Top 10 similar words or synonyms for میتھین

نائٹروجن    0.827449

آکسائڈ    0.813823

ہائیڈروجن    0.810448

آکسائیڈ    0.802997

گیسوں    0.789450

آکسیجن    0.786091

امونیا    0.785283

تابکار    0.782824

مائع    0.781754

یورینیم    0.781401

Top 30 analogous words or synonyms for میتھین

Article Example
میتھین میتھینMethane ایک کیمیائی مرکب ہے جس کا کیمیائی فارمولا CH4 ہے۔یہ سادہ ترین الکین ہے اور قدرتی گیس کا ایک اہم جز ہے۔زمین پر زیادہ پائے جانے کےسبب یہ ایک پر کشش ایندھن ہے لیکن اسے نکالنا اور زخیرہ کرنا مشکل کام ہے جس کی وجہ اس کا عام طور پر گیس کی حالت میں رہنا ہے۔یہ زیر زمین اور سمندی فرش تلے پایا جاتا ہے نیز یہ فضاء میں بھی موجود ہے جسے ایٹموسفیرک میتھین کہتے ہیں۔
مریخ کی آب و ہوا کیونکہ موجودہ مریخی حالات میں بالائے بنفشی اشعاع کو میتھین کو توڑنے میں صرف 350 برس کا عرصہ درکار ہوگا ، لہٰذا اگر میتھین موجود ہے تو کوئی ایسے ماخذ بھی موجود ہوگا جو اس کو دوبارہ فضا میں بھر رہا ہوگا۔ آبیدہ مشبک یا پانی کی چٹانوں میں ہونے والے رد عمل میتھین کا ممکنہ ارضیاتی ماخذ ہو سکتے ہیں تاہم فی الوقت مریخی میتھین کے وجود یا اس کے ماخذ کے بارے میں کوئی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔
نیپچون زیادہ بلندی پر نیپچون کی فضاء میں 80 فیصد ہائیڈروجن 19 فیصد ہیلیئم اور انتہائی کم مقدار میں میتھین موجود ہے۔ فضائی میتھین کی وجہ سے ہی نیپچون کا رنگ نیلا دکھائی دیتا ہے۔
مریخ کا کرۂ فضائی تحقیق کے مطابق میتھین کے تباہ ہونے کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ زمینی 4 برس اور کم سے کم زمین 0.6 برس تک کا ہو سکتا ہے۔ یہ دورانیہ فضائی چکر سے پورے سیارے پر میتھین کی غیر یکساں مقدار کا مشاہدہ کرنے کے لئے انتہائی کم ہے۔ کسی بھی طرح سے میتھین کے تباہ ہونے کا دورانیہ اس پیمانے (لگ بھگ 350 برس)سے کہیں کم ہے جو روشنی سے ہوئی کیمیائی تبدیلی (بالائے بنفشی اشعاع) کرتی ہے۔ میتھین گیس کا اس قدر تیزی رفتاری سے تباہ ہونے (یا ڈوبنے) کا مطلب بتاتا ہے کہ کوئی دوسرا عمل مریخ سے کرۂ فضائی سے میتھین کے نکالنے میں کار فرما ہے اور یہ عمل روشنی سے میتھین کو تباہ کرنے سے 100 تا 600 گنا تک زیادہ کارگر ہے۔ ناقابل توجیہ یہ تباہ کن شرح دوبارہ سے بھرنے والے کسی بہت ہی سرگرم ماخذ کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ 2014ء میں یہ اخذ کیا گیا کہ میتھین کو اس تیزی سے غرق کرنے والی چیز ماحولیاتی تکسید سے ماوراء ہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ میتھین استعمال ہی نہ ہوتی ہو بلکہ یہ موسمی طور پر مشبک شرح سے مرتکز اور تبخیر ہوتی ہو۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ میتھین لرزتی سطحی کوارٹز اور زبر جد کے ساتھ متعامل ہو Si–CH3کا شریک گرفتی بند بناتی ہو۔
نیپچون نیپچون کے خطِ استوا پر میتھین، ایتھین اور ایتھائن کی مقدار قطبین سے 10 سے 100 گنا زیادہ ہے۔
مریخ کا کرۂ فضائی مریخی کرۂ فضائی 43.34 g/mol کی مولرکمیت کی اوسط میں لگ بھگ 96فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ،1.9فیصد آرگان، 1.9فیصد نائٹروجن، اور دوسری گیسوں کے ساتھ تھوڑی سی آکسیجن، کاربن مونو آکسائڈ، پانی اور میتھین پر مشتمل ہے۔ 2003ء میں اس کے کرۂ فضائی کی ترکیب میں میتھین کے پائے جانے کے بعد لوگوں کی دلچسپی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ میتھین کی وجہ سے حیات کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے تاہم یہ کسی ارضی کیمیائی عمل، آتش فشانی عمل یا حر حرکی سرگرمی کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
نیپچون بتدریج تاریک اور گرم ہوتی ہوئی فضاء آخرکار پگھلے ہوئے مرکزے تک پہنچ جاتی ہے جہاں درجہ حرارت 2000 سے 5000 ڈگری کیلون تک ہے۔ مرکزہ زمین کے 10 سے 15 گنا وزنی ہے اور اس میں پانی، امونیا اور میتھین بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اتنا گرم ہونے کے باوجود اس سیارے کو سائنسی زبان میں برفانی دیو کہا جاتا ہے۔ پانی امونیا اور میتھین کے اس ملغوبے کو پانی اور امونیا کا سمندر بھی کہا جاتا ہے۔ 7000 کلومیٹر کی گہرائی میں میتھین ہیرے کی قلموں میں بدلتی جاتی ہے۔
مریخ کا کرۂ فضائی زندہ خرد اجسام جیسا کہ میتھانوجنس بھی دوسرے ممکنہ ذرائع ہو سکتے ہیں تاہم مریخ پر اس طرح کے جانداروں کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ زمین کے سمندروں میں، حیاتیاتی میتھین کی پیداوار کے ساتھ ایتھین بھی پیدا ہوتی ہے، جبکہ آتش فشانی میتھین کے ساتھ سلفر ڈائی آکسائڈ موجود ہوتی ہے۔ مریخ کے کرۂ فضائی میں موجود قلیل گیسوں پر کی جانے والی کئی تحقیقوں میں مریخی کرۂ فضائی میں کسی بھی قسم کے سلفر ڈائی آکسائڈ موجود ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں، جس کی وجہ سے آتش فشاں میتھین کو پیدا کرنے کے ذمہ دار نہیں لگتے۔
مریخ کا کرۂ فضائی مریخ پر پائی جانے والی میتھین سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں اور دوسری گیسوں سے ہونے والے کیمیائی تعاملات کی وجہ سے تیزی سے ٹوٹ جائے گی ، تاہم فضا میں اس کی برابر موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا ماخذ ضرور موجود ہے جو اس گیس کو دوبارہ سے بھر دیتا ہے۔ فی الوقت موجود روشنی سے کی گئی کیمیائی تبدیلی کے نمونے خود سے میتھین کی سطح میں ہونے والے اتنے تیز تغیرات کو بیان نہیں کر سکتے۔ یہ قیاس پیش کیا گیا ہے کہ کرۂ فضا میں میتھین مریخ میں داخل ہونے والے شہابیوں کی وجہ سے شامل ہو جاتی ہوگی۔ تاہم امپیریل کالج لندن کے محققین نے دریافت کیا کہ اس طرح سے میتھین کے نکلنے کی مقدار انتہائی کم ہے جو گیس کی موجود سطح کو قائم نہیں رکھ سکتی۔
مریخ کا کرۂ فضائی اگست 2012ء میں کیوریوسٹی جہاں گرد مریخ پر اترا۔ جہاں گرد پر لگے آلات اس قابل تھے کہ وہاں پر موجود اجزاء کا انتہائی درستی کے ساتھ تجزیہ کر سکیں، ان آلات کے استعمال سے میتھین کے مختلف ہم جاؤں میں بھی فرق کیا جا سکتا ہے۔ کیوریوسٹی پر لگے ہوئے سر پزیر لیزر طیف پیما سے کی گئی2012ء میں پہلی پیمائش سے معلوم ہوا کہ وہاں پر میتھین ہے ہی نہیں یا اترنے کی جگہ پر فی ارب میں سے صرف 5 حصّے ہی میتھین کے ہیں۔ 2013ء میں ناسا کے سائنس دانوں نے پھر یہ اطلاع دی کہ بنیادی خط سے آگے کسی بھی قسم کے میتھین کا سراغ نہیں لگا۔ تاہم 2014ء میں ناسا نے اطلاع دی کہ کیوریوسٹی جہاں گرد نے2013ء کے اواخر اور 2014ء کے شروع میں کرۂ فضائی میں میتھین میں ایک دس گنا زیادہ اضافہ دیکھا۔ اس دوران چار مرتبہ پیمائش کی گئی جس میں معلوم ہوا کہ اس دورانیے میں اوسط فی ارب میں 7.2 حصہ ہے یعنی مریخ وقتاً فوقتاً میتھین کو کسی نامعلوم ذرائع سے چھوڑتا ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں لئے جانے والی پیمائشوں میں یہ سطح اس سطح کا ایک بٹا دس حصہ تھی۔