Top 10 similar words or synonyms for شگاف

غلاف    0.745884

بونے    0.714411

بادلوں    0.700283

سوراخ    0.685574

ہلکے    0.679282

پتلا    0.669634

بیج    0.668828

تنے    0.666493

شیشے    0.663506

تودے    0.663432

Top 30 analogous words or synonyms for شگاف

Article Example
واقعہ شق صدر مولوی فیروز الدین اپنی فیروز اللغات میں شَق کے بارے میں لکھتے ہیں: پھٹا ہوا، شگاف پڑا ہوا، شگاف، دراڑ۔ اسی سے شَق القمر بھی ہے یعنی چاند کا پھٹ جانا۔
واقعہ شق صدر یعنی؛ کسی شئی کے شق ہونے سے مراد اُس چیز میں شگاف ڈالنا ہے۔
اسلام اور جدید سائنس (کتاب) نویں باب میں سیاہ شگاف (black hole) کے نظریہ کے ضمن میں کائنات کے ثِقلی تصادم کا ذکر ہے۔ یہاں سیاہ شگاف کا تعارف، ان کا معرض وجود میں آنا، ان کی تعداد اور جسامت، سیاہ شگاف کا ایک ناقابل دید تنگ گزرگاہ ہونا، سیاہ شگاف سے روشنی کا بھی فرار نہ ہو سکنا اور بیرونی نظارے سے مکمل طور پر پوشیدہ ہونے پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ نیز اس فصل میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ اپنی طبعی عمر گزارنے کے بعد زمین آخرکار سورج سے جا ٹکرائے گی۔
سفر الوقت مسئلہ یہ تھا کہ سیاہ شگاف میں گرنے والا کوئی بھی مادہ اس کی اکائی میں گر کر اس طرح تباہ ہوگا کہ ہم اسے سمجھ ہی نہیں پائیں گے، مگر تحقیق کے آگے بڑھنے سے اس مسئلہ کا حل بھی دریافت کر لیا گیا، یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کائنات کے تمام اجسام گھومتے ہیں چاہے وہ کہکشائیں ہوں، ستارے ہوں یا سیارے، چنانچہ ہم امید کر سکتے ہیں کہ سیاہ شگاف بھی اسی طرح گھومتے ہوں گے، چنانچہ سیاہ شگاف کے گھومنے کے اثر سے اس میں داخل ہونے والا کوئی بھی جسم اس کی اکائی سے ٹکرا کر تباہ ہوئے بغیر دوسری طرف نکل سکتا ہے، 1963ء میں روئے کِر (Roy Kerr) نے آئن سٹائن کے گھومتے سیاہ شگافوں کی مساواتوں کے کچھ حل پیش کئے جن میں واضح کیا گیا کہ اصولی طور پر ایک گھومتے سیاہ شگاف میں داخل ہوکر ایک راستے کے ذریعہ اس کی تباہ کن اکائی سے ٹکرائے بغیر دوسری طرف نکلنا ممکن ہونا چاہئے جو بظاہر کسی دوسری کائنات یا ہماری ہی کائنات کے کسی دوسرے زمان-مکان میں جا نکلے گا، سیاہ شگاف ایک راستہ تشکیل دیتے ہیں جسے ورم ہول کہا جاتا ہے چنانچہ سیاہ شگاف کو استعمال کرتے ہوئے کائنات اور زمان کے مختلف حصوں میں ماضی کی طرف سفر کرنے کے کافی امکانات ہیں.
چکوال ریلوے اسٹیشن چکوال ریلوے اسٹیشن پاکستان کے شہر چکوال میں واقع ہے۔ حکومت کی عدم توجهی ، عمارت کی چهت مین شگاف هو چکا ہی.
دور رشد و رشادت اهل تشیع میں رایج نظریہ کہ علی کی کعبہ میں ولادت کی خاطر رکن یمانی میں شگاف ہوا.اس کا رد کرتے ہوئے علی شرف الدین لکھتے ہیں:
سفر الوقت 1916ء میں جب عمومی اضافیت پیش کی گئی اور زمان-مکان کے خم کا تصور سامنے آیا، اسی سال جرمن فلکیات دان کارل شوارزچائلڈ (Karl Schwarzschild) نے ثابت کیا کہ اگر (ک) کی کمیت کو اس کے نصف قطر تک دبا دیا جائے تو زمان-مکان کا خم اتنا بڑھ جائے گا کہ کسی قسم کا کوئی بھی اشارہ چھوٹ نہیں پائے گا جس میں روشنی بھی شامل ہے اور ایک ایسا علاقہ تشکیل پائے گا جو نظر نہیں آسکے گا جسے بعد میں سیاہ شگاف کا نام دیا گیا، یہ تب ہوتا ہے جب سورج سے دگنی کمیت رکھنے والا کوئی ستارہ ڈھیر ہوکر اپنی کشش کے تحت بھنچ کر اس قدر دب جائے کہ ستارے کا سارہ مادہ ایک لامتناہی کثافت کے نقطہ پر جمع ہوجائے، چنانچہ روشنی کی کوئی بھی لہر یا کوئی جسم جو اس کے واقعاتی افق کی طرف بھیجا جائے تو وہ سیاہ شگاف کے مرکز تک کھینچ لیا جائے گا، نظریاتی طور پر لگتا ہے کہ سیاہ شگاف کے نزدیک جانے پر زمان-مکان کا خم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ اس کے واقعاتی افق تک پہنچا دیتا ہے جس کے ماوراء کچھ نہیں دیکھا جاسکتا، اگرچہ اس قسم کی صفات کے حامل ستارے کا خیال جون مچل (John Michell) کو جاتا ہے جس نے اسے 1783ء میں پیش کیا تھا تاہم شوارزچائلڈ نے ڈھیر ہوکر سیاہ شگاف بننے والے ستاروں کے نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ریاضیاتی حل پیش کئے، بعد میں پتہ چلا کہ شوارزچائلڈ نے سیاہ شگاف کا ایک ہی حل دریافت نہیں کیا تھا بلکہ دو حل دریافت کئے تھے، جو مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ سیاہ شگاف میں داخل ہونے والا جسم کس طرح ڈھیر ہوگا وہی مساواتیں متبادل کے طور پر یہ بھی بتاتی ہیں کہ سیاہ شگاف سے نکلنے والے جسم کے ساتھ کیا ہوگا (اس صورت میں اسے سفید شگاف کہا جاتا ہے)، اس طرح لگتا ہے کہ اگر ہم سیاہ شگاف کے اندر زمان-مکان کے خم کا پیچھا کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک بار پھر کسی دوسرے زمان-مکان میں کھل رہا ہے، گویا سیاہ شگاف ہماری کائنات کے زمان-مکان کو کسی دوسرے زمان-مکان سے باندھ رہا ہو، شاید کسی دوسری کائنات کا زمان-مکان.
اسلام اور جدید سائنس (کتاب) پہلے باب میں اجرام فلکی کے ضمن میں ستارے، سیاہ شگاف، دمدار تارے، سورج، گردش آفتاب، شمسی تقویم، سیارے، زمین، چاند، قمری تقویم اور تسخیر ماہتاب کو زیربحث لایا گیا ہے۔
تخلیق کائنات (کتاب) یہ باب دو فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں سیاہ شگاف (black hole) کے نظریہ کے ضمن میں کائنات کے ثِقلی تصادم کا ذکر ہے۔ یہاں سیاہ شگاف کا تعارف، ان کا معرض وجود میں آنا، ان کی تعداد اور جسامت، سیاہ شگاف کا ایک ناقابل دید تنگ گزرگاہ ہونا، سیاہ شگاف سے روشنی کا بھی فرار نہ ہو سکنا اور بیرونی نظارے سے مکمل طور پر پوشیدہ ہونے پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ نیز اس فصل میں یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ اپنی طبعی عمر گزارنے کے بعد زمین آخرکار سورج سے جا ٹکرائے گی۔ اس باب کی دوسری فصل میں کائنات کے تجاذبی انہدام کا قریبی جائزہ لیا گیا ہے۔ کائنات کے تجاذبی انہدام کے قرآنی نظریہ کے ساتھ ساتھ یہاں قرآنی الفاظ میں کائنات کے لپیٹے جانے کی سائنسی تفسیر بیان کی گئی ہے۔ عظیم آخری تباہی اور نئی کائنات کا ظہور کے بیان میں سائنسی بنیادوں پر ثابت کیا گیا ہے کہ کائنات قرآنی بیان کے مطابق ایک بار پھر دوبارہ گیسی حالت اِختیار کر لے گی اور تمام کائنات عظیم ناقابل دید سیاہ شگاف بن جائے گی۔
واقعہ شق صدر یعنی شَق الصدر کا اصطلاحی معنی ٰ بھی یہی ہے یعنی؛ سینے کو کھولنا یا شگاف ڈالنا۔ اس سے مراد شَق الصدر کا واقعہ ہے۔ جو روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن میں رونما ہوا تھا۔