Top 10 similar words or synonyms for سیام

سلجوقی    0.621763

تیموری    0.593853

سلجوق    0.565008

ہخامنشی    0.564029

بہمنی    0.563413

خانان    0.555988

موغادیشو    0.553271

ساسانی    0.550475

الحیرہ    0.548329

صفوی    0.540888

Top 30 analogous words or synonyms for سیام

Article Example
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جز سوم
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جزششم
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جز دوم
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جز اول
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جز چہارم
شیخ احمد قمی شیخ سیام (موجودہ تھائی لینڈ)جزپنجم
تھائی قومی ترانہ 1932ء سے پہلے، سیزوئِن پھرا برمِی (رائل ترانہ) سیام کے قومی ترانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا.
شیخ احمد قمی چونکہ شیخ احمد قمی ایرانی تہذیب کے نمائندے تھے لہذا یہ بات یقینی تھی کہ وہ ایرانی فن و ہنر اور تجربات کو سیام میں متعارف کرواتے۔ اس زمانے میں ایرانی تہذیب قدرتی وسائل سے استفادے کی حکمت عملی پر استوار تھی اور ایرانی مہندس و ماہرین نے پانی کی شہری علاقوں میں فراہمی اور پلوں کی تعمیر کے حوالے سے نئی نئی تکنیکی معیار پیش کئے تھے۔ ہر حکمران کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کو نئے نئے انداز میں سنوارے اور تاریخ میں یادگار ہوجائے۔ شیخ احمد قمی فن تعمیر اور تعمیراتی تکنیکوں سے بخوبی واقف تھے۔ اور آیوتھایا میں اسلامی فن تعمیر کے نمونوں کی وجہ سے وہ سیام کے حکمرانوں کے دل میں اترتے چلے گئے۔ شیخ احمد قمی نے سیام کے حکمرانوں کے دربار میں اثر ورسوخ کا فائدہ اسطرح اٹھایا کہ انہوں نے اجنبی سرزمین پر اسلام اور شیعہ مسلک کے فروغ کیلئے بڑھ چڑھ کرکام کیا اور تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ دیگر علاقوں کے مسلمان تعلیم حاصل کرنے کیلئے آیوتھایا آیاکرتے تھے۔شیخ احمد قمی نے سیام میں مسلمانوں کی سماجی حیثیت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار اداکیا۔شیخ احمد قمی کا سیام میں قیام، سیام کے شاہی دربار میں اثر ورسوخ، اور دینی خدمات منصوبہ بندی اور وسیع مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں تھا کیونکہ سیام میں بہت سے ایرانی اور دیگر اسلامی ممالک کے باشندے تجارت کیاکرتے تھےلیکن انکی نسبت شیخ احمد قمی کا اثر ورسوخ اچھی منصوبہ بندی اور انکے وسیع مطالعہ کی دلیل ہے۔تجارتی معاملات میں مہارت نے شیخ احمد قمی کو شاہی وزیر خارجہ کے مشیر امورخارجہ اورمشیر اقتصادیات کے عہدے پر پہنچادیااور کچھ عرصہ بعد انہیں وزیر کی جانب سے جاپانیوں، چینیوں،ہندوستانیوں اور مسلمانوں سے تجارت کا نگران مقرر کردیاگیااور شاہی تجارتی آمدنی میں شیخ کا حصہ بھی مقررکردیاگیا۔شیخ کے اقدامات اور حسن تدبیر کے نتیجے میں سیام کے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں سیام کی معاشی و اقتصادی صورتحال میں ترقی ہوتی گئی جس کی وجہ سے سیام کےشاہ سوم تھومکی شیخ پر نظر خاص تھی اور شاہ نے شیخ کے اقدامات اور نمایاں کردار سے خوش ہوکرمملکت کے اہم انتظامی معاملات شیخ کے حوالے کردئے۔شیخ کافی عرصہ تک مغربی ممالک کے ساتھ تجارت کے نگران رہے ۔جاپانیوں نے شاہ سیام کے ناکام خلاف بغاوت کردی لیکن شیخ احمد نے شاہ سیام کا دفاع کیا جس کی وجہ سے انکی ترقی کا راستہ مزید ہموار ہوگیااور شیخ وزیراعظم کے عہدے پر فائزکردئے گئےبعدازاں مزید ترقی کی اور شاہ سیام کے قریبی دوست شمار کئے جانے لگے۔حتٰ کہ شیخ شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز ہوئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سیام میں سنی مسلمان اکثریت میں تھے لیکن شیخ الاسلام ایک شیعہ دانشور کو مقررکیاگیا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتاہے کہ شیخ احمد قمی سیام میں تمام مسلمانوں میں وحدت کی نشانی سمجھے جاتے تھے۔ وہ صرف شیعہ مکتب کے نمائندے نہیں تھے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے نمائندے تھے اور سیام میں تمام مسلمانوں کے حقوق کے محافظ انکے سماجی وقار کو قائم رکھنے والے اور انکی مشکلات کا قلع قمع کرنے والے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شیخ احمد قمی شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز ہونے بعد بیک وقت وزیرخارجہ، وزیر تجارت، مشیر خاص، وزیر دفاع اور کماندار جامع قوۃ کی ذمہ داریاں بھی نبھارہے تھے اور یہ عہدہ بہت عرصے تک انکے خاندان میں باقی رہا۔
چھتیس راج کلی یہ بھی یادو کی شاخ ہیں اور سندھ کے جریجا جو مسلمان ہوچکے ہیں، وہ اب اپنی نسبت جمشید سے کرنے لگے ہیں اور ہری کرشن جس کا خطاب سیام یا ساما تھا کی نسبت سے سیام یا ساما کہلاتے تھے ترک کر اب جام کہلانے لگے۔ (جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 99) سمیجا بھی انکی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ (دیکھے چندر بنسی)
شیخ احمد قمی تجارتی معاملات اور بازار میں لین دین کی مہارت نے سیام کے شاہی دربار میں انکے اثرو رسوخ کا راستہ ہموار کردیا اور انہوں نے کم عرصے میں ہی سیام میں اپنی تجارت و کاروبار کو مستحکم کرلیاتھا۔شیخ احمدقمی ایران کی عظیم تہذیب کے نمائندے تھے ۔۔ایک ایسی تہذیب جو فن تعمیر، ہنر اور علم و دانش میں پیش پیش تھی، لہذا شیخ احمد نے ایرانی تہذیب کا خزانہ سیام میں منتقل کیا۔ تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ سترھویں صدی عیسوی میں شیخ کی سکونت والا علاقہ سیام کا جدیدترین علاقہ سمجھاجاتاتھا اور آج یہ علاقہ شہر کا مرکزی علاقہ ہے اور جامعہ آیوتھایا یہیں واقع ہے۔ اس محلے میں ماضی کی جاہ حشم کی خصوصیات آج بھی باقی ہیں۔