Top 10 similar words or synonyms for سورتی

الخامس    0.787243

المتوفی    0.781636

گنگوہی    0.777816

بحرالعلوم    0.777476

عمدۃ    0.775970

شيخ    0.767783

الحاج    0.763783

قزوینی    0.760831

اكبر    0.757357

ہزاروی    0.757337

Top 30 analogous words or synonyms for سورتی

Article Example
صفی الرحمٰن مبارک پوری أزہار العرب علامہ محمد سورتی کاجمع کردہ نفیس عربی اشعار پرمشتمل ایک منتخب اور ممتاز مجموعہ ہے۔ یہ شرح 1963ء میں لکھی گئی مگر قدرے ناقص رہی او رطبع نہیں کرائی جاسکی۔
محمد یونس جون پوری علمی وتصنیفی خدمات میں ان کا سب سے بڑا تحقیقی کارنامہ صحیح بخاری کا حاشیہ اور محققانہ شرح ہے، نیز ان کے علمی افادات کو ان کے کئی تلامذہ نے الگ الگ جمع کر کے شائع کیا ہے۔ جس میں اليواقيت الغالية(مرتبہ محمد ایوب سورتی لندن)،كتاب التوحيد في الرد على الجهمية (مرتبہ محمد ایوب سورتی)، نوادر الحدیث اور نواد الفقہ (مرتبہ محمد زید مظاہری ندوی) اہم ہیں۔ نیز علم حدیث میں ان کے مقام اور مرتبہ اور ان کی اسناد پر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کی کتاب الفرائد في عوالي الأسانيد وغوالي الفوائد ایک کتاب ہے۔
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی مخدوم محمد ہاشم حرمین شریفین کے سفر سے واپسی پر مرشد کی تلاش میں سورت بندر کا سفر اختیار کیا اور سید سعد اللہ شاہ قادری سورتی سلونی (متوفی 27 جمادی الاول 1138ھ / 3 مارچ 1726ء) کے پاس حاضر ہوئے، سلسلہ قادریہ میں بعیت ہوئے اور خلافت کا خرقہ حاصل کیا۔
مدرسہ شمس العلوم بدایوں عبدالماجد قادری بدایونی کے والد نے 1317ھ میں جامع مسجد شمسی بدایوں میں مدرسہ شمسیہ کی بنیاد رکھی-علامہ محب احمد قادری اس کے پہلے صدر مدرس منتخب ہوئے۔ 11 صفر 1317ھ 22 جون 1899ء میں مدرسہ کا تاسیسی جلسہ ہوا جس میں شاہ عبدالقادر قادری بدایونی، حافظ بخاری سید شاہ عبدالصمد چشتی، اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی، مولانا محدث سورتی نے شرکت فرمائی-
محمد اشرفی جیلانی محدثِ اعظمِ ہند نے ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی۔ بعدہٗ مدرسۂ نظامیہ لکھنؤ جا کر مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے درس میں شریک ہوئے۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مولانا مطیع الرسول محمد عبدالمقتدر بدایونی اور مولانا وصی احمد محدث سورتی جیسے جلیل القدر حضرات کا شمار ہوتا ہے۔ محدثِ سورتی سے آپ نے علمِ حدیث و اصولِ حدیث کا درس لیا۔ علاوہ ازیں امام احمد رضا محدثِ بریلوی کے حلقۂ درس میں بھی آپ نے شرکت کی اور امام احمد رضا سے فقہ اور اس کے جملہ متعلقات، افتا نویسی وغیرہ فنون میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔ وطنِ عزیز ہندوستان کے آپ منفرد اور مایۂ ناز عالمِ حدیث مانے جاتے تھے۔ ہزارہا احادیث اسناد کے ساتھ آپ کو حفظ تھیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو علمائے کرام کی ایک بڑی جماعت نے ’’محدثِ اعظمِ ہند‘‘ جیسے عظیم الشان لقب سے نوازا۔