Top 10 similar words or synonyms for راکھشس

ژولوٹل    0.760132

بہاگ    0.752758

bijection    0.747228

کاماریڈی    0.738834

ہادس    0.738173

pardus    0.736026

gurus    0.735022

lilium    0.734940

خیئس    0.734518

matters    0.733904

Top 30 analogous words or synonyms for راکھشس

Article Example
راکھشس ‘‘‘راکھشس‘‘‘ : لغوی معنی قوی ہیکل، بد صورت اور نیچ ذات ۔ جب برصغیر پاک و ہند میں آریاؤں کا نفوذ ہوا تو انھوں نے یہ نام یہاں کے قدیم باشندوں دراوڑ اور ان کی مخلوط نسل کے لوگوں کو دیا۔ ہندی دیو مالا میں راکھشس نیم دیوتائی قوت کے مالک ہیں۔ دیوتا فیاضی ، بخشش ، رحمدلی ، سچائی کی صفات رکھتے ہیں اور بدی کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس راکھشس محض شر کا مظاہرہ کرتے اور دیوتاؤں کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ تیز انسانوں کے دشمن ہیں اور انھیں بدی کی راہ پر لگاتے ہیں۔ آریائی قوم کے راجا اور دیگر قوم کے افراد جو اپنے آپ کو رنگ اور نسل کی بنیاد پر بھارت کی قوموں سے افضل مانتے تھے، دراوڈی قوم کے لوگوں کو جو آریائوں کے دشمن مانے جاتے تھے، راکھشس نام قرار دے دیا گیا۔ اور آریائوں کو دیوتا قرار دے دیا گیا۔ ان راکھشسوں میں اہم، رام سے جنگ کرنے والے راون اور کرشنا کے ماما کنس، کرشن ہی کے دور کا نرکاسر جس کو کرشن کی بیوی ستیہ بھاما نے مارا، اور اسی خوشی میں ہندو قوم دیوالی کا تہوار مناتی ہے۔
راون ہندو کتاب رامائن میں ایک بنیادی اساطیری حریف کردار ہے جسے راکھشس کے طور پر پیش کیاگیا ہے، جو لنکا کا باشاہ تھا۔
1924ء کی بالی ووڈ فلموں کی فہرست سمدرا منتھن فلم کی کہانی وشنو پُران، بھگوت پُران اور مہابھارت میں بیان کی گئی دیومالائی داستان (سمندر مکھن کی طرح بلونے ) ہے ۔ اسور کے راجہ بلی کے دور حکومت میں راکھشس بہت طاقتور ہوگئے تھے ۔ ایسے میں دیوتاؤں کے راجہ اندر کو ان کے غصہ کی وجہ سے ایک سادھو درواسا نے بدعا دی۔ جس کی وجہ سے اندر کی سلطنت کمزور پڑنے لگی اور اسور راکھشس اس پر قابض ہوگئے۔ سارے دیوتا وشنو سے مدد مانگنے پہنچے تو وشنو نے کہا کہ تم ان اسوروں سے دوستی کرکے ان کی ہر شرط مان کر اپنا کام نکلواؤ۔ انہوں نے چال چلی اور اسوروں کے راکھشس کو ئ یہ لالچ دیا کی اگر وہ سمندر کو مکھن کی طرح پلوئیں گے تو اس میں سے امرت (آب حیات) ملے گا اور یوں راکھشس جاویداں زندگی پالیں گے۔ اسور راضی ہوجاتے ہیں وہ مندراچل پہاڑ کو متھنی مرکز اور اور ایک بڑے ناگ واسوُکی کو نیتی بناتے ہیں ، وشنو اپنے دوسرے اوتار کور یعنی کچھوے کے روپ میں پہاڑ کو پیٹھ پر اٹھا کر اس کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ اسور سمندر کو بلونا شروع کرتے ہیں تو ناگ کا زہر سمند میں مل کر اسے زہریلا کردیتا ہے اور اسور اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آخر میں ذکر کو شیوا پی لیتے ہیں تبھی سے ان کا جسم نیلا ہوگیا۔ جب سمندر بلونے سے امرت نکل آتا ہے تو باقی بچے اسوروں کو بھٹکانے کے لیے ایک اپسرا (حور) وشو موہنی آجاتی ہے جو دھوکے سے سار امرت دیوتاؤں کو بانٹ دیتی ہے۔ یوں دیوتا امر ہوجاتے ہیں اور راکھشس اسور پر حاوی آجاتے ہیں۔
کرشن کرشن جب سن بلوغ کو پہنچے تو انہوں نے اپنے ماموں کا قتل کیا اور اپنے نانا اُگراسین کو تخت پر بٹھا دیا۔ یہیں ان کی دوستی ارجن اور پانڈووں سےہوئی جو کورووں کی سلطنت کے سردار اور کرشن جی کے رشتے کے بھائی تھے۔ کرشن نے ودربھ کی راجکماری رکمنی سے شادی کی۔ یہ شادی رکمنی کو اس کی مرضی سے اغوا کرکے کی گئی کیونکہ وہ شیشو پل سے بیاہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بعد میں کرشن نے 16100 کنواریوں سے بھی شادی کی، جن کو نارا کسور راکھشس نے اغوا کر رکھا تھا۔ جب کرشن نے اس راکھشس کو قتل کر کے اس کی قید میں موجود ان خواتین کو آزاد کروایا تو ان سے کوئی بھی شادی کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ کرشن جی نے ان سے شادی کرکے سماج میں ان کی حیثیت کو بحال کروایا۔
دیو دیو لفظ کا فارسی زبان میں جن کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اوستائی زبان میں لفظ دےوس سے ماخوذ دیو پہلوی زبان سے فارسی میں داخل ہوا اور اردو میں فارسی سے دخیل ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے دیو عموماً بھوت، جن یا راکھشس، جس کو دیکھ کر ڈر لگے اکثر سینگوں والا پری کا مفروضہ مرد کو کہا جاتا ہے۔
1924ء کی بالی ووڈ فلموں کی فہرست ہدایت کار آر ایس پرکاش کی فلم "اُوشا سوپنا"(ترجمہ: اوشا کا خواب) کی کہانی مہابھارت عہد کی ہے۔ دتیاس نامی راکھشس قبیلے کا راجہ وانا (واناسُر ) کی ایک خوبصورت بیٹی اُوشا تھی۔ اُوشا کوایک خواب آتا ہےکہ ایک خوبصورت نوجوان اس کے پاس بیٹھا ہے اور اس کے آنکھوں میں دیکھ رہا ہوتا ہے، کہ اس کی آنکھ کھل جاتی ہے ۔اُشا کو یہ خواب ہر رات آتا تھا اور وہ اس نوجوان سے محبت کرنے لگی تھی۔ مگر وہ جانتی نہیں تھی کہ وہ نوجوان کون ہے ۔ اس کی ایک سہیلی چترلیکھا جو وزیر کی بیٹی ہوتی ہے مصوری میں ماہر ہوتی ہےوہ روز اس خواب کے بیان کے مطابق اس نوجوان کی تصویر بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن تصویر صحیح نہیں بن پاتی ۔ آخر کار چترلیکھا کوششوں سے ایک تصویر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے جسے دیکھ کر اُوشا کہتی ہے کہ یہ وہ نوجوان نہیں پر اس نوجوان جیسا ہی نظر آتا ہے یہ کون ہے؟ چترلیکھا بتاتی ہے کہ یہ وشنو کے اوتار اور دوارکا کے راجہ کرشن کی تصویر ہے۔ چترلیکھا پھر تصویر بناتی ہے جسے دیکھ کر اُوشا کہتی ہے کہ یہ وہ نوجوان نہیں پر اس نوجوان جیسا ہی نظر آتا ہے یہ کون ہے؟چترلیکھا بتاتی ہے کہ یہ دوارکا کے راجہ کرشن کے بیٹے پردھیومن کی تصویر ہے۔ چترلیکھا پھر تصویر بناتی ہے جسے دیکھ کر اُوشا کہتی ہے کہ ہاں یہی میرے خوابوں کا نوجوان ہے یہ کون ہے؟چترلیکھا بتاتی ہے کہ کرشن کے پوتے اور پردھیومن کے بیٹے انیرُدھ کی تصویر ہے۔ اوُشا چترلیکھا سے کہتی ہے کہ یہی میرے خوابوں کا شہزادہ ہے اگر یہ نہیں ملا تو میں مرجاؤں گی۔ چترلیکھا اپنی سہیلی کی خواہش پر دوارکا جاتی ہے اور انیرُدھ سے ملتی ہے اور اسے اُوشا اور اس کے خواب کے متعلق بتاتی ہے ، انیرُدھ کہتاہے کہ کہیں وہ وہی لڑکی تو نہیں جو روز میرے خوبوں میں آتی ہے۔ چترلیکھا انیرُودھ کو لے کر اپنی ریاست واپس پہنچتی ہے۔ اور چھپا کر راجکماری کے محل میں اسے اُوشا سے ملواتی ہے ۔ محل کا ایک شخص یہ دیکھ لیتا ہے اور راجہ واناسُر کو بتادیتا ہے۔ واناسُر کی فوج اور انیرُدھ کے درمیان مقابلہ ہوتاہے انیرُدھ بہادری سے مقابلہ کرتا ہے لیکن دھوکا سے اسے باندھ کر قید کرلیاجاتا ہے۔یہ خبر دوارکا پہنچتی ہے تو کرشن اور کرشن کا بھائی بلرام دتیاس پر فوج کشی کرتا ہے گھمسان جنگ کے بعد راجہ واناسُر شکست کھا جاتا ہے اور کرشن ، انیرُدھ اور اُوشا کو لے کر واپس دوارکا آتے ہیں جہاں دونوں کی شادی ہوجاتی ہے۔ یہ داستان بھگوت پُران میں لکھی ہے۔