Top 10 similar words or synonyms for کنگھی

افعی    0.729627

پھوٹتی    0.725717

چکرائے    0.710634

کاکل    0.710549

لٹی    0.708955

ٹھونک    0.699866

سیندور    0.695427

صراحی    0.692587

رنگنا    0.691936

جاگزیں    0.689744

Top 30 analogous words or synonyms for کنگھی

Article Example
مستحب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تو دائیں اعضاء سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے اور جب کنگھی کرتے تو دائیں جانب سے کنگھی کی ابتداء پسند فرماتے اور جب جوتی پہنتے تو دائیں پیر سے ابتداء کو پسند فرماتے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر،گردن اور بال آپﷺ کی کھوپڑی کمزور اور باریک نہ تھی بلکہ بھاری تھی،سر بڑا تھا (ذیادہ بڑا نہ تھا بلکہ جسم کے مناسبت سے)۔گردن لمبی تھی (جسم کی مناسبت سے)۔بال دونوں کانوں کے نصف تک ہوتے تھے،اور کبھی کبھی تو کانوں سے بھی نیچے ہوتے تھے اور کبھی کبھی دونوں کندھوں کو بھی چھوتے تھے۔چند بال پیشانی کے بھی سفید تھے مگر اتنے کم کہ سر اور داڑھی میں کل بیس بال سفید نہ تھے۔سر کے بال ذرا ذرا سے گھونگریالے تھے، آپ ﷺ ناغے سے سر اور داڑھی میں کنگھی فرماتے تھے۔اور سر کے درمیان سے مانگ نکالتے تھے۔
آغوش (یتیم خانہ) ادارے میں پانچ سال سے لے کر چودہ سال تک کے بچے رہائش پزیر ہیں۔ صبح بچے نماز کے وقت اٹھتے ہیں، باجماعت نماز کی ادائیگی کے بعد ناشتا اور اسکول کی تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں بچے اسکول جاتے ہیں جو عمارت سے ملحقہ ہے۔ یتیم بچے اٹک شہر کے ایک بہترین اسکول الحرا پبلک اسکول میں پڑھنے جاتے ہیں جہاں عام بچوں سے بھی ان کا میل جول ہوتا ہے۔ ہر بچے کو دوسرے روز کپڑے تبدیل کرائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر بچے کو تولیہ، صابن، ٹوتھ پیسٹ، کنگھی، تیل اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔
خط شانہ خط شانہ (pectinate line) کو خط مشط بھی کہا جاتا ہے اور یہ وہ خط یا مقام ہوتا ہے کہ جہاں مستقیم (rectum) ختم ہوتا ہے اور مقعد (anus) کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس تشریحی خط کے لیے استعمال کیے جانے والے دیگر ناموں میں خط دندانہ (dentate line)، خط مسنن (dentate line)، جلدی مقعد (anocutaneous line)، مستقیقی مقعدی اتصال (anorectal junction) اور مقعدی حتار (anal verge) شامل ہیں۔ اس خط کے مقام پر نسیج کی شکل ایک دندانہ دار یا کنگھے کی سی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اس کو خط شانہ کہا جاتا ہے، شانہ؛ کنگھی یا کنگھے کو کہتے ہیں ۔
جائے نماز جائے نمازمیں مسجد کے محراب کی طرح کا ڈیزائن ہوتا ہے۔بہت سے جائے نماز میں دنیا کی مساجد کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔زیادہ تر مشہور مساجد کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں جیسا کہ مکہ و مدینہ کی مساجد اور یروشلم کی مساجد وغیرہ ۔سجاوٹ اور ڈیزائنگ صرف منظر کشی میں ہی مدد نہیں کرتی بلکہ نمازی کی یاداشت میں اضافہ بھی کرتی ہے ۔ مثالوں میں سے ایک مثال کنگھی اور پانی کے گھڑے کی ہے جس میں نمازی کو یہ یاد دہانی کروائی جاتی ہے نماز پڑھنے سے پہلے وضو کرو اور سر کا مسح کرو۔ سجاوٹ کی ایک اور اہم مثال یہ ہے کہ جو نئے مسلمان ہوتے ہیں انکے لیے جائے نماز پر ہاتھ کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں کہ نماز پڑھتے ہوئے ہاتھ کہاں رکھنے ہیں۔
وفد کندہ یہ لوگ یمن کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس قبیلے کے ستّر یا اسی سوار بڑے ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ مدینہ آئے۔ خوب بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اور ریشمی سنجاف کے جبے پہنے ہوئے، ہتھیاروں سے سجے ہوئے مدینہ کی آبادی میں داخل ہوئے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت میں باریاب ہوئے تو آپ نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ سب نے عرض کیا کہ "جی ہاں" آپ نے فرمایا کہ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی لباس کیوں پہن رکھا ہے؟ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے جبوں کو بدن سے اتار دیا اور ریشمی سنجاف کو پھاڑ پھاڑ کر جبوں سے الگ کر دیا۔
عمر بن عبدالعزیز آپ کے والد نے آپ کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی۔ مشہور عالم اور محدث صالح بن کیسان کو آپ کا اتالیق مقرر کیا۔ اس دور کے دیگر اہل علم مثلاً حضرت انس بن مالک ، سائب بن یزید اور یوسف بن عبداللہ جیسے جلیل القدر صحابہ اور تابعین کے حلقہ ہائے درس میں شریک ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا اور قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم مکمل کرکے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اسی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ کی شخصیت ان تمام برائیوں سے پاک تھی جن میں بیشتر بنوامیہ مبتلا تھے۔ نگرانی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار عمر نماز میں شریک نہ ہوسکے استاد نے پوچھا تو آپ نے بتایا کہ میں اس وقت بالوں کو کنگھی کر رہا تھا استاد کو یہ جواب پسند نہ آیا اور فوراً والد والیٔ مصر سے شکایت لکھ دی وہاں سے ایک خاص آدمی انہیں سزا دینے کے لیے مدینہ آیا اور ان کے بال منڈا دئیے اور ان کے بعد ان سے بات چیت کی۔
کلالہ اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ حضرت عمر نے دوبارہ یہ سوال اپنی خلافت کے زمانے میں کیا تھا اور حدیث میں ہے کہ حضرت عمر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ کلالہ کا ورثہ کس طرح تقسیم ہو گا؟ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری لیکن چونکہ حضرت کی پوری تشفی نہ ہوئی تھی، اس لئے اپنی صاحبزادی زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ سے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی میں ہوں تو تم پوچھ لینا۔ چنانچہ حضرت حفصہ نے ایک روز ایسا ہی موقع پا کر دریافت کیا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے باپ نے تجھے اس کے پوچھنے کی ہدایت کی ہے میرا خیال ہے کہ وہ اسے معلوم نہ کر سکیں گے۔ حضرت عمر نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما دیا تو بس میں اب اسے جان ہی نہیں سکتا اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر کے حکم پر جب حضرت حفصہ نے سوال کیا تو آپ نے ایک کنگھے پر یہ آیت لکھوا دی، پھر فرمایا کیا عمر نے تم سے اس کے پوچھنے کو کہا تھا؟ میرا خیال ہے کہ وہ اسے ٹھیک ٹھاک نہ کر سکیں گے۔ کیا انہیں گرمی کی وہ آیت جو سورہ نساء میں ہے کافی نہیں؟ وہ آیت (وان کان رجل یورث کلالتہ) ہے پھر جب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو وہ آیت اتری جو سورہ نساء کے خاتمہ پر ہے اور کنگھی پھینک دی۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر نے صحابہ کو جمع کر کے کنگھے کے ایک ٹکڑے کو لے کر فرمایا میں کلالہ کے بارے میں آج ایسا فیصلہ کر دونگا کہ پردہ نشین عورتوں تک کو معلوم رہے، اسی وقت گھر میں سے ایک سانپ نکل آیا اور سب لوگ ادھر ادھر ہو گئے، پس آپ نے فرمایا اگر اللہ عزوجل کا ارادہ اس کام کو پورا کرنے کا ہوتا تو اسے پورا کر لینے دیتا۔ اس کی اسناد صحیح ہے،