Top 10 similar words or synonyms for قمر

خورشید    0.776416

کوثر    0.765660

فردوس    0.752252

ساجد    0.751860

ہاشمی    0.751671

واصف    0.748381

نجم    0.748159

احتشام    0.748144

جمیل    0.741481

زادہ    0.737675

Top 30 analogous words or synonyms for قمر

Article Example
قمر قمر کی جمع اقمار ہے۔
قمر قمر، عربی زبان میں پہلی سے تیسری رات تک کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر تین رات کے بعد آخری ماہ تک کے چاند کو قمر کہتے ہیں۔
قمر شہباز زندگی کے آخری دنوں میں قمر شہباز ادبی دنیا سے کنارہ کش ہوگئے اور اپنی تحریروں کو اکٹھا کرنے میں مصروف تھے مگر زندگی نے انہیں اس کی مہلت نہ دی۔ اور 5 مئی 2009ء بروز منگل حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔
قمر جمیل قمر جمیل 27 اگست، 2000ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔وہ کراچی میں عزیزآباد کے قبرستان میں سپردِ خاک ہیں۔
قمر جلالوی کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو پتا چلا کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر کراچی کی ایک سائیکل کی دکان پر پنکچر لگاتا ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔
قمر جلالوی قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ بلکہ ان کی کچھ غزلوں کو پاکستان کے کئی گلو کاروں اور قوالوں نے صدا بند کیا ہے۔ قمر جلالوی کی چند گائی جانے والی غزلیں بے حد مشہور ہوئیں:
قمر جلالوی کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو ۔۔۔ نورجہاں
قمر جلالوی ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہو چکی ہیں:
قمر جلالوی بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو
قمر جلالوی بہاروں میں یہ بھی ستم دیکھتے ہیں