Top 10 similar words or synonyms for پرچھائیاں

ماہیا    0.726201

سسکنے    0.684448

بھاما    0.676346

شرمیلی    0.670800

متھن    0.670200

مثنویات    0.669194

برجستگی    0.667885

تھرلر    0.664951

ترانۂ    0.664920

سلفائڈ    0.661644

Top 30 analogous words or synonyms for پرچھائیاں

Article Example
حسرت موہانی کی شاعری حسرت موہانی کی شاعری کا لہجہ صحت مندانہ ہے ان کے لہجی میںخلوص اور صداقت کی پرچھائیاں موجود ہیں مثلاً
رفیف زیادہ اس کی ایک نظم " غصے کی پرچھائیاں " ایک مشہور نظم ہے جو اس نے اپنے کینیڈا یونیورسٹی میں ایک طالب علم کے نفرت انگیز رویے کے خلاف لکھی۔
طلعت حسین (اداکار) راحت کاظمی جو خود بھی ان تمام شعبوں سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں جو طلعت حسین کی دلچسپی کے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ڈراما ’پرچھائیاں‘ میں انھوں نے ایسی اداکاری کی کہ کراچی کے ایک علاقے میں ان کی پٹائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔
پاکستانی غزل ان کا تعلق ترقی پسندوں سے رہا۔ ان کی شہرت کا سبب ان کی غزلیں اور گیت ہیں۔ ان کی غزلوں میں ترنم او ر موسیقیت کا شعور ی انتظام موجود ہے ۔ محبت رومان ، قتیل کی غزل کی بنیاد ہے۔ ایسی محبت جس میں سرور و لطافت کی پرچھائیاں زیادہ ہیں دکھ اور مایوسی کم ہے ۔ جب کے ترقی پسند سوچ کے حوالے سے بھی ان کے ہاں اشعار کثرت سے ملتے ہیں:
افسر میرٹھی افسر میرٹھی (پیدائش: 1898ء - وفات: 1958ء) اردو کے نامور شاعر تھے۔ وہ 1898ء میں میرٹھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معزز مفتی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ انہوں نے میرٹھ کالج سے بی اے کیا اور کچھ مدت اخبار نویسی کی پھر گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنو میں لیکچرار ہوگئے۔ وہ تمام اصناف سخن پر قادر تھے۔ ابتدا میں غزلیں کہیں، پھر نظم اور گیت لکھے۔ غزلوں اور نظموں کے دو مجموعے جوئے رواں اور پیام روح شائع ہوچکے ہیں۔ مختصر افسانوں کے مجموعے ڈالی کا جوگ اور پرچھائیاں ہیں۔ نورس تنقیدی مقالات کا مجموعہ اور نقدالاداب فن تنقید پر ایک مسبوط کتاب ہے۔ انہوں نے 1958ء میں وفات پائی۔
رے چارلس گلوکار اور پیانو نواز۔ امریکا میں موسیقی کی ایک عہد ساز شخصیت۔ ایک غریب سیاہ فام گھرانے میں پیدا ہوئے۔رے ان ہستیوں میں شامل تھے جن کی گزری زندگی کی پرچھائیاں موسیقی میں مدتوں محسوس کی جاتی رہیں گی۔ رے کی زندگی غربت، جدو جہد، محرومی اور کامیابی کی ایک داستان ہے۔ وہ چھ برس کی عمر میں بصارت سے محروم ہوگئے مگر شاید اس محرومی نے ان کی تخلیقی قوتوں کو اور جلا بخشی اور انہوں نے جاز، روک اینڈ رول ، اور گوسپل (روحانی موسیقی) میں عروج حاصل کیا۔ سیاہ فام رے کو ان کی خدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے ’جینئیس‘ کہا جاتا تھا۔ رے ایک فنکار نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے اور انھیں عہدِ جدید کی موسیقی کی دنیا کی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
راجہ مہدی علی خان تقسیم ہند کے بعد راجہ مہدی علی نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ 1950 میں راجہ مہدی موسیقار مدن موہن سے ملاقات ہوئی۔ اس کے نتیجے میں "آنکھیں" فلم کے دھن بنائے۔ حالانکہ راجہ مہدی نے کئی موسیقی کے ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا جن میں خاص طور پر "شہید" (1948) کے لئے غلام حیدر کے ساتھ اور "ایک مسافر ایک حسینہ" (1962) کے لئے او پی نیر ساتھ شامل ہیں۔ مگرسب سے بہترین ساجھے داری مہدی کی مدن موہن کے ساتھ تھی۔ دونوں نے مل کر سے "مدہوش" (1950)، "اَن پَڑھ" (1962)، " آپ کی پرچھائیاں" (1964)، "وہ کون تھی " (1964)، "دلہن ایک رات کی" (1966) اور "میرا سایہ" (1966) جیسی فلموں کے لئے کچھ یادگار موسیقی تخلیق کی۔
سرحد کا افسانہ جدید نسل کا اہم ترین نام ام عمارہ ہے۔ ان کے دو افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ اور ”آگہی کے ویرانے “ اور ”درد روش “ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ زندگی کی حقیقتیں ام عمارہ کے ہاں مختلف روپ بدلتی ہوئی ظاہر ہوتی ہیں۔ چونکہ اس کا تعلق بنگلہ دیش سے رہا ہے اور وہاں سے ہجرت کرکے صوبہ سرحد آئی ہے۔ اس لیے ان کے افسانوں میں وہاں کے ماحول اور خاص قسم کے مسائل کی پرچھائیاں موجود ہیں۔ لہٰذا ہجرت کا دکھ ان کے افسانوں میں نظرآتا ہے۔ او ر ان مظالم کی تصویریں بھی ان کے افسانوں میں نظرآتی ہیں۔ جو بنگالیوں نے بہاریوں پر کئے تھے ۔ ان کے افسانوں میں ”کوئلہ بھٹی نہ راکھ “ ، ”’ یہ کناہ بے گناہی “ ، ” کس نے کس کو اپنایا“ ، ” کروٹ “ اور ”زندگی کا زہر“ انہی تصورات کی روشنی میں تشکیل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بنگالی ماحول کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماحوال اور ان کے مسائل کی طرف بھی رخ پھیرا ہے۔ اور جہاں انسانیت ماتم کرتی ہے اور بھوک روتی ہے اور بلبلاتی ہے وہیں ان کے افسانے بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی کہانی بھی وہاں سفر کرتی ہے۔ اس طرح ان کے افسانوں پر ترقی پسندانہ سوچ کے اثرات موجود ہیں۔
قمر الزمان اعظمى آپ کی شاعری کا مجموعہ ’’خیابانِ مدحت‘‘ کے نام سے مکتبۂ طیبہ، سنی دعوتِ اسلامی ممبئی کے زیراہتمام 2007ء میں طبع ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہو چکا ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں حمد و مناجات، نعت و سلام اور مناقب و منظومات شامل ہیں۔ 104؍ صفحات پر مشتمل یہ مجموعۂ کلام علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب کی وارداتِ قلبی کا اظہاریہ ہے۔ اس میں شامل کلام میں شعر کی تینوں خصوصیات سادگی، اصلیت اور جوش بہ درجۂ اتم موجود ہیں۔ جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ شاعرِ محترم کی فکر و نظر میں وسعت اور بانکپن ہے، اور یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ علامہ قمر الزماں اعظمی صاحب نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اظہار و بیان کے لیے اپنی شاعری کو محض عقیدت و محبت کا آئینہ دار نہیں بنا یا ہے بل کہ آپ کے کلام میں شعری و فنی محاسن کی تہہ داریت ہے جو بڑی پُر کشش اور دل آویز ہے۔ آپ کے شعروں میں داخلیت کا حسن اور خارجیت کا پھیلا و دونوں موجود ہے۔ لفظیات میں تنوع اور بلا کی گہرائی و گیرائی ہے، آپ کا سلیقۂ بیان عمدہ اور دل نشین ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا نظر آتا ہے۔ عقیدت و محبت کے ساتھ شعریت اور فنی محاسن کی سطح پر بھی آپ کے کلام میں ایک سچی اور باکمال شاعری کی جو خوب صورت پرچھائیاں ابھرتی ہیں وہ متاثر کن اور بصیرت نواز ہیں۔
سرحد کا افسانہ اردو ادب کی پرچھائیاں برصغیر پاک وہند کے دوسرے علاقوں کی نسبت سرحد میں ذرا دیر سے پڑیں ۔ اس کی وجوہات میں یقینا مقامی زبانوں پر توجہ ، پس ماندگی اور تعلیم کی کمی شامل ہے۔ تعلیم کی ترقی کے ساتھ ہی یہاں اردو زبان کی ترقی کی طرف توجہ شروع ہو گئی۔ 1903ءمیں بزم سخن کی نبیادرکھنے1913ءمیں اسلامیہ کالج کے آغاز اور دوسری علمی ، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے باعث یہاں کے اہل علم و ادب اردو کی طرف رجوع کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ارد و کی ادبی نثر کاآغاز 1900کے بعد ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہاں اردو کی ادبی نثر کا سراغ نہیں ملتا۔ 1900ءسے پہلے کے نثر ی نمونوں میں پیرروخان کی کتاب ”خیرالبیان “ کے کچھ حصے یہاں کے اخبارات ، کابل کی ڈائری، تاریخ ِ ہزارہ و تاریخِ ڈی آئی خان اور تاریخ چترال شامل ہیں ۔ لیکن اس میں اردو ادب یا اردو کی ادبی نثر کا سلسلہ مفقود ہے۔ لہذایہ بات وثو ق سے کہی جاسکتی ہے کہ ارد و کی ادبی نثر کا آغاز 1900ءکے بعد ہی ہوتا ہے۔