Top 10 similar words or synonyms for مچی

پھوڑنے    0.743049

سےنے    0.733500

جھکڑ    0.722991

میکدہ    0.718784

جھلیاں    0.714854

سلفائڈ    0.711577

ادائیں    0.710089

حمار    0.707203

کمینہ    0.706420

بھالا    0.704828

Top 30 analogous words or synonyms for مچی

Article Example
سبوں -مچی سبوں -مچی ( لاطینی: Sabon-Machi) نائجر کا ایک رہائشی علاقہ ہے۔
جام جمشید ایران کا بادشاہ جمشید اپنے پیالے میں جھانک کر واقعاتِ عالم کی جھلک دیکھ لیا کرتا تھا۔ دنیا بھر میں جمشید کے اس پیالے کی ایسی دھوم مچی کے اسے جامِ جمشید کے ساتھ ساتھ جامِ جہاں نما بھی کہا جانے لگا۔
جھیل سپیریئر اس جھیل میں دو سو سے زیادہ دریا گرتے ہیں۔ ان میں بڑے دریا نپیگن، سینٹ لوئیس، پیجن، پک، وائٹ، مچی پیکوٹن، برول اور کمینسٹیکوا دریا اہم ہیں۔ اس جھیل سے پانی جھیل ہرون کو بذریعہ دریائے سینٹ میری جاتا ہے۔
سکاٹ لینڈ سکاٹ لینڈ کا سربراہ برطانیہ کا بادشاہ یا ملکہ ہوتا ہے۔ اس وقت سربراہ کی حیثیت ملکہ الزبتھ دوم کو 1952 سے حاصل ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی کے وقت سکاٹ لینڈ میں ہلچل مچی کیونکہ سکاٹ لینڈ میں کبھی ملکہ الزبتھ اول رہی ہی نہیں۔
2015ء کی حج بھگدڑ بھگدڑ کا یہ سانحہ منٰی کے مقام پر پیش آیا جو مکہ مکرمہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاج منٰی میں ایک رکن رمی جمرات کی ادائی کے لیے جاتے ہیں،سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب حاجی جمرات پر کنکریاں پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے دوراہہ پر موجود تھے۔اس وقت اس پُل پر حاجیوں کی بڑی تعداد کی ایک مقام پر موجودگی کی وجہ سے بھگدڑ مچی جس کے نتیجے میں بہت سے حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔
تہران تہران کے شمال میں پہاڑ ہیں۔ بے ہنگم اور بے تحاشا ٹريفک كو تہران كا ايک مسئلہ خيال كيا جا رہا ہے بعض علاقوں میں گاڑى لانے کے لیے خصوصى پرمٹ دركار ہے كچه منطقوں کے لیے صرف ايک جفت نمبر والى گاڑیاں آگے آ سكتى ہیں اور دوسرے دن طاق نمبر والى – اس سب كے باوجود ہاہا کار مچی رہتى ہے انقلابى حكومت نے زير زمين ريل گاڑی کا منصوبہ بنايا تها جو چھ سات برس قبل مكمل ہو گیا ليكن مسئلہ صرف جزوى طور پر حل بوا- شہر میں نہايت عمده بسيں بهى چل رہى ہیں جن کے اسٹاپ ديكهنے سے تعلق ركهتے ہیں
امونیم میوریا ٹیکم یہ دوا جسم میں ایسی کمزوری پیدا کرتی ہے جو ٹائیفائڈ کے مشابہ ہوتی ہے۔ بلغمی اخراج بڑھ جاتا ہے مگر نکلتا نہیں، یہ دوا بالخصوص موٹے جسم والوں اور سست عادتوں والوں کے لئے مفید ہے، جنہیں سانس کی بیماری ہو، کھانسی کے ساتھ نزلہ اور جگر کی خرابیاں بھی شامل حال ہوں، گردش خون میں بے قاعدگی آنے کا رحجان، ایسا محسوس ہو جیسے خون میں متواتر ہلچل مچی ہو، تپکن جلن، اکثر شکایتوں کے ساتھ کھانسی عام طور سے پائی جاتی ہے۔ اور اس کھانسی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں چکنا لیسدارکف بکثرت آتا ہے، علامات میں شدّت آنے کی خوبی، مختلف اعضاءکے مطابق ہے، مثلاَ سر اور سینے کی علامات صبح دشّت اختیار کرتی ہیں، پیت کی تکلیف دوپہر کے بعد بڑھتی ہے اعضاءکے درد، جلدی امراض اور بخار شام کے وقت دعّت اختیار کرتے ہیں علیٰ ہذاالقے اس ایس محسوس ہو جیسے جسم میں اُبال آرہا ہے۔
کیرول کوئیگلی کوئیگلی کا خیال ہے کہ جمہوریت اسی وقت آتی ہے جب بہترین اسلحہ عام لوگوں کی دسترس میں ہوتا ہے۔ تاریخ میں جمہوریت نہ ہونے کی یہی وجہ رہی ہے۔ 1880 تک بہترین اسلحہ بندوق تھی جو عام آدمی بھی خرید سکتا تھا اور اسکا استعمال کرنا سیکھ سکتا تھا۔ اس وقت امریکا میں شہری سپاہیوں کی فوج ہوا کرتی تھیں۔ اس وقت جمہوریت اصلی تھی۔ لیکن بعد میں جب ٹینک اور بمبار طیارے وجود میں آ گئے تو شہری تربیت یافتہ فوجیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہے اور اسی وجہ سے جنگ عظیم اول میں اس قدر قتل و غارت گری مچی۔ اسکے بعد آنے والی جمہوریت پر برتر اسلحے کا سایہ تھا۔
میر بالاچ مری تعلق ایک سردار سیاسی خاندان سے رہا۔ ان کے والد نواب خیر بخش مری یا ’گونگا بابا‘ جو ساری زندگی اپنے قوم پرست اور سوشلسٹ نظریات پر ڈٹے رہے۔ سن دو ہزار میں جنرل مشرف کے زیر سایہ ہونے والے انتخابات میں لندن سے ہی کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور صوبائی الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد حلف لینے کے لئے کوئٹہ واپس پہنچا۔ اسمبلی میں حلف لیتے وقت پاکستان سے وفاداری کی بجائے بلوچستان سے وفاداری کا نعرہ بلند کیا تو ایوان میں بڑی ہلچل مچی۔ حلف اٹھانے کے بعد انہیں حکومتی حلقوں سے قاف لیگ میں شامل ہونے اور وزارتوں کی پیشکشیں بھی ہوئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد ان کے خلاف کئی پرانے مقدمات کو تازہ کرنے کی کوشش شروع ہوئی اور وہ زیر زمین چلے گئے۔
جاپان صبح کے 8 بجکر15 منٹ تھے کہ طیارے سے ایٹم بم ، زمین کے رُخ پر چھوڑ دیا گیا اور 43 سیکنڈ بعد انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا دھماکا ہوا ۔ یہ اتنا بڑا دھماکا تھا کہ فضا میں ساڑھے گیارہ میل بلندی پر اینکولہ گیے بھی ہچکولے کھانے لگا ۔ شہر پر دھواں چھا گیا، کسی کو نہ تو کچھ دکھائى دے رہا تھا اور نہ ہی کچھ سمجھ آرہا تھا ۔ سب کچھ سخت تپیش سے پگھل چکا تھا ۔ نہ تو فضا میں پرندے بچ گئے اور نہ ہی زمین پر انسان و حیوان ۔ جہاں بم گرا وہاں ارد گرد ایک میل کے دائرے میں کوئى عمارت موجود نہ رہی ۔ آگ کے شعلوں کا ایک ایسا جھکڑ چلنے لگا جس نے شاید کسی کو زندہ نہ چھوڑنے کا تہیہ کیا ہوا تھا ۔ آگ نے شہر کا ساڑھے 4 میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ چونکہ سب کچھ ملیامیٹ ہوچکا تھا لہذا ریڈیو اور ٹیلی گرافک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خود جاپان کے دوسرے علاقوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے ہم وطن کس حال میں ہیں ۔ نہ باپ رہا نہ بیٹا ، نہ ماں رہی نہ بیٹی ۔ اتنی تباہی مچی کہ کوئى آہ و بکا کرنے والا بھی نہیں تھا ۔ دھماکے اور آگ سے اُڑتی گرد و دھول کو ابھی بیٹھنے میں وقت لگے گا ، کیونکہ دھماکے سے اُٹھنے والے آگ اور دھوئیں کا مرغولہ 45000 فٹ بلندی تک پہنچا تھا اور اِس آگ کے گولے کا قطر 1200 میٹر تھا ۔