Top 10 similar words or synonyms for مخطوطے

ایڈیشنز    0.630309

زواج    0.621592

gelsenkirchen    0.621147

الاحزان    0.618370

italic    0.616862

hymns    0.616068

مشتملات    0.615245

علاجات    0.610433

الاشکال    0.609056

منرلز    0.608451

Top 30 analogous words or synonyms for مخطوطے

Article Example
ابن العدیم اِس کتاب کے مختلف مخطوطے کئی کتب خانوں میں محفوظ ہیں حو یہ ہیں:
صحیفہ ہمام ابن منبہ اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔
ابن رجب 18. اہوال یوم القیامۃ : اِس کتاب کے 2 مخطوطے موجود ہیں، اول برلن جرمنی میں عدد نمبر 2661 کے تحت اور دوسرا اسکندریہ مصر میں عدد مواعظہ 6 کے تحت۔
کنزالایمان ترجمہ کے مخطوطے سے اس بات کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ ترجمہ تقریباً سال، ڈیڑھ سال کے اندر 28 جمادی الآخر 1330ھ کو مکمل ہوا جو جلد ہی مراد آباد کے مطبع سے شائع ہوا۔ پہلی بار صرف عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ شائع ہوا۔ بعد میں اس ترجمہ کو بنیاد بنا کر پہلی تفسیر خزائن العرفان لکھی گئی۔
ابن رجب الفراء کی طبقات فقہا اصحاب الامام احمد میں ابن رجب نے 460ھ میں فوت ہونے والے اکابر حضرات کے ذکر سے جو الفراء کے اصحاب ہیں، سے اپنی ذیل کا آغاز کیا اور اِس میں 751ھ تک کے اکابر مذہب حنبلیہ کے سوانح و حالات لکھے ہیں۔ اِسے ہنری لاووسٹ Henry Laoust نے دمشق سے 1951ء میں شائع کیا، اِس کی جلد اول میں 460ھ سے 540ھ تک کے احوال و حالاتِ منسوب اکابر مذہب حنبلیہ درج ہیں۔ ابن رجب کی اِس کتاب کو علمائے اسلام نے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے حتیٰ کہ احمد بن نصر اللہ البغدادی نے اس کی ایک تلخیص لکھی تھی۔ اصل کتاب کے بہت سے مخطوطے ابھی تک محفوظ ہیں جن میں سے سب سے قدیم مخطوطہ وہ ہے جو ابن رجب کی وفات کے پانچ سال بعد یعنی 800ھ میں لکھا گیا تھا اور باقی مخطوطے وہ ہیں جو تقریباً 30 سال بعد لکھے گئے یعنی 825ھ میں۔
ابن العدیم عربی متن کے ساتھ فرانسیسی ترجمہ 1896ء میں صفحہ نمبر 509 تا 565 شائع ہوا۔ 1897ء میں صفحہ نمبر 146 تا 235 شائع ہوا۔ 1898ء میں صفحہ نمبر 37 تا 107 شائع ہوا۔ مزید اِس کے آگے 6 ربیع_الثانی 951ھ مطابق 27 جون 1544ء تک کا خلاصہ محمد ابن الحنبلی متوفی 971ھ مطابق 1564ء نے " در الحبب فی تاریخ اعیان حلب" کے نام سے لکھا تھا جو اب موزہ برطانیہ میں عدد نمبر 334 کے تحت مخطوطے کی شکل میں محفوظ ہے۔
حدود العالم اِس کتاب کا قلمی مخطوطہ سب سے پہلے ایک روسی مستشرق الیگزینڈر تومنسکی نے 1892ء میں شہر بخارا سے دریافت کیا۔ یہ مخطوطہ دراصل ایک فارسی مورخ ابو الموید عبدالقیوم ابن الحسین ابن علی الفارسی کی ایک تصنیف میں موجود تھا جو 656ھ/ 1258ء میں لکھی گئی تھی۔ اِس مخطوطے کا اشاریہ ویسلی بارٹلڈ نے مرتب کیا اور وہ 1930ء میں شائع ہوا تھا۔ روسی مستشرق ولادی میر منورسکی نے 1937ء میں اِسی مخطوطہ کو مدنظر رکھا اور اِس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جبکہ اِس کتاب کا فارسی متن ایران سے 1961ء میں منوچہر ستودہ نے شائع کیا۔
تیسیرالشاغلین تیسیرالشاغلین اکبری عہد میں دسویں صدی ہجری کی نویں دہائی میں کسی وقت تحریر کی گئی، اس بارے 985ھ کا سن بیان کیا جاتا ہے۔ کتاب کے فارسی مخطوطے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں جس کی تفصیل نسخہ ہائی خطی پاکستان جلد سوم از عرفان احمد منزوی میں ہے۔ منشی غلام محی الدین قادری قصوری کی کوشش سے تیسیرالشاغلین کا فارسی متن مطبع صدیقی فیروز پور ، بھارت نے 1309 ہجری میں شائع کیا جبکہ مہر عبدالحق نے مطبوعہ تیسیرالشاغلین کا اردو میں ترجمہ کیا اور قادری غلام دستگیر حامدی نے تیسیرالشاغلین کے کتب خانہ نوشاہیہ ساھن پال شریف اور کتب خانہ سرمیدانی میں موجود محظوطات سے استفادہ کرتے ہوئے اس کی تصحیح کی جسے بیکن بکس، ملتان نے 1416 ہجری بمطابق 1997ء میں شائع کیا۔
ابن رجب 1. ""ذیل علی طبقات الحنابلۃ "": یہ کتاب ابن رجب کی وجہ شہرت ہے ۔دراصل یہ سلسلہ تراجم کی کتاب ہے جس میں مذہب حنبلیہ کے آئمہ، علمائے کرام اور ممتاز شخصیات کا تذکرہ امام احمد بن حنبل کے زمانہ سے لے کر چودہویں صدی عیسوی تک بیان کیا گیا ہے۔ گو کہ اِس سلسلے میں تمام کڑیاں محفوظ نہیں رہ سکیں لیکن مشرق اور مغرب کے مختلف کتب خانوں میں صرف مخطوطے ہی موجود ہیں۔ طبقات الحنابلۃ میں اولاً کام الخلال متوفی (311ھ مطابق 923ء) کا ہے جو " طبقات الاصحاب" کے نام سے مشہور ہے اور یہ بھی مخطوطہ کی شکل میں ہے اور نابلسی (متوفی 797ھ) نے اِس کی ایک تلخیص کی تھی جو دمشق سے 1350ھ میں احمد عبید کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ اِس کے بعد علامہ ابن الجوزی متوفی (597ھ مطابق 1201ء) کی المنتظم کا نام سامنے آتا ہے۔
منشی نول کشور منشی نول کشورکی نوجوانی کے زمانے میں لاہور سے اخبار 'کوہِ نور' نکلتا تھا جس میں آپ کے مضامین شائع ہونے لگے، جو اس قدر مقبول ہوئے کہ اس کے مدیر منشی ہرسُکھ رائے نے انھیں لاہور آ کر اخبار میں کام کرنے کی دعوت دی جو نول کشور نے قبول کر لی۔1857 کے ملک گیر فسادات شروع ہو چکے تھے، جن میں دوران امرا و روسا کے صدیوں پرانے کتب خانوں میں موجود ہزاروں نادر مخطوطے تلف ہو گئے۔ 21 سالہ نول کشور نے تمام صورتِ حال کا گہری نظر سے جائزہ لیا اور انھیں ہم وطنوں کی حالت سدھارنے کا ایک کارگر طریقہ سوجھ گیا۔آپ نے چند مذہبی رسائل اور بچوں کے قاعدے چھاپے اور انھیں خود ہی بیچنا شروع کیا۔ وہ خود اپنے کندھوں پر طبع شدہ مواد کے گٹھڑ اٹھا کر بازار اور دفاتر تک لے جاتے تھے۔ انگریزوں کو ان کی لگن پسند آئی اور انھیں دفتری سٹیشنری کے ٹھیکے ملنے لگے۔26 نومبر 1858 میں انھوں نے ’اودھ اخبار‘ کا اجرا کیا جو بڑے سائز کے چار صفحات پر مبنی ہوتا تھا۔اس سلسلے میں غالباً ان کے پریس کا سب سے بڑا کارنامہ داستانِ امیر حمزہ کی 46 جلدوں کی اشاعت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی داستان کہا جاتا ہے۔