Top 10 similar words or synonyms for رشید

ارشد    0.809251

بشیر    0.801601

شفیق    0.792922

سجاد    0.790365

محسن    0.786338

زادہ    0.777180

ندیم    0.776602

القادری    0.772361

حقانی    0.770431

امین    0.766657

Top 30 analogous words or synonyms for رشید

Article Example
رشید عطرے جی اے چشتی 15 فروری، 1919ء کو امرتسر، صوبہ پنجاب میں ربابی خاندان کے بلند پایہ ہارمونیم نوز خوشی محمد امرتسری کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام عبد الرشید عطرے تھا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدا اپنے والد ہی سے حاصل کی اور پھر اپنے عہد عظیم گائیک استاد فیاض علی خان کے شاگرد ہوگئے۔ موسیقی کے شوق میں جلد ہی انہوں نے کلکتہ کا رخ کیا جہاں اس وقت کے مشہور بنگالی موسیقار آر سی (رائے چند) بورال کے ساتھ کام کرنے کا موقع میسر آیا، یوں انہوں نے اپنے عہد کے عظیم ترین میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ بحیثیت اسٹنٹ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔
رشید عطرے 1942ء میں رشید عطرے کو پہلی مرتبہ فلم مامتا کی موسیقی بنانے کا موقع میسر آیا، اس وقت ان کی عمر صرف 23 برس تھی۔ 1947ء تک انہوں نے 8 فلموں کی موسیقی دی جن میں 4 فلموں کے وہ تنہا موسیقار تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور آگئے جہاں انہوں نے فلم بیلی کی موسیقی ترتیب دی، یہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ فلم بیلی کی ناکامی کے بعد رشید عطرے راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نےریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کرلی۔ آزادیٔ کشمیر کے حوالے سے گایا جانے والا مشہور نغمہ مرے وطن تری جنت میں آئیں گے اک دن ان کے اسی زمانے کی یادگار ہے۔
رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں 29 جولائی، 1952ء میں کینسر کا شکا رہوئیں انہیں علاج کے لیے ماسکو لے جایا گیا جہاں 13 اگست ، 1952ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔
مضامین رشید رشید احمد صدیقی کی طنز کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کہ وہ بیک وقت خود کو اور ناظر کو نشانہ تمسخر بناتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کی نگارش میں خطابت کا رنگ واضح ہے ۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بےشتر مضامین ریڈیو والوں کی فرمائش پر لکھے اور چونکہ اس قسم کے مضامین میں بہت برے طبقے سے گفتگو کے مترادف تھے ۔ لہٰذا ان میں از خود خطابت کا رنگ پیدا ہوتا چلا گیا ۔مثلاً
مضامین رشید ” عوام کا خیال ضروری ہے لیکن ہر دفعہ کیا ضروری ہے کہ جو ہماری اصطلاحوں سے ناواقف ہو، اسے ہمارے جواہر پاروں سے کھیلنے دیا جائے ۔“
مضامین رشید رشید احمد صدیقی کے ہاں جو خاص بات ہے وہ ان کاعلمی اسلوب بیان ہے جس کو سمجھنے کے لئے علم ، لیاقت اور حس کی ضرورت ہے۔ ان میں مقامیت ہے ۔ وہ مقامی اور ملک کے دیگر مسائل پر ایک خاص عالمانہ اور فلسفیانہ انداز میں بحث کرتے ہیں۔پھر قول محال کے استعمال نے ان کے طنز و مزاح میں بھی ایک آفاقیت پیدا کردی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موضوع اور اسلوب کے لحاظ سے مضامین رشید اردو کی عظیم نثر ی تخلیق ہے ۔ جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔
رشید ملک رشید ملک (پیدائش: 1924ء - وفات: 20 فروری، 2007ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز ادیب، محقق، مترجم، موسیقی کی تاریخ کے ماہر تھے۔
رشید ملک رشید ملک 1924ء کو گجرات، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تمام عمر پولیس کے محکمے میں گزاری۔ انہوں نے موسیقی کے موضوع پر کئی بے حد اہم کتابیں تحریر کیں جن میں امیر خسرو کا علم موسیقی اور دوسرے مقالات، موسیقی کے فارسی مآخذ، مسائل موسیقی اور راگ درپن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے جرائم اور مجرم اور انڈالوجی کے نام سے بھی دو کتابیں تحریر کیں۔ انہوں نے پرکاش پنڈت کی دو کتابیں پنجابی سنچری اور بیانڈ پنجاب کے اردو تراجم پنجاب کے سو سال اور بیرون پنجاب کے نام سے کئے۔
رشید کنجاہی 22 مارچ 1998ء کو لاہور (پنجاب) - پاکستان میں وفات پا گئے۔
رشید جہاں ڈاکٹر رشید جہاں ایک رسالہ ” چنگاری “ کی بھی مدیرہ تھیں جس کا مقصد خواتین میں ذہنی بیداری پیدا کرنا تھا۔ لکھنﺅ کے دوران میں قیام انہوں نے کئی ڈرامے لکھے اور انہیں اسٹیج بھی کیا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ” عورت“ اور دوسرا 1937ء میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ ان کے انتقال کے بعد ’ شعلہ جوالہ ‘ کے عنوان سے سنہ 1968ء میں اور تیسرا ’ وہ اور دوسرے افسانے ‘ سنہ 1977ء میں شائع ہوا۔