Top 10 similar words or synonyms for مجددی

سہارنپوری    0.806510

شيخ    0.793472

نقشبندی    0.791880

جيلانی    0.790545

شیرازی    0.782722

گنگوہی    0.778056

السالکین    0.776154

قدس    0.774558

عبدالغفور    0.772523

العارفین    0.771285

Top 30 analogous words or synonyms for مجددی

Article Example
محمد سعید احمد مجددی آپ کی اعلیٰ روحانی و علمی استعداد کو دیکھتے ہوئے اندرون و بیرون ملک جلیل القدر مشائخ عظام و علمائے اعلام نے دیگر سلاسلِ طریقت کے فیوض و برکات اور خرقہ ہائے خلافت و اجازت سے نوازا۔ ان شیوخ کے اسمائے گرامی بمع آستانہ درج ذیل ہیں:
محمد سعید احمد مجددی زمانہ طالب علمی میں ہی قدرت نے آپ کو تقریر اور تحریر کی اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ ذہن رسا اور ذوقِ بلند عطا فرمایا تھا۔
محمد سعید احمد مجددی صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ (آلو مہار شریف) کی پچیس سالہ صحبت و رفاقت اور تربیت و شفقت نے آپ کے دینی، روحانی، فکری اور ادبی رجحانات میں وہ نکھار پیدا کیا کہ جس سے میدان خطابت میں آپ کو عالمگیر شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی۔
محمد معصوم مجددی دختران عفت مآب میں
محمد معصوم مجددی اتباعِ سنت اور عمل بہ عزیمت کے سلسلے میں آپ مجدد الف ثانی کے عملی نمونہ تھے، جس کا اظہار مکتوبات معصومی میں بخوبی ہوتا ہے۔ امام ربانی نے آپ کو وصیت فرمائی تھی کہ تم خوش دل ہو یا تنگ دل، ہر صورت میں جس سے بھی ملو خواہ وہ اچھا ہو یا برا، کشادہ پیشانی اور حسن اخلاق سے ملو۔ کسی پر اعتراض نہ کرو، گفتگو میں سختی ہرگز نہ کرو، خانقاہ کی ٹوٹی چٹائی کو تختِ سلطنت سمجھو۔ پرانی جھونپڑی اور سوکھی روٹی پر قناعت کرو۔ صحبت امراء اور مجلس سلطان سے پرہیز رکھو۔خواجہ معصوم کی زندگی اسی عہد پر ختم ہوئی کہ سلطان شاہ جہاں آپ کی رفاقت کی تمنا کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ سلطان عالمگیر حلقۂ ارادت میں داخل ہوا۔ حاکمِ وقت تھا مگرآپ کا اس پر اس قدر رعب طاری رہتا تھا کہ مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتا تھا اور آپ کی خدمت میں ادب کی بنا پر زبان سے شاذ و نادر ہی کچھ عرض کرتا تھا۔ لکھ کر گذارشات پیش کرتا تھا۔ مشہور روایت کے مطابق آپ کے ساٹھ ہزار خلفاء اور نو لاکھ مریدین تھے۔ کئی بادشاہ آپ کے مرید تھے۔ جب آپ حجاز مقدس تشریف لے گئے تو ہزاروں کی تعداد میں اہل حرمین آپ سے بیعت ہوئے۔ اس قدر تبلیغی مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کا مشغلہ کبھی ترک نہ کیا۔ عصر کے بعد وعظ نصیحت کی مجلس ہوتی تھی۔ خواتین کی تلقین اور نصیحت کے لئے وقت مقرر ہوتا تھا۔ لوگ باعیال آپ کے دربار میں آتے، جن کے لئے علیحدا جگہ کا انتظام ہوتا تھا اور آپکی صاحبزادیاں درمیان میں واسطہ ہوتی تھیں۔
محمد سعید احمد مجددی عشق رسول میں ڈوبی ہوئی آواز، محبت بھرا لہجہ و انداز، تجنیسِ الفاظ، سخن دلنواز، مترادفات کی دل نشینی، استعارات آفرینی، مطالب کا سیلاب، اشارات و کنایات، تلمیحات و محاورات کا وافر استعمال آپ کی خطابت کے دلنشیں عناصر اور آپ کے عمیق مطالعہ کا بین ثبوت تھے۔
محمد سعید احمد مجددی آپ کی خطابت کی جولانی، شعلہ بیانی اور سلاست و روانی کو دیکھ کر شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی نے آپ کو ابو البیان کا لقب عطا فرمایا جو آپ کے نام کا جزو بن گیا۔
محمد معصوم مجددی آپ کی ولادت سرہند شریف کی ایک بستی ملک حیدر میں شوال 1007ھ بمطابق مئی، 1599ء میں ہوئی۔
محمد معصوم مجددی مجدد الف ثانی نے اپنے وصال سے قبل ہی آپ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا اور اپنے ایک مکتوب بنام محمد سعید ومحمد معصوم عروۃ الوثقی میں بہت واضح طور پر تحریر فرمایا:
محمد معصوم مجددی آپ کے 6 صاحبزادے اور5 صاحبزادیاں تھیں۔