Top 10 similar words or synonyms for پٹیوں

تہوں    0.766258

رنگوں    0.748913

جزیروں    0.735495

پلیٹوں    0.729018

سیاروں    0.711310

سمندروں    0.703714

پرتوں    0.701512

سمتوں    0.692701

کمروں    0.689216

افقی    0.687410

Top 30 analogous words or synonyms for پٹیوں

Article Example
ترنگا مندرجہ ذیل پرچم تین پٹیوں والے ہیں لیکن ترنگے نہیں ہیں۔
شجرہ (زمین) گاؤں کا شجرہ پورے گاؤں کو زمین کی پٹیوں میں تقسیم کرتا ہے، ان تمام پٹیوں کو مختلف نمبر دیے جاتے ہیں۔ گاؤں کا پٹواری ہر پٹی کے لیے ایک خسرہ بھی رکھتا ہے جس میں متعلقہ پٹی کے مالک کا نام اور اگائی جانے والی فصل کا اندراج کیا جاتا ہے۔
شجرہ (زمین) شجرہ (زمینوں کے سیاق میں) بھارت اور پاکستان میں کسی گاؤں کے اُس نقشے کو کہتے ہیں جسے گاؤں کے کھیتوں یا دوسری زمینوں کی پٹیوں کے قانونی مالکان اور حکومتی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
مشتری مشتری کا زیادہ تر حصہ ہائیڈروجن سے بنا ہے جبکہ ایک چوتھائی حصہ ہیلیئم پر بھی مشتمل ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے مرکزے میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہوں۔ تیز محوری حرکت کی وجہ سے مشتری کی شکل بیضوی سی ہے۔ بیرونی فضاء مختلف پٹیوں پر مشتمل ہے۔ انہی پٹیوں کے سنگم پر طوفان جنم لیتے ہیں۔ عظیم سرخ دھبہ نامی بہت بڑا طوفان سترہویں صدی سے دوربین کی ایجاد کے بعد سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ مشتری کے گرد معمولی سا دائروی نظام بھی موجود ہے اور اس کا مقناطیسی میدان کافی طاقتور ہے۔
بسیط متداخل ارنا بسیط متداخل ارنا ایک ایسے ارنا (RNA) کو کہا جاتا ہے جو دو پٹیوں والا یا ذوطاقین ہوتا ہے یعنی کہ دنا (DNA) کی طرح سے دو پٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور جسامت میں چھوٹا (20 تا 25 مرثالثہ) ہوتا ہے۔ اسے انگریزی میں Small interfering RNA کہتے ہیں اور اسکا اختصار انگریزی میں siRNA اور اردو میں بم ارنا کیا جاتا ہے بم کا لاحقہ انگریزی اختصار کے اصول کے مطابق ہی بسیط سے ب اور متداخل سے م لیکر بنایا جاتا ہے۔
پرچم ایران ایران کا موجودہ پرچم 29 جولائی 1980ء کو اپنایا گیا۔ جو ایرانی اسلامی انقلاب سے آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔یہ افقی سبز، سفید اور سرخ تین برابر پٹیوں پر مشتمل ترنگا ہے۔ سبز اور سرخ پٹی کے وہ کنارے جو سفید پٹی سے ملتے ہیں، ان پر 22 بار اللہ اکبر سفید رنگ سے، خط کوفی میں لکھا ہوا ہے۔
لفاف ملف پہلی قسم جو سب سے زیادہ مستعمل ہے ایک موٹے اور انتہائی مضبوط گتے سے بنائی جاتی ہے۔ اس کی پشت پر اصل یا مصنوعی چمڑے کی دو پٹیاں جڑی ہوتی ہیں جو گتے کی لمبی اطراف سے اوپر کو مڑ کر ایک دوسرے کے اوپر آ جاتی ہیں۔ ان پٹیوں پر ان کے افقی وسط کے ساتھ ساتھ ایک ایک مضبوط دھاگہ بھی موجود ہوتا ہے جو صرف اپنے پہلے سرے سے پٹی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ دستاویزات کو گتے کے اوپر پٹیوں کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ پٹیوں کو دستاویزات کے اوپر اور ایک دوسرے پر (جہاں تک ممکن ہو سکے) رکھا جاتا ہے اور ان کے اوپر دونوں دھاگوں سے مضبوط گرہ لگا دی جاتی ہے۔ مسل کی یہ شکل تمام رائج طرائق کی بنسبت سب سے زیادہ تعداد میں کاغذات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ اس کے استعمال سے کاغذات میں کوئی طبعی تبدیلی (یعنی سوراخ وغیرہ) نہیں کرنی پڑتی اس لیے انہیں اصلی حالت میں دیر تک برقرار رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ چمڑے کی پٹیاں کاغذات کو دھاگوں کے نقصان دہ دباؤ سے محفوظ رکھتی ہیں جس سے ان کے پھٹنے کا اندیشہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
کوسٹاریکا 2012 میں کوسٹاریکا میں متوقع افراط زر 4.5% تھی۔ 2006 میں مبادلہ زر کا ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا جس سے کولون کی قدر دو پٹیوں کے بیچ میں ہی گردش کر سکے گی۔ اس نظام کا مقصد مرکزی بینک کو افراط زر پر قابو پانے میں مدد دینا اور امریکی ڈالر کے استعمال کو روکنا تھا۔ البتہ اس سب کے باوجود کولون ،امریکی ڈالر کے مقابلہ میں اگست 2009 تک 2006 کے مقابلہ میں اپنی 86 فیصد قدر کھو چکاتھا۔
صوتی کتاب کئی صدیوں تک کتابیں صرف کاغذپر چھاپ کر شائع کی جاتی تھیں،لیکن آج نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتابیں روایتی کاغذی اشاعت کے ساتھ ساتھ ای بک اور صوتی کتاب کی شکل میں بھی شائع کی جاتی ہیں۔انیسویں صدی کے اختتام پر جب ایڈیسن نے فونوگراف ایجاد کیا تو اس کے بعد مقناطیسی پٹیوں پر آواز کو محفوط کرنے کی سہولت میسر آ گئی۔
ٹائیگر شارک ٹائیگر شارک ریکویم شارک (requiem shark) کی ایک نوع اور گیلیو سرڈو(Galeocerdo) جنس میں تنہا موجود جاندار ہے۔ عام طور پر یہ سمندری ٹائیگر کے نام سے جانی جاتی ہے۔ٹائیگر شارک جسمانی طور پر ایک بڑے حجم کی حامل شارک ہے جس کی لمبائی ٥ میٹر یعنی ١٦ فیٹ ٦ انچ تک ہو سکتی ہے .یہ شارک عموماً استوائی اور معتدل آبی خطوں میں اور خصوصاً بحر الکاہل کے وسط میں واقع جزیروں کے قریب بکثرت پائی جاتی ہے۔اسکا نام ٹائیگر اسکے جسم کے زیریں حصے پر موجود گہری پٹیوں کی وجہ سے پڑا ہے جس کا رنگ شارک کے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ پھیکا پڑتا جاتا ہے ۔