Top 10 similar words or synonyms for کرڈالا

کروادیا    0.739200

کرادیا    0.703672

ناموسی    0.678233

غارت    0.676455

عمد    0.669953

وغارت    0.663067

ناحق    0.660110

کراکر    0.648037

ڈاکہ    0.644383

غارتگری    0.641115

Top 30 analogous words or synonyms for کرڈالا

Article Example
ملاعاشق شینواری آخرکار شاہ زمان کوپہانسی دے کر قتل کرڈالا.
محمد خان ڈهرنالی محمد خان نے بھائی کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین کا اک بندہ بھی قتل کرڈالا۔اور فرار ہوگیا۔ محمد خان کے فرار کے دوران اُس کا اک اور بھائی کومخالفین نے قتل کرڈالا۔
سید امیرماہ بہرائچی نواب سعادت علی خاں (1210فصلی) کے زمانہ میں ان لوگوں کی نصف معافیاں بھی ضبط ہوگئیں، اب مثل زمینداروں کے ان کی اولاد ہوگئی، وہ خالصہ بھی زیادہ تر بیع ورہن کرڈالا اور جو کچھ دیہات باقی رہے اس کو بخوف سنگینی جمع شامل تعلقہ ایکونہ وپیاگپور کردیا بالفعل چار چکیں مقصلۂ باقی ہیں ۔
ہن ٹورامن کا جانشین مہر کولا (مہر گل) (515ء؁ تا 544ء؁) حکمران بنا۔ یہ ایک طاقتور حکمران تھا اور چالیس ملکوں سے خراج وصول کرتا تھا۔ ہندی روایات میں اسے ایک ظالم حکمران بتایا گیا ہے کہ وہ بنی نوح انسان پر ظلم توڑتا تھا۔ اس نے اپنے ظلم کا مظاہرہ مقامی لوگوں کے قتل عام سے کیا۔ اس نے امن پسند بدھوں کو تہہ بالا کرڈالا اور نہایت بے رحیمی سے ان کی خانقاہوں اور اسٹوپوں کو تباہ و برباد کرڈالا۔ اس کے ظلم و ستم نے مقامی راجاؤں کو اس کے خلاف ایک متحدہ وفاق بنانے پر مجبور کردیا اور اسے قومی وفاق نے پہلے اسے بالادیتہ کی سردگی میں شکست دی اور اس کو بعد میں ۳۳۵ء؁ میں منڈسور کے راجہ یسودھرمن نے اسے مکمل شکست دی۔ اس کے بعد اس کی حکومت افغانستان تک محدود ہو کر رہے گئی۔ اس شکست کے بعد مہراکولا زیادہ دیر تک زندہ نہ رہا۔ (ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔ 178 تا 180)
بندہ بیراگی سکھوں کا فوجی قائد۔ اصل نام لچھمن دیو۔ قوم راجپوت ۔ راجوڑی علاقہ پونچھ کا باشندہ تھا۔ جوانی ہی میں بیراگی ہوگیا اور دریائے گودادری کے کنارے سکونت اختیار کی۔ گورو گوبند سنگھ دکن گئے تو ان کی ملاقات بیراگی سے ہوئی۔ انھوں نے اسے سکھوں کا فوجی رہنما مقرر کیا۔ بیراگی پنجاب میں چلا آیا اور سکھوں کی ایک زبردست جمعیت اکھٹی کرے مغلیہ علاقوں پر چھاپے مارنے لگا۔ سرہند ’’جمنا اور ستلج کے درمیان‘‘ کے علاقے کو تباہ و برباد کرڈالا۔ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔عورتوں کی بے حرمتی کی اور بچوں کا قتل عام کیا۔ اس نے سکھ مذہب میں ترمیم کرنا چاہی جس سے بہت سے سکھ اس سے علاحدہ ہوگئے ۔ آخر کار 1716ء میں فرخ سیر کے زمانے میں ، آٹھ سو ہمراہیوں سمیت پکڑا گیا۔ اور یہ سب لوگ قتل کر دیے گئے۔
ابومسلم خراسانی قحطبہ کے ہمراہیوں نے جب یہ سنا کہ نباتہ بن حنظلہ عظیم الشان لشکر شام کے ساتھ جرجان میں پہنچ گیا ہے تو وہ خوف زدہ ہوئے قحطبہ نے ان کوایک پرجوش خطبہ دیا او رکہا کہ امام ابراہیم نے پیشین گوئی کی ہے کہ تم لوگ ایک بڑی فوج کا مقابلہ کرکے اس پرفتح پاؤ گے، اس سے لشکریوں کے دل بڑھ گئے، آخر معرکہ کارزار گرم ہوا، نباتہ بن حنظلہ معہ دس ہزار آدمیوں کے مارا گیا، قحطبہ کوفتح عظیم حاصل ہوئی، اس نے نباتہ بن حنظلہ کا سرکاٹ کرابومسلم کے پاس بھیج دیا یہ لڑائی شروع ماہ ذی الحجہ سہ 247ھ میں ہوئی قحطبہ نے جرجان پرقبضہ کیا، تیس ہزار اہلِ جرجا کوقتل کرڈالا، شکست جرجان کے بعد نصر بن سیار حرار الرائے کی طرف چلا آیا وہاں کا امیرابوبکر عقیلی تھا، یزید بن عمرہبیرہ کوجب یہ حالت معلوم ہوئے تواس نے ایک بہت بڑا لشکر ابن غعلیف کی سرداری میں نصر بن سیار کی امداد کے لیے روانہ کیا۔
نزاریہ ملک شاہ کے بعد سلطان سنجر نے حسن بن صباح کا مقابلہ کیا۔ مگر حسن بن صباح نے نہایت چالاکی سے اسے صلح پر راضی کرلیا۔ اس کے بعد یہ ایران کے شہروں کے بعد رفتہ رفتہ شام کے بعض مقاموں میں بھی حسن کے ماننے والے پھیل گئے۔ حلب کے اسمعیلی والی رضوان نے صلیبی عیسائیوں سے دوستی کرلی اور فدائیوں کی ایک بڑی جماعت کو اپنے ساتھ لے کر مسلمانوں کو قاتل کرنا شروع کیا۔ لیکن رضوان کے مرنے کے بعد مسلمانوں کو پھر قوت حاصل ہوگئی اور انہوں نے اکثر فدائیوں کو قتل کرڈالا۔ اس کے بدلے میں فدائیوں نے خلیفہ بغداد کے بھرے دربار میں دمشق کے اتابک کے دھوکے میں والی خراسان پر حملہ کرکے اس کا کام تمام کردیا۔ اس طرح کئی صوبوں کے داعی مارے گئے۔ اب نزاریوں کا رعب تمام اسلامی دولتوں پر چھاگیا۔
ماسکو تاریخ کے صفحات میں ماسکو کا پہلا ذکر 1147ء میں ملتا ہے جب کیف کے شہزادے یوری دولگورفکی کی جانب سے نوگورود جمہوریہ کے شہزادے کو طلب کیا گیا۔ 9 سال بعد 1156ء میں یوری دولگورفکی نے شہر کے گرد لکڑی کی فصیل قائم کرنے کا حکم دیا جو بعد ازاں کئی مرتبہ تعمیر ہوئی۔ 1237ء اور 1238ء میں منگولوں نے شہر کو تباہ کرڈالا اور اسے نذر آتش کرنے کے بعد شہریوں کو قتل کردیا۔ ماسکو حالات سے نبرد آزما ہونے کے بعد 1327ء میں ایک مرتبہ پھر ابھرا اور آزاد سلطنت کا دارالحکومت قرار پایا۔ بعد ازاں ماسکو کئی سال تک ایک مستحکم اور کامیاب ریاست کی حیثیت سے ترقی پاتا رہا اور روس بھر سے ہزاروں مہاجرین یہاں آکر آباد ہوئے ۔
افراسیاب اسلامی مصنفین نے ان قومی روایات کے متعلق اپنی معلومات غیر مذہبی کتابوں بالمخصوص خودامی نامک (شاہنامہ) سے اخذ کیں ہیں۔ ان ہاں بہت سی معلومات ملتی ہیں۔ افراسیاب منش چہر سے طبرستان میں لڑا اور ہجران میں عہد و پیمان ہوگیا۔ جس کی رو سے دریائے بلخ (آمو، جیحوں) دونوں کے درمیان میں حد فاضل اختیار پایا۔ سیاوش جس کو کیکاؤس نے افراسیاب کے خلاف فوج دے کر بھیجا تھا اس سے صلح کر لی۔ جسے کیکاؤس نے تسلیم نہیں کیا، سیاوش نے افرسیاب کے ہاں پناہ لی۔ افرسیاب نے اپنی بیٹی وسفافرید شیاوش سے بیاہ دی۔ (الطبری، فردوسی۔ فرنگیں) پھر اسے بھی حسد کی بناء پر قتل کرڈالا۔ وسفافرید جس کے پیٹ میں کیخسرو تھا، بچ گئی اور مشہور پہلوان گیو (بی۔ داؤ) ایران لے گیا۔ پھر رستم اور توس نے سیاوش کے انتقام میں توران کی سرزمین پامال کردالی۔ کیخسرو کا عہد حکومت افراسیاب کے خلاف جنگوں سے معمور رہا۔ آخری لڑائی کے بعد افراسیاب بھاگ کر آذر بئیجان میں رپوش ہوگیا۔ لیکن کیخسرو نے اس اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔
مملوک ہلاکو خان کی قیادت میں منگولوں نے بغداد کو نیست و نابود کرنے کے بعد جب 1258ء میں دمشق پر قبضہ کیا تو دمشق سے فرار ہونے والے مملوکوں میں جنرل بیبرس بھی شامل تھا۔ وہ قاہرہ پہنچا اور جب ہلاکو خان نے سیف الدین قطز سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تو قطز اس کے سفیروں کو قتل کرکے بیبرس کی مدد سے افواج روانہ کیں۔ مونگی خان کی ہلاکت کے باعث ہلاکو خان فلسطین کی جانب بڑھتی ہوئی منگول افواج کی قیادت اپنے نائب کتبغا کو دے کر وطن روانہ ہوگیا۔ بعد ازاں مملوک اور منگول افواج کے درمیان فلسطین میں عین جالوت کے مقابلہ پر تاریخی معرکہ ہوا جس میں مملوکوں نے تاریخ کی فیصلہ کن فتح حاصل کی اور کتبغا کو گرفتار کرکے قتل کرڈالا۔ اس فتح کی بدولت مصر اور فلسطین منگولوں کے بڑھتے ہوئے طوفان سے بچ گئے۔ جنگ عین جالوت کو تاریخ کی فیصلہ کن ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شاندار کارنامہ انجام دینے کے بعد رکن الدین بیبرس قاہرہ واپس آیا اور قطز کی جگہ "ملک الظاہر" کے لقب سے مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوا۔