Top 10 similar words or synonyms for سوجا

انجنا    0.826740

بھیگا    0.824742

متوا    0.819919

سباستین    0.817532

اگنیہوتری    0.815015

دیکشا    0.812556

saagar    0.811472

میٹز    0.811434

پردا    0.809469

ایمریم    0.809386

Top 30 analogous words or synonyms for سوجا

Article Example
مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن اس وقت یہ اسٹیشن پاکستان ریلویز کے استعمال میں ہے ۔
مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن مہتا سوجا میں واقع ہے
مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن پاکستان میں واقع ہے۔
مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلویز کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق مہتا سوجا ریلوے اسٹیشن کا کوڈ MSJ ہے
امونیم میوریا ٹیکم ٹانسلوں میں سوجن و تپکن، کچھ نگل نہ سکے، کوے کے پیچھے دکھن جو کچھ کھا لینے سے گھٹ جاتی ہے، گلا اندر اور باہر سے سوجا ہوا، گلے سے چچپاکف نکلے، یہ کن اس قدر گاڑھا، لبسداراور سخت ہوتا ہے کہ اسے تھوکا نہےں جاسکتا ، ٹانسلوں کا ورم نر خرے مےں سکڑاو پیدا کرے۔
رائے احمد خاں کھرل پہرے داروں میں ایک سپاہی جھامرے کا تھا۔ اس کی پہرے کی باری آ ئی تو اس نے سر کو گھڑے میں رکھا اور جھامرے پہنچ کر رات کے اندھیرے میں رائے احمد خان کی قبر تلاش کر کے کسی کو بتائے بغیر سر دفنا دیا۔ 22 ستمبر کو راوی کنارے مسٹر برکلے کا مجاہدین سے سامنا ہوا تو مراد فتیانہ، داد فتیانہ، احمد سیال اور سوجا بھدرو نے برکلے کو مار کر اپنے سردار کا حساب برابر کر دیا۔ گورا فوج نے ان مجاہدین کو گرفتار کر کے کالے پانی بھجوا دیا۔
امونیم کارب جوڑوں میں چیرنے پھاڑنے کی طرح کا درد، جو بستر کی گرمی سے کم ہو انگڑائی لینے کی خواہش، ہاتھ ٹھنڈے اور نیلے، رگیں پھیلی ہوئی، اگر بازو نیچے لٹکائے تو انگلیاں پھول جاتی ہیں، ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن کی جڑ میں نکلنے والا تکلیف دہ پھوڑا، ہڈی کی گہرائی میں درد ہو، بنڈلےوں اور تلووں میں اےنٹھن ہو، پاؤں کا انگوٹھا سوجا ہوا اور درد کرے، بسہری کا ابتدائی درجہ ، کھڑا ہونے سے ایڑی میں درد ہو، ٹخنوں اور پاؤں کی ہڈیوں میں چیرنے پھاڑنے کی طرح کا درد ہو جو بستر کی حرات سے کم ہو۔
رائے احمد خاں کھرل 1857ءکی جنگ آزادی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہے لیکن رائے احمد خان کھرل شہید کا غیرت مند کردار تاریخ میں ایک علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ نامساعد حالات اور قلیل ترین وسائل ہونے کے باوجود انہوں نے انگریز سامراج کی پالیسیوں سے 81 سال کی عمر میں بغاوت کی۔ 1776ءکو جھامرہ ضلع فیصل آباد میں رائے نتھو خاں کے گھر پیدا ہونیوالے رائے احمد خاں نے انگریزی سامراج کی پالیسیوں کو للکارا اور ماننے سے انکار کر دیا اور دوسرے فتیانہ اور وینیوال قبیلوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا اور انہوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ رائے احمد خان کو قابو کرنے کیلئے انگریز نے گوگیرہ بنگلہ کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔ انگریزی فوجوں نے مجاہدین کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اور گوگیرہ بنگلہ کی جیل میں بند کرنا شروع کر دیا۔ کچھ مجاہدوں کو دہشت پھیلانے کیلئے پھانسی بھی لگا دیا۔ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ نواب بہاولپور نے اسلحہ کی صورت میں مجاہدوں کی مدد کی تھی۔ جن قبیلوں نے انگریز کا ساتھ دیا ان کو انعامات ‘ القابات اور جاگیروں سے نوازا گیا۔ مئی جون‘ جولائی کے مہینوں میںگھمسان کی جنگ جاری رہی۔ گوگیرہ بنگلہ میں مجاہدین کو قید میں رکھا گیا۔ 26 جولائی 1857ءکو رائے احمد خان نے اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ جس میں رائے احمد خان کھرل بھی زخمی ہوا۔ 16 ستمبر کو کمالیہ میں تمام زمینداروں کا ایک اجلاس ہوا اگر اجلاس میں آنیوالے سرداروں نے رائے احمد خان کا ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن ان میں سے کسی نے اس اجلاس کی مخبری انگریز کو بھی کر دی۔ 17 ستمبر کو اسسٹنٹ کمشنر برکلے کی انگریزی فوجوں نے جھامرے پر چڑھائی بھی کر دی لیکن رائے احمد خان کھرل گرفتار نہ ہو سکا۔ لیکن گاﺅں کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے گوگیرہ جیل میں بند کر دیا۔ اور تمام مال مویشی کو قبضہ میں لے لیا۔ گوگیرہ‘ چیچہ وطنی‘ ہڑپہ‘ ساہیوال میدان جنگ کی شکل اختیار کر گئے۔ 21 ستمبر 1857ءکو ایک بڑا معرکہ ہوا۔ انگریز فوج کے پاس جدید اسلحہ تھا۔ اس معرکہ میں رائے احمد خان شہید ہو گئے وہ اس وقت عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ انکے ساتھ سردار سانگ بھی شہید ہو گئے۔ 22 ستمبر کو برکلے کا آمنا سامنا دریائے راوی کے کنارے پر مجاہدین کے ساتھ ہو گیا۔ جس میں مراد فتیانہ اور سوجا بھدرو کے ہاتھوں برکلے مارا گیا۔ گورا فوج نے ان کو پکڑ کر کالے پانی بھجوا دیا۔
الرحمٰن، سورہ ان روایات سے تو صرف اسی قدر معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ رحمن سورۂ حجر اور سورۂ احقاف سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ اس کے بعد ایک اور روایت ہمارے سامنے آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔ ابن اسحاق حضرت عروہ بن زبیر سے یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک روز صحابۂ کرام نے آپس میں کہا کہ قريش نے کبھی کسی کو علانیہ با آواز بلند قرآن پڑھتے نہیں سنا ہے، ہم میں کون ہے جو ایک دفعہ ان کو یہ کلام پاک سنا ڈالے؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا میں یہ کام کرتا ہوں۔ صحابہ نے کہا ہمیں ڈر ہے کہ وہ تم پر زیادتی کریں گے۔ ہمارے خیال میں کسی ایسے شخص کو یہ کام کرنا چاہیے جس کا خاندان زبردست ہو، تاکہ اگر قریش کے لوگ اس پر دست درازی کریں تو اس کے خاندان والے اس کی حمایت پر اٹھ کھڑے ہوں۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا مجھے یہ کام کر ڈالنے دو، میرا محافظ اللہ ہے۔ پھر وہ دن چڑھے حرم میں پہنچے جبکہ قریش کے سردار وہاں اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے تھے۔ حضرت عبد اللہ نے مقام ابراہیم پر پہنچ کر پورے زور سے سورۂ رحمٰن کی تلاوت شروع کر دی۔ قریش کے لوگ پہلے تو سوچتے رہے کہ عبد اللہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر جب انہیں پتہ چلا کہ یہ وہ کلام ہے جسے محمد خدا کے کلام کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو وہ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کے منہ پر تھپڑ مارنے لگے۔ مگر حضرت عبد اللہ نے پروا نہ کی۔ پٹتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔ جب تک ان کے دم میں دم رہا قرآن سناتے چلے گئے۔ آخر کار جب وہ اپنا سوجا ہوا منہ لے کر پلٹے تو ساتھیوں نے کہا ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا۔ انہوں نے جواب دیا آج سے بڑھ کر یہ خدا کے دشمن میرے لیے کبھی ہلکے نہ تھے، تم کہو تو کل پھر انہیں قرآن سناؤں۔ سب سے کہا، بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو کچھ وہ نہیں سننا چاہتے تھے وہ تم نے انہیں سنا دیا