Top 10 similar words or synonyms for ندامت

حرص    0.580024

ولاد    0.579333

جھلس    0.572639

اپنائیت    0.570846

بیتاب    0.565928

مایوسی    0.565790

دفتھیریا    0.565536

کنگھی    0.561263

دلیرانہ    0.551726

پریشانی    0.550126

Top 30 analogous words or synonyms for ندامت

Article Example
کھوار روزمرہ اور محاورہ 5) ‘‘غیچہ نسیک ’’۔(آنکھ میں نکلنا ) مطلب ہضم نہ ہونا، باعث ندامت ہونا ۔
کعب بن زہیر کعب نے کہا یا رسول اللہ میں نے اس طرح نہیں کہا تھا،فرمایا پھر کس طرح انہوں نے "مامور" کے لفظ کو "مامون" کے لفظ سے بدل کر سنادیا،رحمتِ عالمﷺ کے دربار میں اس قدر اظہار ندامت کافی تھا، آپ نے کعب کی گذشتہ خطاؤں سے درگزر فرمایا اور ارشاد ہوا ،تم مامون ہو،پھر کعب نے اپنا مشہور و معروف قصیدہ بانت سعاد سنایا،جو اسی وقت کے لیے کہہ کر لائے تھے۔
عبداللہ بن عمر ابن عمرسلمانوں کے امام اور مشہور فقہاء میں سے تھے۔ بے حد محتاط تھے اور فتویٰ میں اپنے نفس کی خواہشات کے مقابلہ میں اپنے دین کی زیادہ حفاظت کرنے والے تھے۔ باوجود یہ کہ اہل شام ان کی طرف مائل تھے اور ان سے اہل شام کو محبت تھی۔ انہوں نے خلافت کے لیے جنگ چھوڑ دی اور فتنوں کے زمانہ میں کسی مقابلہ میں جنگ نہیں کی۔ حضرت علیؓ کی مشکلات کے زمانہ میں بھی علی کے ساتھ جنگ میں شرکت نہیں کی۔ اگرچہ اس کے بعد وہ حضرت علیؓ کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہونے پر ندامت کا اظہار کرتے تھے۔
پاکستان قونصلیٹ بریڈفورڈ بریڈفورڈ قونصلیٹ کی موجودہ عمارت لیڈز روڈ کے علاقے لیسٹر ڈائک میں ایک پرانی اور انتہائی خستہ حال عمارت میں ہے۔ یہ عمارت دراصل پرانے وقتوں میں ایک مل تھی۔ جب پاکستان قونصلیٹ کی عمارت مل میں منتقل ہوئی تو یہ پاکستانیوں کے لئے باعث ندامت تھی چونکہ عمارت انتہائی خراب حالت میں تھی، اندرونی کیفیت کا عالم یہ تھا کہ فرش پر گندے لکڑی کے تختے تھے۔ عمارت رنگ و روغں سے بھی محروم تھی اور مہمانوں اور کسٹمرز کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں تک نہ تھی۔
عائشہ بنت ابی بکر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن اُبی کا یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ نے لشکر کے کوچ کا حکم دیا اور اُسی وقت مریسیع سے روانہ ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارِ مدینہ کو جمع کرکے اِس واقعہ کی اطلاع دی گو کہ وہ اِس جرم میں شریک نہ تھے مگر اُن کو ندامت ہوئی اور عبداللہ بن اُبی کی نسبت اُن میں نفرت سی پیدا ہوگئی۔ خود اُس کے بیٹے نے جب یہ سنا تو اُس نے باپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہا: میں اُس وقت تک تجھے نہ چھوڑوں گا جب تک تو یہ اقرار نہ کرلے کہ تو ہی ذلیل ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) عزت والے ہیں۔
محمد علی جناح بھارتی وزیر اعظم نہرو نے جناح کی وفات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،"ہمیں انہیں کیسے پرکھنا چاہئے؟ میں پچھلے کئی سالوں کے دوران میں ان پر سخت غصہ رہا تھا۔لیکن اب میرے خیالوں میں ان کے لئے کوئی کڑواہٹ باقی نہی رہی،لیکن جو کچھ ہونے پر بڑی ندامت کے سوا۔۔وہ اپنے مطالبے کو حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرا، لیکن کس قیمت پر اور کس اختلاف سے جو کچھ اس نے سوچا تھا"۔ جناح کو 12 ستمبر 1948ء کو دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان میں سرکاری سوگ کے درمیان میں دفنا دیا گیا۔ ان کے جنازے پر لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ بھارت کے گورنر جنرل راجہ گوپال اچاری نے اس دن ایک سرکاری تقریب کو اس مرحوم قائد کے اعزاز میں منسوخ کیا۔آج جناح کراچی میں سنگ مرمر کے ایک مقبرے مزار قائد میں آسودہ خاک ہیں۔
طفیل بن عمرو دوسی عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ایک بارعمرو بن طفیل ان کی خدمت میں باریا ب ہوئے۔ اسی وقت عمر کے لیے کھانا لایا گیا۔ مجلس میں کچھ اور لوگ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سب کو کھانے کے لیے بلایا مگر عمرو بن طفیل کھانے میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ کنارے ہٹ گئے تھے۔ عمر نے ان سے پوچھا کہ کیابات ہے تم کھانے میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟شاید تم اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پر ندامت محسوس کر رہے ہو اور کھانے میں شریک ہونے سے جھجکتے ہو۔ انہوں نے کہا جی ہاں امیر المومنین یہ سن کر عمر نے کہا کہ " خدا کی قسم جب تک تم اپنا کٹا ہوا ہاتھ اس کھانے میں نہیں ڈالوگے میں اس کوچکھ نہیں سکتا۔ خدا کی قسم اہل مجلس میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جس کا کوئی عضو جنت میں داخل ہو"۔
الفجر پھر کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا اور وہ اس روز ہوگا جب اللہ تعالٰی کی عدالت قائم ہوگی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں کی سمجھ میں وہ بات آ جائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں مان رہے ہیں، مگر اس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ منکر انسان ہاتھ ملتا ہی رہ جائے گا کہ کاش میں نے دنیا میں اِس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگڑ یہ ندامت اسے خدا کی سزا سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں سے دنیا میں پورے اطمینان قلب کے ساتھ اس حق کو قبول کر لیا ہوگا جسے آسمانی صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے، خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا کے عطا کردہ اجر سے راضی ہوں گے، انہیں دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے رب کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوں اور جنت میں داخل ہو جائیں۔
البم اس شدید رغبت نے صنوبر حسین کوبحیثیت انسان ابھرنے نہیں دیا ۔ یہ درست ہے کہ ”کاکا جی “ پیار و محبت ، گفتارو کردار کے غازی تھے۔ عالم فاضل تھے۔ حریت پسند تھے ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک انسان بھی تھے اور اس میں چند بشری کمزوریاں بھی ہوں گی۔ جن کا شائبہ تک اس خاکے میں موجود نہیں ۔ صنوبر کاکا جی کاخاکہ بنا کر اُن کے دلچسپ مشاغل کا ذکر کرتے ہوئے خاکہ نگاری کے اسلوب میں ہلکے ہلکے مزاح کی چاشنی کو سمویا گیا ہے۔ صنوبر کاکاجی رباب سے عشق رکھتے تھے۔ اور جب جیل جاتے تو رباب ساتھ لے جاتے۔ رہا ہوتے وقت رباب جیل میں چھوڑ آتے کہ روز روز کون ساتھ لائے ۔ اسی طرح اُن کی شخصیت کی عظمت کو اجاگر کرنے کے ليے جن نمائندہ واقعات کا سہارا لیا گیا ہے۔ وہ نہایت برمحل اور برجستہ ہے۔ مثلاً صنوبر کاکاجی جب کسی کی غلطی کی نشاندہی کرتے توسامنے والے کو شرمندہ نہ کرتے بلکہ ندامت سے بچانے کے ليے بات یوں بناتے۔
الواقعہ اس کی تائید اس قصہ سے بھی ہوتی ہے جو حضرت عمر فاروق کے ایمان لانے کے بارے میں ابن ہشام نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ اس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب حضرت عمر اپنی بہن کے گھر میں داخل ہوئے تو سورۂ طٰہٰ پڑھی جا رہی تھی۔ ان کی آہٹ سن کر ان لوگوں نے قرآن کے اوراق چھپا لیے۔ حضرت عمر پہلے تو بہنوئی پر پل پڑے اور جب بہن ان کو بچانے آئیں تو ان کو بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ بہن کا خون بہتے دیکھ کر حضرت عمر کو سخت ندامت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ، اچھا مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جسے تم نے چھپا لیا ہے دیکھوں تو سہی اس میں کیا لکھا ہے۔ بہن نے کہا "آپ اپنے شرک کی وجہ سے نجس ہیں، و انه لا یمسھا الا الطاھر" اس صحیفے کو صرف طاہر آدمی ہی ہاتھ لگا سکتا ہے۔" چنانچہ حضرت عمر نے اٹھ کر غسل کیا اور پھر اس صحیفے کو لے کر پڑھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت سورۂ واقعہ نازل ہو چکی تھی کیونکہ اس میں آیت "لا یمسه الا المطھرون" وارد ہوئی تھی۔ اور یہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عمر ہجرت حبشہ کے بعد سن 5 نبوی میں ایمان لائے ہیں۔