Top 10 similar words or synonyms for وجیہ

حسام    0.816766

علاء    0.803595

برہان    0.800227

موفق    0.791004

عماد    0.779849

علاؤ    0.772709

بہاء    0.766657

نجم    0.757113

محی    0.757104

غیاث    0.753830

Top 30 analogous words or synonyms for وجیہ

Article Example
وجیہ اللہ سبحانی وجیہہ اللہ سبحانی کی ابتدائی تعلیم شاہ گنج کے ایک سرکاری اسکول میں ہوئی، 1986ء میں مدرسہ دار العلوم النعمانیہ میں بغرض حفظ قرآن داخل کروایا۔ 1989ء میں حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ جامعہ نظامیہ میں مولوی اول میں 1990-91ء میں داخلہ ہوا۔ کامل الفقہ بدرجہ امتیازی کامیاب ہونے پر جامعہ نظامیہ کی جانب سے طلائی تمغا (گولڈ میڈل) موسوم بہ محدث دکن ابوالحسنات عطا کیا گیا۔ دوران میں تعلیم ہی ایس ایس سی کا امتحان بدرجہ اول کامیاب کیا۔ اس کے بعد اردو آرٹس ایوننگ کالج سے انٹر وڈگری وغیرہ کی تکمیل ہوئی۔
وجیہ اللہ سبحانی آپ کو پیر و مرشد سید شاہ دستگیر علی قادری جو ان کے دادا بھی ہیں نے سید شاہ قدرت اللہ قادری کےعرس کے موقع پر خلعت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔
وجیہ اللہ سبحانی مفتی حافظ محمد وجیہہ اللہ سبحانی وجیہہ /6 مارچ 1976ء ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد کا نام شاہ قاضی محمد عطاء اللہ جو مفسردکن سے مشہور ہیں۔
شیخ وجیہ الرب شیخ وجیہ الرب فتاویٰ عالمگیری کی مجلس مؤلفین کےحصہ دارتھے
سید وجیہ السیما عرفانی آپ نے نوعمری ہی میں نو ماہ کی قلیل مدت میں قرآن پاک حفظ کر لیا اور اس کے بعد درس نظامی کا کورس مکمل کیا۔ اس کے بعداسکول اور کالج کی تعلیم مکمل کی شروع میں باقاعدہ بیعت نہیں لیا کرتے تھے۔ 13 مارچ1977ءکو سیّد تلطف حسین معینی (جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی اولاد سے تھے) شملہ پہاڑی پر تشریف لائے اور بابا حضور کو اپنی موجودگی میں باقاعدہ بیعت کا سلسلہ شروع کروایا۔آپ صرف چشتیہ سلسلہ میں ہی بیعت لیتے ہیں۔آپ کو قرآن حکیم کے علاوہ تمام مجموعات احادیث زبانی یاد تھیں اور اس کے علاوہ بابا حضور کو سعدی، مولانا جامی، حافظ شیرازی اور علامہ اقبال کے تمام مجموعات یہاں تک کہ دور جاہلیت کے شعراءمثلاً امراءالقیس کا کلام بھی زبانی یاد تھا۔سرکار بابا حضور ؒ کو عربی ، فارسی اور انگریزی پر عبور حاصل تھا۔ یعنی جس طرح روانی سے وہ یہ زبانیں بولتے تھے اُسی روانی سے لکھا بھی کرتے تھے۔
شیخ وجیہ الرب ان کے حالات زندگی اس کے سوا اور نہیں ملتے کہ یہ اس مجلس کے رکن تھے جو فتاویٰ عالمگیری کے مؤلفین تھے جو مولوی معنوی شیخ محمد شفیع کو جو سند میں اس میں ان کا ذکر ہے جس میں انہیں اس کا حصہ دار بتایا گیاانہیں دربار شاہی سے وظیفہ ملنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
وجیہ اللہ سبحانی ہے۔چند مثالیں پیش ہیں۔
سید وجیہ السیما عرفانی سیّد محمد وجیہ السیما عرفانی چشتی کا وصال 22فروری 1991ء بمطابق 6شعبان المعظم 1411ھ بروز جمعة المبارک ہوا۔آپ لاہور کے قریب ایک قصبہ سندر شریف 32کلومیٹر ملتان روڈ لاہور میں مدفون ہیں۔
شیخ وجیہ الدین گوپاموی شیخ وجیہ الدین گوپامویفتاویٰ عالمگیری کی مجلس مؤلفین کےحصہ دار اورفتاویٰ کے ایک ربع کی تالیف کے ذمہ دار تھے
شیخ وجیہ الدین گوپاموی 1005ھ میں گوپامو ضلع ہردوئی میں پیدا ہوئے ان کے والد شیخ عیسیٰ محدث فقیہ اور صوفی تھے انہوں نے پہلے اپنے والد اور پھر اپنے نانا شیخ جعفر بندگی انبیٹھوی سے تعلیم پائیشاہجہاں کے زمانے میں دہلیآئے اور شہزادہدارا شکوہمعلم مقرر ہوئے اورنگزیب کے ابتدائی زمانے میں گوپامو چلے گئے اور گوشہ نشین ہو گئے1077ھ میں دوبارہ دہلی بلائے گئے اورمؤلفین فتاویٰ میں شامل ہوئے 78سال کی عمر پائی 1082ھ میں وفات پائی اور گوپامو میں مدفون ہوئے۔۔