Top 10 similar words or synonyms for نبطی

NotFoundError    0.789

Top 30 analogous words or synonyms for نبطی

Article Example
فونیقی جہاںفونیقی قوم کا یہ رسم الخط قدیم آرامی،نبطی، عربی، یونانی، قدیم لاطینی اور ماڈرن رومن زبانوں میں پہنچ کر تبدیل ہوتا گیا۔ وہاں اُن اقوام نے بھی اپنے رسم الخط میں تبدیلی پیدا کی جو تصویری و علامتی رسم الخط استعمال کرتے تھے، مثلاً میسو پوٹیمیا کے سمیری، عکادی اور مصر کے ہائروگلفس رسم الخط۔
فونیقی فونیقیوں کا بنایا ہوا ابجدی رسم الخط اور اس کے حروف تہجی اتنے سہل اور آسان فہم تھےکہ دنیا بھر کی مختلف اقوام نے اسے اپنایا۔ میسوپوٹیمیا کے آرامی، یورپ کے یونانی اور رومی، مشرق وسطیٰ کے عبرانی، عربی، ثمودی، نبطی، افریقہ کے حبشی اور ہندوستان کے برہمی، رسم الخط فونیقیوں سے ہی حاصل کردہ ہیں۔
خط کوفی خط کوفی ایک قدیم عربی رسم الخط ہے جو آغاز اسلام کے دور میں عراق کے شہر کوفہ میں پروان چڑھا۔ خط کوفی دراصل خط نبطی، خط سطرنجیلی، خط حمیری اور خط حیرہ کی آمیزش اور ترقی یافتہ صورت تھی۔ دوسرے مقامات کے علاوہ یہ خط حجاز اور حیرہ (کوفہ کا پرانا نام) میں بھی لکھا جاتا تھا۔ حرب ابن امیہ اِسے حیرہ سے سیکھ کر آئے اور جزیرۃ العرب میں پھیلایا۔
بصریٰ بصری جنوبی شام کا ایک قدیم شہر ہے جو دمشق سے تقریبا 150 میل جنوب اور اردن کی سرحد سے 19 میل شمال میں واقع ہے۔ یہ دمشق سے عمان جانے والی شاہراہ پر واقع ایک اہم شہر ہے۔ بصری کے معنی بلند قلعہ ہیں اور اسے بصری الشام بھی کہا جاتا ہے۔ بائبل میں اسے "ادومکا" اور "بصورہ" کہا گیا ہے۔ 106ء میں قدیم نبطی سلطنت کے سلطنت روما سے الحاق کے بعد بصری رومی صوبہ عرب کا صدر مقام بن گیا۔ بازنطینی عہد میں اسے بوسترا کہا جانے لگا۔ ان دنوں اسقفی کا مرکز تھا۔
قرامطہ قرامطہ جمع کا صیغہ ہے۔ اس کا واحد قرمطی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قرمط لقب ہے حمدان بن اشعث کا جس نے اس فرقے کی بنیاد ڈالی۔ قرامط کے معنی عربی میں نزدیک نزدیک قدم ڈال کر چلنا۔ یہ شخص چوں کہ پستہ قد تھا اور پاس پاس پاؤں رکھ کر چلتا تھا اس لیےوہ قرمط کہلانے لگا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرمط کی اصل کرمتیہ ہے جو نبطی زبان کا ایک لفظ ہے۔ جس کے معنی سرخ آنکھوں والے آدمی کے ہیں۔ چوں کہ حمدان بن اشعث کی آنکھیں بہت سرخ تھیں۔ اس لیے عرب اس کو قرمط کہنے لگے۔
ابومسلم خراسانی ابومسلم نے ابوداؤد کوتوبلا بھیجا اور یحییٰ بن نعیم کوبلخ کا حاکم مقرر کرکے بھیج دیا، زیاد بن عبدالحق قسری نے جوحکومت بنواُمیہ کی طرف سے بلخ کا عامل تھا اور ابوداؤد سے شکست کھاکر ترمذ چلا گیا تھا، یحییٰ بن نعیم سے خط وکتابت کرکے اس کواپنا ہم خیال بنالیا اور مسلم بن عبدالرحمن باہلی اور عیسیٰ بن زرعہ سلمی، ملوک طخارستان، ملوک ماورالنہر اور بلخ واہلِ ترمذ سب کومجتمع کرکے اور یحییٰ بن نعیم کومعہ اس کے ہمراہیوں کے ہمراہ لے کرابومسلم کی جنگ کے لیے روانہ ہوئے سب نے متفق ہوکر سیاہ پھریرے والوں سے (دُعاۃ بنوعباس) لڑنے کی قسمیں کھائیں، مقاتل بن حیان نبطی کوامیرلشکر بنایا۔
احمد بن وحشیہ ابن وحشیہ کی زراعت پر “الفلاحہ النبطیہ” قدیم زرعی تصانیف میں قابلِ قدر مقام رکھتی ہے، اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نبطی اسلاف بہت عظیم علم کے مالک تھے، کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب قدیم بابلی کتب سے منقول ہے، اس کتاب کی تصنیف کا زمانہ کوئی 291ھ کا بتایا جاتا ہے، اس کتاب کا تذکرہ یہودی فلاسفر “ابن میمون” نے اپنی کتاب “مورہ نبوشیم” میں وثنیوں کے عقائد کے باب میں کیا ہے جہاں انہوں نے ستاروں کی عبادت اور زراعت کے تعلق پر بحث کی ہے، “الفلاحہ النبطیہ” میں صرف زرعی قواعد ہی بیان نہیں کیے گئے بلکہ اس سے بڑھ کر وہمی اور خرافی اعتقادات اور انباط اور ان کے پڑوسیوں کے درمیاں قائم ازمنۂ قدیم سے چلتی ہوئی روایات پر ہے.
قرامطہ اس حیرت انگیز ترقی کا اہم سبب خلافت عباسیہ کی کمزوری تھی۔ سرحدوں کا انتظام اچھا نہیں تھا اور ملک میں بد امنی پھیلی ہوئی تھی۔ بصرہ میں جو بدوی عرب سپاہ کی حیثیت سے آکر بس گئے تھے۔ انہوں نے لوٹ مار کی۔ اصلی نبطی کسان ان مظالم سے تنگ آکر باغی ہوگئے۔ بعض ایسے عرب قبیلے بھی ان کے ساتھ مل گئے جنہیں عباسیوں سے شکایتیں تھی۔ ایسے تاریک ماحول میں قرامطہ نے اپنی تبلیغ شروع کی اور اپنی ان تھک کوششوں سے عراق اور بحرین کے باشندے قرامطہ کے ساتھ ہوگئے۔ کیوں کہ انہیں امید دلائی کہ مہدی کے ظاہر ہونے کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ انہیں موجودہ مصیبتوں سے نجات دلائیں گے۔ مہدی کے ظہور کی خبروں کو ایسے پر آشوب زمانے میں شائع ہونے کا اچھا موقع ملا۔ مہدی کا انتظار قرامطہ کی سیاسی ترقی کے اسباب میں دوسرا اہم سبب شمار کیا جاتا ہے۔
ابومسلم خراسانی ابومسلم نے یہ کیفیت سن کرابوداؤد کودوبارہ بلخ کی جانب روانہ کیا، بلخ سے تھوڑے فاصلہ پرفریقین کا مقابلہ دریا کے کنارے ہوا، مقابل بن حیان نبطی کے ساتھ سردار ابوسعید قرشی تھا، ساقہ فوج کا پچھلا حصہ ہوتا ہےاس حصہ کومسلح اور زبردست اس لیے رکھتا تھا کہ کہیں حریف دھوکا دےکرپیچھے سے حملہ نہ کردے، جب لڑائی خوب زور شور سے ہوگئی توابوسعید قرشی نے بھی اپنی متعلقہ فوج سے دشمنوں کا مقابلہ کرنا اور ان کومار کرپیچھے بھگانا ضروری سمجھا، اتفاقاً ابوسعید کا جھنڈا بھی سیاہ تھا وہ جب اپنی فوج لے کرمتحرک ہوا تولڑنے والی اگلی صفوں کے لوگ بھول گئے کہ ہمارا بھی ایک جھنڈا سیاہ ہے وہ ابوسیع کے جھنڈے کودیکھتے ہی یہ سمجھے کہ دشمنوں کی فوج نے پیچھے سے ہم پرزبردست حملہ کیا ہے اور یہ انھیں کی فوج فاتحانہ پیچھے سے بڑھتی چلی آتی ہے؛ چنانچہ ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور میدان چھوڑ کربھاگ نکلے، بہت سے دریا میں غرق ہوکر ہلاک ہوئے زیادہ یحییٰ ترمذ کی طرف چلے گئے اور ابوداؤد کوبلخ سے واپس بلالیا اور بلخ کی حکومت پرنصر بن صبیح مزنی کومامور کیا، جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے، علی بن کرمانی ابومسلم کے پاس رہتا تھا اس کے ساتھ اس کا بھائی عثمان بن کرمانی بھی تھا، ابوداؤد نے ابومسلم کورائے دی ک ان دونوں بھائیوں کوایک دوسرے سے جدا کردینا ضروری ہے، ابومسلم نے اس رائے کوپسند کرکے عثمان بن کرمانی کوبلخ کی حکومت پرنازز کرکے بھیج دیا، عثمان بن کرمانی نے بلخ پہنچ کرفافضہ بن ظہیر کواپنا نائب بنایا اور خود معہ نصر بن صبیح کے مردالردو چلا گیا، یہ خبر سن کرمسلم بن عبدالرحمان باہلی نے ترمذ سے مصریوں کوہمراہ لے کر بلخ پرحملہ کیا اور بزورِ شمشیر اس اس پرقابض ہوگیا۔
قرامطہ سلمیہ کے سلسلے کو قطع کر کے حمدان نے 268 ہجری میں اپنی ایک الگ دعوت جاری کی۔ اب گو دعوت قرامطہ کا آغاز ہوا۔ کوفہ کے نبطی اور عرب قبیلے کثرت سے اس دعوت میں داخل ہونے لگے۔ حمدان نے اپنی مدد کے لیے کئی مدد گار داعیوں کو تیار کیا۔ ہر داعی اور اس کا مدد گار اپنے فریضے کے موافق اپنے مقام کا دورہ کرکے دعوت کی نگرانی کرتے۔ آہستہ آہستہ حمدان کی قوت بڑھی اور اسے مال جمع کرنے کی حرص پیدا ہوئی۔ مختلف قسموں کے محاصل تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد مریدوں پر لگائے گئے اور ان کے نام فطرہ ، ہجرہ ، بلغہ ، خمس اور الفہ رکھے گئے۔ ہر ایک کی سند قران کریم سے نکالی گئی۔ الفہ کی شرح کے مطابق تمام مریدوں کو حکم دیا کہ وہ اپنا مال منقولہ اور غیر منقولہ سب داعی کے خزانے میں جمع کرادیں۔ کسی کے قبضے میں کوئی مال نہیں رہے۔ تاکہ مالی حیثیت سے ایک دوسرے کو کوئی فوقیت نہیں رہے۔ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق داعی کے خزانے سے رقم دی جائے گی۔ سب ایک سی زندگی بسر کریں گے اور عیش سے بچیں گے۔ اس طرز عمل کے لیے بھی قران کریم سے سند نکالی گئی اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہا ان کو اپنا مال رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں کہ وہ روئے زمین کے مالک ہونے والے ہیں۔ یہ زمانہ ان کے امتحان و آزمائش کا ہے تاکہ ان کے خلوص و ایمان داری کا اندازا ہوسکے۔ انہیں صرف س بات کی اجازت دی گئی کہ وہ ہتھیار خرید کر گھر میں رکھ سکیں۔ گاؤں والوں کی کمائی جمع کرنے کے لیے ایک معتبر داعی مقرر کیا گیا۔ اس رقم سے جو بھوکا ہو اسے کھانا کھلائے ، جو ننگا ہو اسے کپڑے پہنائے اور جو اپاہج ہو اس کی مدد کرے ، غرض کہ اس خوبی سے اس طریقہ پر عمل کیا گیا کہ کوئی فقیر یا محتاج نہ رہا۔ سب باشندے اپنے فرائض نہایت مستعدی سے ادا کرنے لگے۔ یہاں تک غریب عورتیں اپنے تکلوں کی کمائی ہنسی خوشی دعوت کے خزانے میں جمع کراتیں اور کم سن بچے پرندوں کی حفاظت کی اجرت خوشی خوشی اس میں داخل کرتے تھے۔