Top 10 similar words or synonyms for متوازن

پائیدار    0.698127

نحیف    0.662471

کثیف    0.655333

ہضم    0.654639

تعامل    0.651633

فقدان    0.646259

غذائیت    0.643537

بصارت    0.642791

افزودہ    0.641923

غذائی    0.639196

Top 30 analogous words or synonyms for متوازن

Article Example
بدعت (متوازن) مذکورہ بالا آیت بدعت کا اسلام میں مفہوم بیان کرنے کے لیے کافی ہے، بدعت کا مطلب ہوتا ہے کچھ ایجاد کرنا یا بنانا اور اسلام کے نظریۓ کی رو سے قرآن میں اللہ نے کہہ دیا ہے کہ اس نے یہ دین مکمل کردیا ہے، تو اب اس کے بعد اس میں جو بھی اضافہ کیا جاۓ یا کوئی جو بھی اضافہ کرنے کی کوشش کرے خواہ اس کی نیت نیک ہی کیوں نا ہو تو اسلام کے فلسفے کی رو سے اسکا وہ فعل ایک بدعت کہلاۓ گا اور اس کا ارتکاب کرنے والا بدعتی ہوگا۔ مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں یہ بھی واضح ہے کہ یہاں اس بدعت یا اختراع کا اچھا یا برا ہونے سے کوئی سروکار نہیں۔ اسلام کے نظریے کی رو سے اللہ کے دین میں رو و بدل کا اختیار تو پیغمبروں کے پاس نہیں کجا یہ کہ کوئی امام ، عالم ، یا حضرت اس میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرے۔
بدعت (متوازن) یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مذکورہ بالا حدیث کو اگر مستند نہیں بلکہ مستند ترین بھی مان لیا جاۓ تب بھی اس سے بدعت حسنہ اور بدعت سیئۃ (بدعت خراب) کا کوئی جواز حاصل نہیں ہوتا؛ اردو عبارت کو نہیں اگر عربی عبارت کو دیکھا جاۓ تو اس میں کسی جگہ لفظ بدع یا بدعۃ استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ لفظ آیا ہے سنت کا اور سنت کہتے ہیں پیروی کو، حدیث اصل میں صرف اتنا بیان کر رہی ہے کہ اگر کوئی اچھا کام کرے (نا کہ اچھی اختراع کرے)، مثال کے طور پر کسی غریب بھوکے کو کھانا کھلا دے ، نماز وقت پر ادا کرے تو وہ بھلائی کا کام دوسروں کے لیے ایک مثال ہوگا اور اس کا اجر کرنے والے کو بھی اور اچھے کام کی پیروی (سنت) کرنے والے کو بھی ملے گا۔ عربی زبان کی نزاکتوں اور اس کی فصاحت و بلاغت کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ اس زبان میں تو صرف ایک عرب (جمع: اعراب) مختلف ہونے سے معنی و مفاہیم بدل جاتے ہیں یہاں تو سرے سے مکمل لفظ ہی مختلف ہے۔
بدعت (متوازن) بدعت کے لفظ کی اصل الکلمہ عربی زبان کا تین حرفی لفظ بدع ہے جو اعراب کے رد و بدل سے بطور فعل ، مصدر اور صفت کے استعمال ہو سکتا ہے اور بنیادی طور پر اس کے معنی ایجاد ، اختراع اور بنانے کے آتے ہیں۔ عربی میں اس بدع سے بطور اسم تاۓ مدورہ کے ساتھ لکھاجاتا ہے اور اردو میں مستعمل لفظ بدعت اسی عربی بدعۃ کی تاۓ مدورہ کو تاۓ دراز کی صورت لکھ کر بنایا گیا ہے۔ عام طور پر فقہی کتابوں میں بدعت (heresy) کی یوں تعریف کی جاتی ہے «ادخال ما لیس من الدین فی الدین»۔ یعنی وہ چیز جو دین میں سے نہ ہو، اس کو دین میں شامل کر دینا۔ صحیح بخاری میں بھی بدعت سے متعلق احادیث مل جاتی ہیں لیکن ان سے پہلے خود قرآن میں سورت المائدہ کی آیت تین میں آتا ہے کہ ؛
بدعت (متوازن) مسلمانوں میں پیدا ہو جانے والے کچھ خود ساختہ تفرقے دین میں اختراعات (بدعت) کے لیے نا صرف یہ کہ احادیث بلکہ خود ‍قرآن سے تاویلات گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس سلسلے میں وہ قرآن کی سورت الانعام کی آیت ایک سو ایک کا حوالہ دیتے ہیں جس کا ترجمہ یوں ہے؛
بدعت (متوازن) 3۔ پھر صحیح بخاری کی ایک اور حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ جس میں جماعت کی شکل میں عبادت کرنے والوں کو دیکھ کر کہا گیا کہ ---- یہ کیا خوب بدعت ہے ---- اگر مکمل عبارت کا مطالعہ کیا جاۓ تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ ایک کلمہ ہے جو حضرت عمر نے ادا کیا۔
بدعت (متوازن) 1۔ موجد بے مثال آسمانوں اور زمین کا۔
بدعت (متوازن) اس آیت میں سے یہ تفرقے اپنے لیے جواز نکالنے کی تاویل یوں دیتے ہیں کہ اللہ نے خود اپنے لیے بدیع کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ اسکا ایک صفاتی نام بھی ہے، یعنی بدعت (احسن بدعت) کے درست ہونے کے کے لیے اللہ کو بدعتی (گو اللہ بدعتی بمعنی خالق کائنات ہے مگر عام آدمی کو کہا جاۓ کہ اللہ بھی بدعتی ہے تو وہ لازمی دھوکا کھا جاۓ گا) ثابت کر کہ اپنے تفرقے کی بدعتوں کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ اللہ نے تو تمام کائنات میں میں اپنی بدعت (بمعنی تخلیق و ایجاد) پھیلائی ہے اور پھر اس کے بعد کہہ دیا ہے کہ آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اس کے بعد فلسفہ اور نظریے کی رو سے یہ بات طے ہے کہ کائنات کی بدع یا تخلیق کا کام اللہ کا تھا اور ہے اور وہ اس نے کر دیا؛ کیا ایک انسان (خواہ پیغمبر ہی کیوں نا ہو) وہ خود کو اللہ کی طرح بدع کرنے والا سمجھے تو یہ بات نظریۂ اسلام کی رو سے درست ہوگی؟
بدعت (متوازن) 2۔ اس کے علاوہ ایک حدیث بھی اس بدعت کے تصور کو دین کا جزء ثابت کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے جو کچھ یوں بیان ہوتی ہے کہ؛
بدعت (متوازن) 4۔ بعض اوقات حضرت عثمان کی جانب سے قرآن پر اعراب لگانے کو بھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اور تاویل گھڑنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سے توجہ دی جاۓ تو یہ بات جان لینا کوئی ایسی مشکل نہیں ہے کہ عثمان کا کارنامہ مذہب میں اختراع یا بدعت نہیں ہے بلکہ یہ بات مذہب کے بجاۓ لسانیات سے تعلق رکھتی ہے۔ زیر زبر پیش سے معنی بدل لینے والی عربی زبان کو اگر تلفظ درست ادا کرنے کے لیے اعراب لگا دیۓ گئے تو اس سے دین میں کوئی ایجاد کہاں ہوئی؟ یہ تو لسانیاتی ایجاد ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قرآن کا کوئی بھی ترجمہ قرآن نہیں ہے، قرآن وہی ہے جو عربی میں ہے اور درست تلفظ کے ساتھ ہے، باقی رہے قرآن کے تراجم تو وہ قرآن نہیں کہے جاسکتے وہ تو بس اپنی سہولت کے لیے ایک لسانیاتی سہارا ہیں۔
عسکریہ پاکستان پاک عسکریہ ایک نہایت منظم ادارہ ہے جس میں اختیاری طاقت کا ایک مکمل اور متوازن نظام موجود ہے۔