہ پاکستان اور امور ریاست بارے جناح نے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے 11 اگست 1947ء کو خطاب کیا۔ اس خطاب میں محمد علی جناح نے امور ریاست، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی، مساوات کا پرچار کیا۔ اسی تقریر میں محمد علی جناح مذہب اور ریاست کی علیحدگی کی حمایت بھی کرتے نظر آئے۔
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر جناح ایک وقت میں ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے سفیر مانے جاتے تھے۔
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر پاکستانی رکن اسمبلی مونچوہر بھاندرہ نے فروری 2007ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قرارداد جمع کروائی، جس کی رو سے محمد علی جناح کی اس تقریر کو باقاعدہ آئین کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے اس قرارداد کے مسودے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ بھاندرہ کے مطابق، “حکومت پاکستان 1949ء کے بعد سے اس خطاب کی سراسر خلاف ورزی کرتی آئی ہے۔ اس خطاب کے کئی حصے ماضی میں دانستہ طور پر حذف یا تبدیل کیے گئے ہیں“۔ مزید یہ کہ “ایک جانب تو محمد علی جناح سے ریاست انتہائی عقیدت کا اظہار کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ریاست میں ہی کئی عناصر سیاسی نظریات کو مذہبی نظریات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔“
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر پاکستان کی مذہبی اقلیتوں جن میں عیسائی، ہندو اور سکھ شامل تھے، نے 2007ء میں اس خطاب کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر مینار پاکستان لاہور کے مقام پر جشن کا اہتمام کیا۔ اور اس امر پر زور دیا کہ محمد علی جناح کا نظریہ برائے ریاست پاکستان کو عملی جامہ پہنایا جائے، جس سے ریاست اب دانستہ طور پر انحراف کرنے کی مرتکب ہوئی ہے۔
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر اس بیان پر ایل کے ایڈوانی کو اپنی ہی سیاسی جماعت میں انتہائی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندو قومیت پرست جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی نے عرصہ دراز تک محمد علی جناح کو ہندوستان کی تقسیم کا واحد ذمہ دار گردانا ہے اور اس تقسیم کو انتہائی غلط اقدام قرار دیتی آئی ہے۔ اسی بیان کی بنیاد پر ایل کے ایڈوانی کو جماعت کی سربراہی سے الگ ہونا پڑا۔
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر بھارتی سیاستدان، ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کے دورے کے موقع پر محمد علی جناح کو ایک عظیم رہنما گردانا اور کہا کہ ان کی پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے تقریر صحیح معنوں میں سیکولر نظریات کی حامی تھی، ہمیں ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ ایڈوانی کے اس بیان پر بھارت میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ان کے لیے سیاسی طور پر کئی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ ایڈوانی نے محمد علی جناح کے مزار پر یادگاری کتاب میں لکھا،
محمد علی جناح کی گیارہ اگست کی تقریر “دنیا میں کئی لوگ ہیں جو تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو دراصل تاریخ تخلیق کرتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح تاریخ تخلیق کرنے والے چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔ اپنی جدوجہد کے اوائل دور میں، سروجنی نیدو جو آزادی کی تحریک کی بانیوں میں سے تھی، جناح کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہتی ہیں۔ جناح کی پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے 11 اگست 1947ء کا خطاب بلاشبہ سیکولر نظریات کا ایک کلاسیکی اور پر زور اظہار ہے، جس کی رو سے ہر ایک شہری کو اپنے مذہب کے حساب سے زندگی گزارنے کا مکمل حق اور آزادی حاصل ہے۔ ریاست کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ شہریوں میں ان کے مذہب کی بنیاد پر تفریق کرے۔ اس شخص کو میری انتہائی مودبانہ سلامی قبول کی جائے۔“