Top 10 similar words or synonyms for مچایا

مچائی    0.642535

کولکھا    0.625439

رکیا    0.604475

کها    0.603376

رتبیل    0.600703

بھجوایا    0.593279

چھوڑدیا    0.584909

غوغا    0.584561

کااصرار    0.575321

تخریبی    0.573352

Top 30 analogous words or synonyms for مچایا

Article Example
نرگس سمندری طوفان طوفان سے پیدا ہونے والی صورت حال کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لیے مغربی ذرائع ابلاغ نے شور مچایا کہ مدد لے کر جانے والی امریکی بحریہ کو میانمار میں زبردستی گھس جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔
حم السجدہ انہوں نے آپ کو زک دینے کے لیے کام کا یہ نقشہ بنایا تھا کہ جب بھی آپ یا آپ کے پیرووں میں سے کوئی عام لوگوں کو قرآن سنانے کی کوشش کرے، فورا ہنگامہ برپا کر دیا جائے اور اتنا شور مچایا جائے کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دے۔
سیارچہ شکن ہتھیار 11 جنوری 2007 کو چین نے ایک بیلیسٹک میزائیل استعمال کر کے اپنے ایک موسمی سیارہ کو تباہ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ سیارچہ 865 کلومیٹر کی بلندی پر تھا۔ اس پر امریکہ اور یورپی یونین نے بہت شور مچایا مگر چین کی وزارت خارجہ کے مطابق چین کو ہر وہ اختیار حاصل ہے جسے مغربی دنیا اپنے لیے جائز سمجھتی ہے۔ امریکہ کے بعض ماہرین کے مطابق چین نے لیزر شعاع کی مدد سے امریکی جاسوسی سیاروں کو اندھا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
آندرے دیو قامت اوائل 1987 میں، ہوگن کو ٹی وی پر زیادہ نمایاں کرنے اور آندرے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آندرے اور ہوگن میں سرد جنگ شروع ہوگئی۔ اسی سال پہلوان "ٹیڈ ڈبیاس عرف ملیئن ڈالر مین" نے ہوگن سےچمیئن شپ پیٹی خریدنے کی فرمائش کی جسے ہوگن نے ٹال دیا، اس پر ٹیڈ دبیاس نے آندرے کو ہوگن سےلڑوایا، ہوگن اکھاڑے میں شانہ چت ہو گیا، ہوگن نے ریفری کے بے ایمان ہونے کا واویلا مچایا ۔ اس دوران آندرے نے چمپیئن شپ پیٹی ٹیڈ ڈبیاس کو بطور تحفہ پیش کردی، اور قواعد ضوابط کی خلافورزی پاکر وینس مکماہون نے مقابلہ اور نتائج کو باطل قرار دے دیا ۔
برڈفلو برڈ فلو کی جس وبا کا خوف پھیلایا جارہا ہے وہ انفلوئنزا وائرس H5N1 ہے۔ پاکستان میں کہیں بھی یہ وائرس نہیں ہے۔ ہالینڈ میں جہاں H7N7 سے ایک شخص ہلاک ہوا تھا، اس قسم کا واویلا عالمی سطح پر نہیں مچایا گیا جبکہ صرف H7 کے شبہ پر پاکستان میں برڈ فلو کا کہرام مچا ہوا ہے۔ حالانکہ پاکستان میں H7N3 وائرس سے مرغیاں متاثر ہوئی ہیں ۔ پھر غور طلب بات یہ بھی ہے کہ دیگر ممالک میں بھی جہاں برڈ فلو سے انسان متاثر ہوئے ہیں جو پرندوں ( مرغیوں اور بطخوں ) کے ساتھ یعنی فارم پر ہوتے ہیں جبکہ مرغی کا گوشت کھانے سے برڈ فلو سے متاثر ہونا کہیں بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اگر برڈ فلو سے انسان متاثر ہونے لگیں ( یعنی وہ خدشہ سچ ہو جائے جس کی بنیاد پر واویلا مچایا جارہا ہے ) تو اس فلو کی سرعت اور ہلاکت کا اندازا نہیں لگایا جاسکتا۔ چونکہ برڈ فلو پرندوں سے پھیلتا ہے اس لیے آپ کا مرغی نہ کھانا آپ کی حفاظت کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ اندازا لگایا گیا ہے کہ اگر کوئی اس قسم کا وائرس جو پرندوں اور انسانوں کو یکساں متاثر کرے ، وبائی شکل اختیار کر لے تو وہ صرف چار دن میں پوری دنیا میں پھیل کر اپنی ہلاکت خیزی مچا سکتا ہے۔
داتا گنج بخش اپنے استاد ابو عبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی کے متعلق فرماتے ہیں کہ آپ تمام علوم کے عالم اور درگاہ حق کے اہل حشمت میں سے تھے۔ بہت نیک خُلق تھے۔ آپ کا کلام مہذب اور اشارات لطیف ہیں۔ میں نے ان کی کتاب ۔معانی انفاس۔ کی چند جزیں ان سے سُنی ہیں۔ شیخ سہلکی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بسطام میں ٹڈی دل آیا۔ تمام درخت اور کھیت اس کے بیٹھنے کی وجہ سے سیاہ ہو گئے۔ لوگوں نے بہت شور مچایا۔ شیخ نے پوچھا، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ٹڈی دل آئی ہے اور لوگ سخت غمزدہ ہیں۔ شیخ اُٹھے اور کوٹھے پر تشریف لے گئے اور منہ آسمان کی طرف کیا۔ اُسی وقت ٹڈی اُڑ گئی اور عصر کی نماز تک ایک ٹڈی بھی کہیں نظر نہیں آتی تھی، اور کسی کھیتی کا ایک پتہ تک بھی ضائع نہ ہوا۔
الفجر اس کے بعد انسانی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے بطور مثال عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام کو پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ حد سے گزر گئے اور زمین میں انہوں نے بہت فساد مچایا تو اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برس گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں نہیں چلا رہی ہیں، نہ یہ دنیا کسی چوپٹ راجہ کی اندھیر نگری ہے، بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل یہ تقاضا خود اس دنیا میں انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے کہ عقلی اور اخلاقی حس دے کر جس مخلوق کو اس نے یہاں تصرف کے اختیارات دیے ہیں اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔
حسن کمال 1980ء سے فلمی دنیا میں نغمہ نگاری کے لئے پہچانے جانے لگے۔ بی آر چوپرہ کی فلم نکاح کے لئے گیت لکھے جو کافی مقبول ہوئے۔ ان کے نغموں کی کامیابی کے طور پر موسیقی نگار روی کو بھی مانا جاتا ہے، جن کی اچھی دھُنوں کی وجہ سے ان کے لکھے گئے نغمے مشہور ہوگئے۔ سلمیٰ آغا کی پہلی فلم ہی میں کامیاب اور مقبول نغمہ دل کے ارماں آنسؤں میں بہہ گئے کافی دھوم مچایا۔ اس نغمہ سے سلمیٰ آغا اور حسن کمال راتوں رات ستارے بن گئے۔ انہوں کے کئی ایک اچھی فلموں کے لئے بھی گیت لکھے جو کافی سراہے گئے۔ فلم آج کی آواز، طوائف جیسی فلمیں انہیں فلم فیئر ایوارڈ بھی لے کر آئے۔
مظہر جان جاناں ان علوم کے علاوہ میرزا صاحب کو دیگر فنون میں بھی کافی مہارت حاصل تھی، بالخصوص فن سپاہ گری میں آپ کو اس قدر مہارت حاصل تھی، فرماتے تھے کہ اگر بیس آدمی تلواریں کھینچ کر مجھ پر حملہ کریں اور میرے پاس ہاتھ میں صرف ایک لاٹھی ہو تو ایک آدمی بھی مجھے زخم نہیں پہنچا سکتا۔ نیز فرماتے ہیں کہ ایک بار مست ہاتھی راہ میں آرہا تھا، میں گھوڑے پر سوار سامنے سے آگیا۔ فیل بان نے شور مچایا کہ ہٹ جاؤ، دل نے گوارا نہیں کیا کہ ایک بے جگر حیوان کے مقابلے سے ہٹ جاؤں۔ چنانچہ ہاتھی نے نہایت غضب کی حالت میں مجھے سونڈ میں لپیٹ لیا۔ میں نے خنجر نکال کر اس کی سونڈ میں مارا، اس نے چیخ مارکر مجھے دور پھینک دیا اور میں بفضل تعالٰیٰ محفوظ رہا۔
لبنان اسرائیل اور لبنان کے تعلقات ھمیشہ سے نازک چلے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسرائیل نے ان کے عرب فلسطینی بھائیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ دوسرے اسرائیل کی مذہبی کتابوں اور مستقبل کے منصوبوں میں لبنان کی سرزمین کو عظیم تر اسرائیل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے ماضی میں لبنان پر کئی حملے کیے ہیں اور بیس سال تک جنوبی لبنان پر قبضہ بھی رکھا ہے۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بی اسرائیلی جہاز اکثر لبنان پر غیر قانونی پرواز کرتے رہتے ہیں اور بمباری بھی کرتے ہیں۔ 16 ستمبر 1982 کو اسرائیلی کمانڈوز ، جن کی سربراہی ایریل شیرون کر رہا تھا، نے لبنان کے مارونی عیسائی ملیشیا کے ساتھ مل کر بیروت میں واقع صبرا وشاتيلا کے فلسطینی کیمپوں پر حملہ کر کے 5000 کے قریب فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جس دوران یہ قتلِ عام جاری تھا، اسرائیلی فوج نے صبرا وشاتيلا کو گھیرے میں رکھا تاکہ کوئی بچہ یا عورت بھی بچ نہ سکے۔ کسی ملک میں آزادانہ گھس کر اس کے شہریوں یا مہمانوں کو نشانہ بنانے پر دنیا کی مغربی انسانی تنظیموں نے کوئی واویلا نہیں مچایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لبنان کی فوج نہ ہونے کہ برابر ہے۔ جولائی 2006 میں اسرائیل نے اس بہانے لبنان پر حملہ کر دیا کہ حزب اللہ نے اس کے دو فوجی قید کر لیے ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی اسرائیل اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ ایک دوسرے کے فوجی قید کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا لبنان یا لبنان کے جنوبی حصہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ حزب اللہ نے ناکام بنا دیا۔ یہ جنگ اکتوبر 2006 تک جاری رہی۔