Top 10 similar words or synonyms for گارے

پٹکا    0.741144

گھول    0.740124

lynch    0.732749

بارانسکی    0.729785

ورٹنن    0.725065

گلوریا    0.720053

کریسٹین    0.719357

calcific    0.718722

لوکی    0.718553

پاؤڈر    0.716951

Top 30 analogous words or synonyms for گارے

Article Example
بیونس آئرس مقامی افراد کی جانب سے پے در پے حملوں نے یہاں کے نو آباد افراد کو علاقہ چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا اور 1541ء تک یہ علاقہ غیر آباد ہو گیا۔ پھر 1580ء میں ہوان دی گارے نے دوسری (اور مستقل) نو آبادی بسائی۔
کلی ثقافت نندارہ کی اینٹیں بھی نال کی بڑی اینٹوں کے برابر ہیں۔ نال کے بعض کمروں میں سنگریزوں یا کنکروں سے جو آج کل ماربل چپس طرح گارے میں گوند کر فرش بنائے گئے ہیں۔ بعض کمروں کی چھت میں لکڑی کے جلے ہوئے شہتیروں کا ثبوت ملا ہے۔ سہرو دمب میں جو مٹی ملی ہے اس کا رنگ لال ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ شہر چلایا گیا ہے۔ سوہر کا مطلب لال ہے اور دمب بروہی میں ٹیلہ کو کہتے ہیں۔
علاقہ ٹمبکٹو شہر کا انحطاط مراکشیوں کے ہاتھوں فتع کے بعد ہوا۔ زیادہ تر مسلمان علما اور سائنسدان علاقہ چھوڑ گۓ اور علاقہ کی مشہور یونیورسٹی بھی اسے تباہی سے نہ بچا سکی۔ اہم تجارتی راستوں سے دور علاقہ، خزانوں سے بھرا ہوا شہر فرانسیسیوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن جب فرانسیسی 1815ء میں علاقہ میں پہنچے تو ریت کے ٹیلے اور مٹی گارے کے بنے مکانات دیکھ کر انہیں بہت مایوسی ہوئي۔ علاقہ کو فرانسیسی عہد میں دوبارہ ترقی دی گئی اور فرانسیسیوں نے اسے دوبارہ صحارہ سے تجارت کے لیے استعمال کیا۔
مشکل صخرہ یہودی روایات کیمطابق مشکل مصخرہ ایک ایسا جسد یا حراک ہے کہ جس کی تجسیم بطور انسنہ ایسے مادے یا مواد سے کی گئی ہو جو دراصل اسکی حقیقت نہ ہو۔ مثال کے طور مصنوعی طور پر ایک ایسا انسان تخلیق کرنا جو گوشت پوست کا نہ ہو مگر اس کی تخلیق کے بعد وہ ایک طاقتور انسان کی مانند ہوجائے۔ مثال کے طور مٹی، گارے یا پتھر سے کوئی شے تجسیم کرنا اور اس کو حراک بنانا۔ قرون وسطیٰ اور کتاب زبور میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے جس سے مراد کسی غیر مشکل مادے سے مشکل انسنہ تخلیق کرنا۔سب سے اہم روایات يهوذا بن لو بتسلئيل نے شامل کی ہیں۔ يهوذا بن لو بتسلئيل ایک یہودی ربی جو سولہویں صدی میں پراگ کا رہنے والا تھا ۔ بہت سی مختلف روایات موجود ہیں جن میں مشکل صخرہ کا حوالہ دیاگیاہے کہ کیسے انکو تخلیق کرکے انکی تنظیم کی گئی۔
مسجد نبوی مسجد نبوی جس جگہ قائم کی گئی وہ دراصل دو یتیموں کی زمین تھی۔ ورثاء اور سرپرست اسے ہدیہ کرنے پر بضد تھے اور اس بات کو اپنے لئے بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ ان کی زمین شرف قبولیت پا کر مدینہ منورہ کی پہلی مسجد بنانے کیلئے استعمال ہوجائے مگر محمدﷺ نے بلا معاوضہ وہ زمین قبول نہیں فرمایا، دس دینار قیمت طے پائی اور آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس جگہ پر مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ پتھروں کو گارے کے ساتھ چن دیا گیا۔ کھجور کی ٹہنیاں اور تنے چھت کےلیے استعمال ہوئے اور اس طرح سادگی اور وقار کے ساتھ مسجد کا کام مکمل ہوا۔ مسجد سے متصل ایک چبوترا بنایا گیا جو ایسے افراد کے لئے دار الاقامہ تھا جو دوردراز سے آئے تھے اور مدینہ منورہ میں ان کا اپنا گھر نہ تھا۔
الاخلاص ۵) ۔حضرت انس کا بیان ہے کہ خیبر کے کچھ یہودی رسول صلی اللہ و علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا ’اے ابو القاسمؐ! اللہ نے ملائکہ کو نورِ حجاب سے، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے ےسے، آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے رب کے متعلق بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے؟‘ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ و سلم نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جبرئیلؑ آئے اور انہوں نے کہا ’ اے محمد صلی اللہ و علیہ و سلم، ان سے کہئے کہ ہو اللہ احد۔
کلی ثقافت ان تمام شہروں کی تعمیرات میں عام طور پر پتھر کا استعمال ہوتا تھا ، البتہ پتھر کے استعمال میں کاریگری کی مہارت مختلف سطحوں پر نظر آتی ہے۔ کہیں پر مٹی کی دیواریں بنی ہیں۔ جن میں کھردرے بے ڈھب پتھر کے چھوٹے بڑے ٹکڑے بغیر کسی ترتیب کے جمادیئے گئے ہیں۔ کہیں باقیدہ گھڑ کر مربع شکل کی پتھر کی سلیں بنائی گئیں ہیں اور ان کی مٹی کے گارے کے ساتھ دیواروں کی چنائی کی گئی۔ پھر ان پر ردے جمانے میں جمالیاتی پہلوؤں کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ اکثر شہروں میں یہ پتھر دو دو میل دور سے لائے گئے۔ بعض دیواروں کی بنیادیں پتھر کی ہیں اور باقیدہ دیوار کچی اینٹوں سے بنی ہے۔ ان اینٹوں کا سائز 19 * 10 * 3 انچ ہے۔
وادی سندھ کی بندرگاہیں ستکاگن دڑو مکران کے علاقے میں ساحل سمندر سے تیس میل دور واقع ہے ۔ لیکن سندھ تہذیب کے زمانہ عروج میں جب یہ شہر آباد تھا تو یہ سمندر کے ساحل پر تھا ۔ بلکہ شاید سمندر کی کوئی شاخ اسے گھیرے ہوئے تھی ۔ جس کی وجہ سے جہاز رانی کے لئے قدرتی طور پر نہایت موزں تھا ۔ یہ سندھ تہذیب کی سب سے بڑی بندرگاہ تھی ۔ اصل شہر ایک قلعے میں واقع تھا ۔ جو شمالاً جنوباً 190 گز لمبا اور 113 گز چوڑا تھا ۔ قلعے کی بنیادیں تیس فٹ موٹی تھیں ۔ جو ادھ گھڑ پتھروں کو گارے میں جماکر بنائی گئی تھی ۔ دیوار اندر سے ڈھلوان تھی اور اس میں جگہ جگہ حفاظتی برج بنے ہوئے تھے ۔ اپنے زمانے میں دیوار کی اونچائی کم از کم پچیس فٹ ضرور ہوگی ۔ دروازہ نہایت تنگ تھا اور اس کے دونوں اطراف میں حفاظتی برج تھے ۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دروازے کے اندر اور باہر ہی عمارتیں تھیں ۔ جو یقناً محافظوں کی رہائش گاہیں یا چوکیاں ہوں گی ۔ قلعے سے باہر ایک نچلا شہر تھا ۔ اس میں سے جو ظروف برآمد ہوئے ہیں وہ کلی ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں ۔
انجیرہ سب سے قدیم آبادی کے آثار میں پتھر ، اینٹوں یا گارے سے بنے ہوئے مکانوں کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ جو کچھ ملا ہے وہ زیادہ تر راکھ اور راکھ ملی مٹی ملی ہے اور چند پتھر ہیں ۔ کچھ ایسا کچرا ہے جو کسی خانہ بدوش گروہ نے چھوڑا ہے ۔ لگتا ہے اس زمانے میں یہاں نیم خانہ بدوش لوگ ضرور قیام پزیر رہے ہیں ۔ جو درختوں کی شاخوں کو توڑ کر زمین میں گاڑ لیتے ہوں گے اور ان پر چٹائیوں کی چھت ڈالتے ہوں گے ۔ کچھ چاک پر بنے ہوئے زرد رنگ کے نفیس برتن بھی ملے ہیں ۔ اکثر ان پر لال پانی چڑھایا گیا ہے اور ان میں سے کوئی کوئی برتن انتہائی چمکیلا ہے ۔ ان میں سے اکثر بغیر کسی نقش یا تصویر کے ہیں ۔ لیکن اکا دکا نقوش سے بھی آرستہ ہیں ۔ پتھر کے اوزار وافر مقدار میں ملے ہیں ۔ ان میں آدھے چاند کی شکل کے اور چاقو جیسے بھی عمدہ اوزار بھی تھے ۔ جانوروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں ۔ جن میں کچھ بھیروں کی ہیں اور کچھ گائے بھینسوں کی ہیں ۔ ۔ انہی جانورں کی ہڈیوں سے بنی ہوئی رنبھی ، کانڈی ، سوا اور چھوٹے چھوٹے منکے بھی ملے ہیں ۔ انجیرہ کے حجری اوزاروں کی ایک اہمیت یہ بھی ہے یہ بہت زیادہ تعداد میں ملے ہیں ۔ یہ تمام کے تمام نہایت نفاست سے بنے ہوئے ہیں اور ان کا زمانی تعین کیا گیا ہے ۔ ان میں سے بعض ناقص عقیق کی قسم کے کسی پتھر سے بنے ہوئے ہیں ۔ یہ سب کہ سب چلکا اوزار ہیں اور چاقو کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان میں سے چودہ ایسے تھے جن پر کھرچائی رگرائی وغیرہ کی گئی ہے ۔ بارہ چاقو ایسے تھے جن کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ انہیں استعمال کیا گیا ہے ۔ ایک نصف چاند کا خوبصورت اوزار بھی ہے ۔ ایک جگہ پتھر کی بہت ساری کرچیاں اور کچھ پتھروں کے ٹکڑے اور چند ادھ گھڑ اوزار ملے ہیں ۔ یہ یقینا اوزاروں کی وکشاب تھی ۔ جس کا یہ کچرا ہے ۔ ان میں ہند سی اشکال نہیں ہیں ۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جدید حجری سامان ہے ۔ کرنل ڈی ایچ گورڈن نے ان اوزاروں کا معائنہ کرکے حتمی فیصلہ سے دیا کہ یہ بلا شک و شبہ جدید حجری اوزار ہیں ۔