Top 10 similar words or synonyms for عریانی

activation    0.775936

عناد    0.770872

ایستادگی    0.770223

vascular    0.768903

vitis    0.768609

microwaves    0.765549

تقصیر    0.763174

غیرفطری    0.762716

چکھنا    0.762018

نخامیہ    0.760646

Top 30 analogous words or synonyms for عریانی

Article Example
غلام محمد قاصر روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
مثنوی نواب مرزا شوق کی مثنوی "زہرِ عشق" بھی ایک مشہور لیکن بدنام مثنوی سمجھی جاتی ہے اور اسکی وجہ عریانی ہے۔ شوق کی دیگر مثہور مثنویوں میں "فریبِ عشق"، "لذتِ عشق" اور "بہارِ عشق" شامل ہیں۔
نرگس (پاکستانی اداکارہ) وہ 2003ء میں کینیڈا میں ڈیڑھ سال گزارے کے بعد پاکستان واپس آئیں لیکن گوجرانوالہ میں ایک شو کے دوران انہیں پولیس نے حراست میں لے لیا اور ان پر عریانی اور لچر ڈانس کا الزام لگا کر حوالات میں بھیج دیا گیا۔
فحش اداکار فحش اداکار یا فحش اداکارہ ایک ایسے فلمی اداکار یا اداکارہ کو کہتے ہیں جو ناظرین میں جنسی تحریک پیدا کرنے کے لیے فحش فلموں اور تصاویر میں جنسی اعمال کرے۔ ان جنسی اعمال میں محض عریانی، جنسی مباشرت اور دیگر غیر فطری جنسی اعمال شامل ہیں۔
فحش فلم فحش فلم، بالغ فلم، جنسی فلم، ننگی فلم، گندی فلم، عریاں فلم، ٹرپل یا ٹرپل ایکس فلم ایک ایسی فلم کو کہتے ہیں جس ميں جنسی تصورات کو ناظرین کی جنسی تحریک اور شہوانی لطف کے لیے دکھایا جاتا ہے۔ ایسی فلموں میں شہوانی ترغیب والا مواد دکھایا جاتا ہے جیسا کہ عریانی اور کھلے عام جنسی اعمال وغیرہ۔ فحش فلموں کی صنعت کے کارکن اسے بالغ فلمیں یا بالغ صنعت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ برصغیر میں بالغ فلم کو بلیو فلم بھی کہا جاتا ہے۔ فحش فلموں کو بلیو پرنٹ یا بلیو پرنٹ فلمیں کہنا ایک غلط العام ہے۔ بلیو پرنٹ کا اصل مطلب ہے تکنیکی نقشہ۔
اسلام میں پردہ کی اہمیت اور شرعی حکم امریکہ اور یورپ کا معاشرہ ہمارے سامنے ہے‘ جہاں ہر طرف ہرقسم کی جنسی آزادی عام ہے‘ مرد عورتوں سے مطمئن نہیں‘ عورتیں مردوں سے نا آسودہ ہیں‘ جنسی تسکین وآسودگی کے لئے تمام غیر فطری طریقے استعمال کرنے کے باوجود نا آسودگی سے دو چار ہیں‘ مرد مردوں سے‘ عورت عورتوں سے اور حیوانات تک سے اختلاط وملاپ کے باوجود ایک ہیبت ناک نا آسودگی کا شکار ہیں۔ وہاں کھلے عام ہرقسم کی بے پردگی‘ فحاشی‘ عریانی اور تمام غیر فطری طریقوں کے باوجود جوبے چینی اور بے کلی‘ عام پائی جاتی ہے‘ اسلام اپنے ماننے والوں کو ان تمام خرابیوں سے بچاتا ہے اور بچائے رکھتا ہے۔
اسلام میں پردہ کی اہمیت اور شرعی حکم اسلام نے اسلامی معاشرے کا ذوق ہی بدل دیا ہے‘ لوگوں کے جمالی احساسات کو بدل دیا ہے‘ اسلام کے ماننے والوں کے لئے حسن وجمال کی تمام حیوانی ادائیں مطلوب ومستحسن نہیں رہیں‘ بلکہ اسلام حسن وجمال کا ایک مہذب رنگ ڈھنگ اور معیار قائم کرتا ہے‘ جس میں ہرطرح کی عریانی سے بچاجاتا ہے اور سنجیدگی‘ وقار اور پاکیزہ جمال کا ذوق پیدا کرتا ہے جو انسان کے اور ایک اہل ایمان کے لائق ہوتا ہے۔اسلام ایک سچی مومنہ عورت کی تربیت اس انداز سے کرتاہے کہ وہ نا صرف اپنے حسن وجمال کا درست طریقے سے استعمال کرسکے اور اپنی تمام معاشی‘ معاشرتی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اپنی فطری جبلی ضرورتوں اور تقاضوں کو بھی فطرت کے عین مطابق پورا کرسکے۔
محمد سلیم قادری محمد سلیم قادری شروع ہی سے خاص مذہبی سوچ و فکر اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں سرشار شخصیت تھے۔آپ اوائل میں دعوت اسلامی میں اعلیٰ مبلغ تھے جب آپ نے دعوتِ اسلامی میں رہ کر دینِ اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو آپ کو بے پناہ مشکلات پیش آئیں جن کی وجہ عوام میں مغربی (یہودی،عیسائی) ذہنیت و سوچ، بے ادب گستاخ گروہوں سے وابستگی اور نام نہاد آزاد خیالی (درحقیقت فحاشی و عریانی) سب سے بڑی مشکلات بن کر سامنے آئیں عشقِ رسول اللہ ﷺ کی ترویج و اشاعت میں۔ اس کے علاوہ خوارج کی جانب سے اہلسنت کی مساجد پر قبضہ اور روافض کی جانب سے مزاراتِ بزرگانِ اہلسنت پر قبضہ وہ خاص وجہ بنیں جس نے آپ کو حقوقِ اہلسنت اور نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کی خاطر سُنی تحریک کا قیام کرنے پر مجبور کیا۔
محمد سلیم قادری شہیدِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ محمد سلیم قادری نے کبھی کسی کے حقوق تلف کرنے کی بات نہیں کی۔آپ غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے سچے مرید تھے۔ آپ کی سوچ و فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک ریاست ہو ، مسلمانوں کا ایک بینک ہو ، مسلمان نظامِ کفر سے نکل کر دوبارہ اسلامی معاشرہ تشکیل دیں ، کسی کی عبادت گاہ پر قبضہ نہ ہو ، کسی ولی اللہ کے مزار پر قبضہ نہ ہو ، شرعیت کے اصول پر پاکستان گامزن ہوجائے ، رشوت و سود و زنا و چوری و عریانی و کذب کا خاتمہ ہوجائے۔سُنی تحریک شروع ہی سے فلسطین کی مقبوضہ ریاست کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے کوشاں رہی۔سُنی تحریک فلسطینی معاملات میں حماس کی اور حماس کی حکومت کی بھی بڑی حامی ہے۔
سب رس وجہی نے اس فرضی داستان میں جگہ جگہ صوفیانہ خیالات ، موضوعات ، مذہبی روایات اور اخلاقی تعلیمات کی تبلیغ کی ہے اور یہی روش اس زمانے کے معاشرتی رجحانات کے مطابق تھی۔ چنانچہ عشقیہ واردات کے بیان میں وجہی نے نہایت حزم و احتیاط سے کام لیا ہے۔ کہیں بھی پست خیالات اور عریانی کا مرتکب نہیں ہوا۔ وجہی عالم دین صوفی تھا اور مسلم معاشرے کافرد تھا جس میں نیکی او راخلاق کے مثبت پہلوئوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور منفی پہلوئوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔چنانچہ وجہی نے اپنی کتاب میں اخلاق کے اچھے پہلوئوں کی تعلیم و ترویج پر زور دیا ہے۔ اور اخلاق کے برے پہلوؤں کی برائی کی ہے۔