Top 10 similar words or synonyms for مٹی

پتھروں    0.798230

لکڑی    0.789672

پتھر    0.788807

چٹانوں    0.782139

ریت    0.779770

اینٹوں    0.776336

لوہے    0.760948

شیشے    0.757510

برتن    0.742251

پھولوں    0.739840

Top 30 analogous words or synonyms for مٹی

Article Example
مٹی مٹی معدنیات اور چٹانوں کے حصوں کا مرکب ہے جو ماحولیاتی اجزاء جیسے ہوا، بارش، روشنی، برف اور زندہ ماحولیاتی اجزاء جیسے پانی اور ہوا میں موجود اجسام سے مل کر بنتی ہے۔ مٹی عام طور پر چٹانی اجزاء اور ماحول میں موجود بھربھری معدنیات کی مدد سے تشکیل پاتی ہے جبکہ دوسرے ماحولیاتی اجزاء اس کی تکمیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مٹی کی کئی اقسام دریافت ہو چکی ہیں جو چٹانوں اور بھربھری معدنیات کے تناسب سے درجہ بند کی جاتی ہیں۔ مٹی میں شامل چٹانی دانے بہت چھوٹے اور ہموار بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ کیچڑ میں ہوتے ہیں اور یہی دانے بڑے اور سخت بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ بجری یا باریک ریت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
مٹی مٹی ہمارے ماحول کا اہم جز ہے، محقق اس بارے چھ اہم نکات بتاتے ہیں جو یہ ہیں:
ملتانی مٹی ملتانی مٹی (انگریزی:Fuller's earth) ایک قسم کی مٹی ہے۔ اس کا استعمال پرانے زمانے سے بال دھونے وغیرہ کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ جدید دور میں بھی اسے غسل کرنے، چہرے پر نکھار لانے، وغیرہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جلدی بیماری کو ختم کرنے اور جلد کو ملائم رکھنے میں بہت مددگار ہے۔
ملتانی مٹی برطانیہ میں اسے اون کی صنعت میں استعمال کیا جاتا تھا۔ قدیم دور سے ہی ملتانی مٹی کا استعمال بہتری کے لیے کیا جاتا رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ملتانی مٹی کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ جدید دور میں بھی اس کا استعمال خوبصورتی کو سنوارنے اور نکھانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ملتاني مٹی جلد سے گندگی صاف کرنے کے لئے بہت موثر ہے اور اس میں کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔
مٹی کے ذریعے علاج قدرتی علاج میں مٹی کا استعمال کئی بیماریوں کے دور کرنے کے لیے قدیم زمانے سے ہی ہوتا آیا ہے۔ نئی سائنسی تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مٹی کا استعمال طبی طور پرجسم کو ترو تازہ کرنے متحرک اور ارجوان بنائے رکھنے میں افادیت رکھتا ہے۔ جلد کی خرابی اور زخموں کو ٹھیک کرنے میں مٹی اپنی اہمیت ثابت کر چکی ہے. سمجھا جاتا رہا ہے کہ جسم مٹی کا پتلا ہے اور مٹی کے استعمال سے ہی جسم کی بیماریاں دور کی جا سکتی ہیں۔
مٹی کے ذریعے علاج طینی غسل (مٹی کا غسل) بیماریوں سے نجات کا بہترین حل ہے۔
مٹی آدم کھاتی ہے "مٹی آدم کھاتی ہے" محمد حمید شاہد کا اردو ناول ہے جو جنوری 2007ء میں اکادمی بازیافت کراچی سے منظر عام پر آیا۔ قبل ازیں محمد حمید شاہد کے افسانوں کے تین مجوعے، بند آنکھوں سے پرے، جنم جہنم اور مرگ زار کے علاوہ متعدد کتب شایع ہو چکی تھیں۔ بھارت سے اردو ادب کے سب سے نمایاں نقاد اور فکشن نگار شمس الر حمن فاروقی نے اس ناول کی بابت لکھا ہے
مٹی کے ذریعے علاج بیماری چاہے جسم کے اندر ہو یا باہر، مٹی اس زہر اور گرمی آہستہ آہستہ چوسكر اس کی اصل جڑ سے ختم کرتی ہے۔ یہ مٹی کی خاصیت ہے۔
مٹی آدم کھاتی ہے "کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ جینا اور دکھ سہنا ایک ہی شے ہیں۔ جو دکھ سہتا ہے وہی جیتا ہے۔ اس ناول میں ایک شخص اپنے باپ سے محروم ہو جاتا ہے، دشمن کے ہاتھوں نہیں یہ اس کے اپنے ہی ہیں جو اس کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ ایک عورت کو اس کے اپنے گولی مار دیتے ہیں، کیوں کہ وہ انہیں چھوڑ کرجانا چاہتی ہے۔ ایک شخص جسے بچ رہنے کا کوئی حق نہیں وہ لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہوتے ہوتے بج نکلتا ہے۔ لیکن جو بچ نکلا، وہ بچا نہیں۔دکھ کی چادر بیمار اور صحت مند،قوی اور ضعیف، سب کو ڈھک لیتی ہے۔ محمد حمید شاہد نہایت زی ہوش اور حساس قصہ گو معلوم ہوتے ہیں۔ بظاہر پیچیدگی کے باوجود ان کے بیانیہ میں یہ وصف ہے کہ ہم قصہ گو سے دور نہیں ہوتے۔ محمد حمید شاہد کی دوسری بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔ مٹی آدم کھاتی ہے اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں مشرقی پاکستان / بنگلہ دیش کی حقیقت سے آنکھ ملانے کی کوشش رومان اور تشدد کو یکجا کر دیتی ہے۔ اسے محمد حمید شاہد کی بہت بڑی کامیابی سمجھنا چاہیے کہ وہ ایسے موضوع کو بھی اپنے بیانیہ میں بے تکلف لے آتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہیں کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ دکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے۔"
مٹی کے ذریعے علاج خالص، صاف کپڑے سے چھنی ہوئی مٹی کو رات بھر پانی سے گیلاكر کے لئی (پیسٹ) جیسا بنا لیجیے اور پورے جسم پر لگا کر رگڑیے۔ اس کے بعد دھوپ میں 20-30 منٹ کے لئے بیٹھ جائیں۔ جب مٹی مکمل طور پر خشک جائے تب ٹھنڈے پانی سے پورے جسم کا نیپكين سے رگڑ تے ہوئے غسل کر لیں۔