Top 10 similar words or synonyms for مضخت

apoptosis    0.803012

نذری    0.797350

حافلہ    0.792112

pump    0.791141

zygote    0.790723

بالاصوتی    0.779972

حرتخطیط    0.779348

voltage    0.777701

plasma    0.777261

electrolyte    0.776855

Top 30 analogous words or synonyms for مضخت

Article Example
گیس دابگر گیس دابگر بڑی حد تک مضخت یا تلمبہ سے مماثلت رکھتا ہے: دونوں مائع پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور دونوں نلی میں مائع کی ترسیل کرسکتے ہیں.
قلب بیرونی جانب دل پر ایک دوہری تہ والی جھلی لپٹی ہوتی ہے جس کو التامور (pericardium) کہا جاتا ہے۔ التامور کو عام الفاظ میں غلاف قلب بھی کہتے ہیں۔ اندرونی طور پر دل کا خانہ ایک عضلاتی دیوار کے ذریعہ دو اجواف (خانوں) میں تقسیم ہوتا ہے ، ایک دائیاں اور ایک بائیاں خانہ۔ یہ دونوں خانے ایک دوسرے سے مکمل طور پر جدا ہوتے ہیں اور انکے درمیان کوئی سوراخ یا رابطہ نہیں ہوتا۔ دائیاں خانہ صرف پھیپڑوں میں خون مضخت (پمپ) کرتا ہے اور بائیاں خانہ تمام جسم کو خون مضخت (پمپ) کرتا ہے
قلب قلب (ج: قلوب) جس کو عام الفاظ میں دل کہا جاتا ہے ایک عضلاتی عضو ہے جو تمام جسم میں خون مضخت (pump) کرتا ہے۔ قلب کی نظمی حرکت (دھڑکن) ایک غیرموقوف (نہ رکنے والی) حرکت ہے جو قـبـل ازپیـدائیش تا دم مـرگ قائم رہتی ہے۔
حجم ضربہ حجم ضربہ کو انگریزی میں stroke vlolume کہتے ہیں اور اس سے مراد خون کا وہ حجم ہوتا ہے کہ جو خون کی ایک دھڑکن سے مضخت یا pump ہو کر جسم میں آتا ہے۔ stroke کے کئی مفہوم ہوتے ہیں اور جب اسے دل کی حرکت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد دل کی ایک دھڑکن (beat) ہوتی ہے۔
حجم ضربہ خون کو جسم میں مضخت یا pump کرنے سے قبل ظاہر ہے کہ پہلے یہ خود اپنے آپ کو خون سے بھر کر پھیلتا ہے اور وہ مقام جب دل خون سے مکمل بھر جاتا ہے اگر اس کو آخر پھیلاؤ حجم کہا جاۓ اور پھر اسکے بعد دل سکڑ کر خون کو جسم میں پھینکتا ہے اور جسم میں پھینکنے کے بعد اس میں باقی رہ جانے والی خون کی مقدار کو آخر سکڑاؤ حجم کہا جاۓ تو حجم ضربہ کی مقدار ، آخر پھیلاؤ اور آخر سکڑاؤ حجم میں فرق کے برابر ہوگی۔
قلبی وِ عائی نظام دورانی نظام بنیادی طور پر، کہیں پھیلی کہیں سکڑی نالیوں سے بنا ایک ایسا بند دائرہ یا راستہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ جس کے ایک سرے پر دل اور دوسرے سرے پر شعریات (capillaries) ہوتی ہیں اور خون ان نالیوں میں مسلسل دوڑتا رہتا ہے۔ خون کی اس گردش کا اصل سرچشمہ دل ہوتا ہے جو اپنی سکڑنے اور پھیلنے کی حرکت سے ان نالیوں یا رگوں میں خون مضخت (pump) کرتا رہتا ہے۔ طبی طور پر ان خون کی نالیوں یا رگوں کو وعاء یعنی vessel کہا جاتا ہے۔
قزمہ طرزیات خلیے کو عجوبہ کہنا ایک بہت چھوٹی تشبیہ ہوگی، اگر کہا جاۓ کہ خلیہ قدرت کا بنایا ہوا ایک ایسا اعلٰی ، نفیس اور پیچیدہ شاہکار ہے کہ جس نے اپنے اندر روح کو رواں دواں رکھ کر زندگی کو ممکن بنایا ہوا ہے تو بہت مناسب ہوگا۔ خلیے کے اندر سالمات کبیر (macromollecules) سے بنے ہوۓ محرکیات (engines) ہیں، آلی (motors) ہیں اور مضخت (pumps) لگے ہوۓ ہیں، جو باقاعدہ بجلی کی مانند توانائی سے حرکت پیدا کرتے ہیں۔ اور خلیات میں لگے ہوۓ بعض محرکیۓ یعنی انجن تو ایسے ہیں کہ جو مانند مولّد (generator) توانائی پیدا کرتے ہیں۔ ان سالمات کبیر (جو ایک کارخانے کے آلات کی مانند خلیے میں لگے ہوۓ ہیں) کی اکثریت کا تعلق لحمیات سے ہوتا ہے، یعنی یہ لحمیاتی سالمات ہوتے ہیں۔
سرخ خونی خلیہ سرخ خونی خلیات (red blood cells) خون میں پاۓ جانے والے ایسے خلیات ہوتے ہیں کہ جن میں سرخ مادہ جسے hemoglobin کہا جاتا ہے موجود ہوتا ہے اور اسی مادے کی وجہ سے انکی رنگت سرخ نظر آتی ہے؛ طب و حکمت میں ان خلیات کو حمریہ (erythrocyte) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ خلیات ، تعداد میں خون میں پاۓ جانے والے دیگر اقسام کے خلیات میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک سرخ خلیہ جب اپنی بالغ حالت میں آجاتا ہے تو اسکی شکل ایک ایسی قرص سے مماثل نظر آتی ہے کہ جس میں دونوں اطراف کی سطحیں دبی ہوئی یا معقر (concave) ہوتی ہیں۔ خون کے بالغ سرخ خلیات میں مرکزہ (nucleus) ناپید ہوتا ہے اور انکا بنیادی کام قلب کی حرکات مضخت (pump) کے باعث پیدا ہونے والے دوران خون کے ذریعہ oxygen کو تمام جسم میں پہنچانا ہوتا ہے۔
مِحقِنَہ محقنہ کی اصطلاح طب و حکمت میں ایک ایسے طبی آلہ کے لیے اختیار کی جاتی ہے کہ جو حقنہ (injection) لگانے کی خاطر استعمال کی جاتا ہو۔ اس کو انگریزی میں syringe یا سرنج کہا جاتا ہے۔ اس طبی آلہ میں نلی نما اسطوانہ (cylinder) ہوتا ہے جس کے اندر ایک اور اسطوانہ ہوتا ہے اس طرح کہ اندر والا اسطوانہ باہر نلی نما اسطوانے کے اندر اور باہر حرکت کرسکتا ہے۔ اندر والا اسطوانہ اصل میں ایک فشارہ مضخت (piston pump) کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کی اوپر والے اسطوانہ کے اندر غوطہ لگانے کی مماثلت سے ہی اس کو غواص (plunger) بھی کہا جاتا ہے۔ جب یہ غواص باہر کی جانب کھینچا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے محقنہ کے اندر ایک خلا پیدا ہوجاتا ہے جو اگلے سرے پر موجود سوراخ میں لگی سوئی کی مدد سے مایع (دوا) کو کھینچ کر اندر بھر لیتا ہے، پھر جب اس سوئی کو جلد کے راستے (عام طور پر یہی راستہ استعمال ہوتا ہے، مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا) جسم میں داخل کر کے غواص کو دبایا جاتا ہے تو وہ دوا کو جسم میں فشار سے داخل (pump) کر دیتا ہے۔