Top 10 similar words or synonyms for دلیرانہ

authoritative    0.751574

تڑپانا    0.733169

issigeac    0.724173

صیاد    0.723759

دعائوں    0.722808

بوئر    0.721508

لوکی    0.719674

ایچیومنٹ    0.719602

alleged    0.718796

ٹیرینٹ    0.718308

Top 30 analogous words or synonyms for دلیرانہ

Article Example
دلیرانہ خون ریزی فلم دلیرانہ خون ریزی (Heroic bloodshed) ہانگ کانگ ایکشن سنیما کی ایک صنف ہے، جس میں کہانی ڈرامائی موضوعات جیسے بھائی چارہ، فرض، عزت، استحکام اور تشدد کے گرد گھومتی ہے۔
محمد اقبال ’’اس وقت اسلام کی ہزارہا مربع میل سر زمین اور لاکھوں فرزندان اسلام کی زندگی اور ہستی خطرے میں ہے اور ایک درد مند اور غیور ہمسایہ ہونے کی حیثیت سے مسلمانان ہند پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افغانستان کو بادِ فنا کے آخری طمانچے سے بچانے کے لیے جس قدر دلیرانہ کوشش بھی ممکن ہوکر گزریں۔‘‘
چپ رہو (ٹی وی ڈراما) چپ رہو کو اپنے بے باک موضوع مگر معاشرے کی اہم اور افسوس ناک حقیقت کی منظر کشی کے باعث بے حد سراہا گیا۔ مقدم اوقات (پرائم ٹائم) کے دوران ایسے موضوع پر ڈراما پیش کیے جانے کو ایک دلیرانہ فیصلہ قرار دیا گیا جس کی کہانی معاشرے کی بہت سی لڑکیوں پر بیتی ہوگی لیکن اس موضوع کو زیرِ بحث لانے سے عموماً ہچکچایا جاتا ہے اور مظلوم ہی کو چپ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
شرقپور شریف شرقپور کی بنیاد مغل بادشاہ شاہجہاں (جنوری-1592، 22 جنوری 1666 عیسوی) کے آخری دور میں رکھی گئی تھی۔ 1904ء میں شرقپور ضلع لاہور کی تحصیل تھا، 1911-12 عیسوی میں شرقپور ضلع گوجرانولہ کے تحت تھا۔ اس کے بعد یہ سب تحصیل اور اب ضلع شیخوپورہ کی تحصیل بن گیا ہے۔ پاکستان کی تحریک آزادی میں شرقپور کے نوجوانوں نے ایک یادگار اور دلیرانہ کردار ادا کیا۔ شرقپور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ برطانوی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک میں سب سے پہلے نوجوانوں کا جو اسکواڈ پکڑا گیا تھا ان کا تعلق شرقپور سے تھا۔
رچرڈ اول شاہ انگلستان عرب مورخ اسے ملک الرک کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ رچرڈ شیر دل انفرادی مبارزت میں واقعی بے مثال تھا۔ لیکن فوجی قیادت اس کے بس کا روگ نہ تھا، رچرڈ کی قیادت میں صلیبی جنگ ناکام ہوگئی تھی۔ اس نے جنگ میں خطروں کو للکارا تھا، خوب دادشجاعت حاصل کی لیکن اپنے مقصد اولین میں بری طرح ناکام رہا تھا۔ جب اس نے فوج کی کمان سنبھالی تو وہ بالکل بےبس ہو کر رہ گیا تھا پھر اس نے یہ ظلم ڈھایا کہ عکہ کے مسلمان اسیران جنگ کو جو دراصل یرغمال تھے تہ تیغ کردیا۔ لیکن اس بدترین ناکامی کےباوجود اس کے دلیرانہ کارنامے ہمیشہ یاد رہيں گے۔
محمد یونس (چینائی کا شہری) تامل ناڈو حکومت نے محمد یونس کو 2016ء کے یوم جمہوریہ بھارت کے موقع پر انّا تمغا برائے بہادری (Anna Medal for Gallantry award) عطا کیا۔ یہ اعزاز انہیں چینائی کے طوفان کے دوران "بے لوث، دلیرانہ اور شریفانہ" (selfless, brave and noble act) انداز میں 600 افراد کی کشتیوں کے ذریعے جان بچانے کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ کچھ خیروں میں بچائے جانے والے لوگوں کی یہ تعداد 2,100 بتائی گئی ہے۔ اس موقع پر یونس نے نوجوانوں کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آنے کے لیے ایک موبائیل ایپ متعارف کرنے کا بھی اعلان کیا۔
عمرو بن جموح یہ مدینہ منورہ کے رہنے والے انصاری ہیں اورحضرت جابرکے پھوپھا ہیں ۔ یہ اپاہج تھے ۔ یہ جنگ احدکے دن اپنے فرزندوں کے ساتھ جہاد کے لیے آئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو لنگڑا نے کی بناء پر میدان جنگ میں اترنے سے روک دیا۔ یہ بارگاہ رسالت میں گڑگڑا کر عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مجھے جنگ میں لڑنے کی اجازت دے دیجئے ۔ میری تمنا ہے کہ میں بھی لنگڑاتا ہوا جنت میں چلا جاؤں ۔آپ نے ان کو جنگ کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ خوشی سے اچھل پڑے اور کافروں کے ہجوم میں گھس کر دلیرانہ جنگ کرنے لگے یہاں تک کہ شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ ۔
گملی ایل گملی ایل (عبرانی: רַבַּן גַּמְלִיאֵל הַזָּקֵן؛ "خدا اجر دیتا ہے"۔) ایک فریسی، شرع کا عالم اور مشہور عالم ہلیل کا پوتا تھا۔ یہ اُن سات ربی عالموں میں سے پہلا جسے ”ربان“ یعنی ”ہمارا اُستاد“ کا لقب دیا گیا تھا۔ پولس اس کا شاگرد تھا۔ جب یہودیوں کی صدر عدالت رسولوں کی یسوع مسیح کے لیے دلیرانہ گواہی کے لیے خفا ہوئی اور چاہتی تھی کہ رسولوں کو قتل کیا جائے تو گملی ایل نے اُنہیں عاقلانہ مشورہ دیا کہ اگر اُن کی تعلیم غلط ہے تو وقت گزرنے پر تباہ ہوجائے گی اور اگر خدا کی طرف سے ہے تو خدا تو وہ اسے تباہ نہ ہونے دے گا۔ یہ اپنے وقت کا بڑا عالم تھا اور بردباری اور تحمل کی تعلیم دیتا تھا۔ یسوع مسیح کی خدا کے سات سالوں کے دوران میں وہ صدر عدالت یعنی سنہیڈرن کا صدر تھا۔
بابا طاہر بابا طاہر کا انداز بیان سادہ ہے، خیالات بھی سادہ ہیں، ان میں فلسفہ یا گہرائی بھی نہیں ہے۔ آپ کے کلام میں بالعموم ان ہی واردات اور کیفیات کا ذکر ہے جن سے ہر صاحب دل کو واسطہ پڑھتا ہے۔ جو شخص ان کے کلام کو پڑھتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے ان کے دل کی ترجمانی کی ہے۔ آپ کے قطعات میں اخلاق و عرفان، ہجرو فراق، درد و غم میں دینی حالت و کیفیت کا اظہار بہت دلکش انداز میں کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فقیرانہ اور دلیرانہ زندگی اختیا ر کر رکھی تھی جس کا نقشہ وہ اپنے اشعار میں بیان کر تا ہے۔ راہ سلوک پر چلنے اور محبوب حقیقی تک جا ملنے کے لیے جو تکالیف اور اذیتیں اٹھانی پڑھتی ہیں، بابا طاہر ان کا نمونہ اپنے اشعار میں یوں بیان کرتا ہے ۔
حکیم جوہر وارثی جوہر صاحب حکیم ہونے کے ساتھ ہی ساتھ وطن کی آزادی کے ایک جانباز سپاہی بھی تھے۔جن دنوں پنڈت نہرو الہ آباد نینی جیل میں قید تھے تو ان کی ہدایت کے مطابق موصوف کا بچپن کا زمانہ یوں گذرا کہ وہ ایک لنگوٹی باندھ کر خستہ حال فقیر کی شکل میں جیل سے کچھ فاصلہ پر اپنی گودڑ گٹھری لیے ہوئے سر راہ خیمہ زن رہتے اور راہ گیر چند سکے جوہر صاحب کے ہاتھ میں رکھ دیتے مگر دراصل کچھ مخصوص کانگریسی کارندے پیسوں کی جگہ دن بھر کی کاروائیوں اور حالات کی رپورٹ مڑے تڑے کاغذ کی شکل میں جوہر صاحب کو دیتے تھے ،جسے وہ رات میں مخصوص ذرائع سے پنڈت نہرو کے پاس پہنچا دیا کرتے تھے۔آزادی کے بعد بھارت سرکار نے جوہر صاحب کی دلیرانہ خدمات کو سراہتے ہوئے ماہانہ وظیفہ مقر کیا تھا جو تا حیات ملتا رہا۔جوہرصاحب کو سیاست سے بھی گہرا تعلق تھا اور بہرائچ میونسپل بورڈ کے ممبر بھی رہے۔1988ء میں آپ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کیا تھا۔ آپ ریاست سطح کے بہترین کھلاڑی تھے۔سرکاری اداروں اردو اکادمی،کھیل ندیشلیہ وغیرہ سے آپ کو ماہانہ امداد ملتی تھی ۔