Top 10 similar words or synonyms for حریث

حذافہ    0.685067

معرور    0.684302

النضر    0.666861

رباح    0.665702

إسحق    0.663291

حضیر    0.661892

الزجاج    0.660485

الياس    0.658756

بنوہاشم    0.658510

الحمام    0.654129

Top 30 analogous words or synonyms for حریث

Article Example
وفد حارث بن حسان وفد حارث بن حسان 9ھ میںمدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہواانہیں حریث بن حسان اور حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہتے ہیں۔
نکاح متعہ اہل تشیع کے مطابق متعہ حلال ہے کیونکہ یہ حضور کی وفات تک حلال تھا اور صحابہ کرام یہ نکاح کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت حضرت عبداللہ ابن عباس، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت عمرو بن حریث، حضرت سلمہ بن امیہ، حضرت ابو سعید خدری وغیرہ حضور کی وفات کے بعد بھی نکاح متعہ کو جائز سمجھتے تھے۔۔ اس کے علاوہ اہل مکہ رسول اللہ کی وفات کے بعد بھی متعہ کو حلال سمجھتے تھے۔۔
نکاح متعہ کچھ اہل سنت یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حضرت عمر کے دور تک جائز رہا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ ہم حضور کے دور میں اور حضرت ابوبکر کے دور میں ہم مٹھی بھر آٹا اور کھجور پر متعہ کرتے رہے ہیں حتی کہ عمر ابن الخطاب نے عمرو بن حریث کے مسئلے کے بعد اس سے منع کر دیا۔ ۔ اہل سنت کے اس گروہ کے مطابق انہوں نے مفاد عامہ میں یہ کام کیا۔ روایت کے مطابق حضرت عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ کے زمانے میں دو متعے حلال تھے جن کو اب میں حرام کرتا ہوں اور ان سے نہ رکنے والے کو سزا دوں گا۔۔۔۔۔ مولانا مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں کہ متعہ کو حرام قرار دینے یا مطلقاً مباح ٹھہرانے میں سنیوں اور شیعوں کے درمیان میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس میں بحث و مناظرہ نے بےجا شدت پیدا کر دی ہے ورنہ امر حق معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ انسان کو بسا اوقات ایسے حالات سے سابقہ پیش آ جاتا ہے جن میں نکاح ممکن نہیں ہوتا اور وہ زنا یا متعہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ایسے حالات میں زنا سے بہتر ہے کہ متعہ کر لیا جائے۔۔ امام احمد بن حنبل متعہ کو حلال سمجھتے تھے۔۔
نکاح متعہ صحیح مسلم ، کتاب النکاح میں ایک حدیث جابر بن عبداللہ سے بیان ہوتی ہے جس سے (شیعاؤں کے مطابق) سنی مستند حدیث سے متعہ کے نا صرف رسول اللہ کے دور بلکہ اس کے بعد حضرت ابو بکر کے زمانے میں اور پھر حضرت عمر کے دور میں جاری رہنے کا ثبوت ملتا ہے اور قرآن یا حدیث رسول اللہ سے نہیں بلکہ متعہ کی منسوخی حضرت عمر کے حکم سے ہونے کا پتا چلتا ہے۔ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ،قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الأَيَّامَ عَلَى عَهْدِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ ہم متعہ کرتے تھےیعنی عورتوں سے کئی دن کے لیے ایک مٹھی کھجور اور آٹا دے کررسول اللہ اور ابو بکر کے زمانہ میں یہاں تک کہ حضرت عمر نے اس سے عمرو بن حریث کا قصہ میں منع کیا۔