Top 10 similar words or synonyms for حرص

عریانی    0.714115

تواضع    0.701496

فیاضی    0.688812

درویشی    0.686749

پرہیزگاری    0.682967

ابتذال    0.682433

تقصیر    0.680133

عیاشی    0.680114

رقیق    0.676951

چکھانا    0.675640

Top 30 analogous words or synonyms for حرص

Article Example
ملا اختر منصور ترجمہ :واللہ ہم اس شخص کو اس قیادت کے لیے نہیں چنیں گے جو خود اسے چاہے یا اس کا حرص کرے ۔
آغا حشر کاشمیری آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ، رستم و سہراب، مرید اشک، اسیر حرص، ترکی حور، آنکھ کا نشہ ، یہودی کی لڑکی، خوبصورت بلا، سفید خون بہت مشہور ہوئے۔
مہاویر اپری گرہ کا مطلب ہے، ہوس سے دور رہنا۔ قناعت پسندی بھی ہوسکتا ہے۔ دنیا کی دولت کی چاہ انسان کو دیوانہ بنادیتی ہے، یہاں تک کہ خود کو غم کے گڑھے میں دھکیل لیتا ہے۔ جمع خوری ایک لعنت ہے، اور سارے دکھ درد کی وجہ حرص و ہوس ہی ہے۔ اس سے دور رہنا گویا کہ دکھوں سے دور رہنا۔
سعد بن عبادہ 2ھ میں بدر کا معرکہ پیش آیا،سعدنے غزوہ کا سامان کیا تھا؛ لیکن کتے نے کاٹ کھایا، اور وہ اپنے ارادے سے باز آئے، آنحضرتﷺ نے سنا تو فرمایا کہ افسوس ان کو شرکت کی بڑی حرص تھی، تاہم مال غنیمت میں حصہ لگایا اوراصحاب بدر میں شامل کیا۔
حسد یحییٰ بن یحییٰ، مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹ بات ہے اور نہ ہی تم ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور حرص نہ کرو اور حسد نہ کرو اور بغض نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہو جاؤ۔
نیرنگ خیال آزاد نے تمثیل کے پردے میں مذہب و اخلاق ،علم و فن اور شعر و ادب کے نکات بڑی پرکاری اور چابکدستی سے پیش کئے ہیں۔ انہوں نے مجرد خیالات کو متشکل اور متجسم کرکے پیش کیا ہے۔ ان کو انسانی خصوصیات سے آراستہ کرکے دکھایا ہے۔ مثلاً آرام، مشقت، حرص ، قناعت ، سچ، جھوٹ، امید ، یاس ، بڑھاپا ، بچپن ، علمیت وغیرہ کو انسانی پردے میں پیش کیا ہے۔ اُن کی تمثیل نگاری کی ایک مثال ملاحظہ ہو جس میں منظر خیالی ہونے کے بجائے حقیقی محسوس ہوتا ہے۔
يحيىٰ بن شرف نووی شیخ محمد بن صالح العثیمین " فرماتے ہیں: امام نووی " اصحاب شافعی میں سے ایسے پائے کہ امام ہیں کہ جن کے اقوال معتبر ہیں اور شافعیہ میں سے سب سے زیادہ تالیف کی حرص رکھنے والے ہیں۔ بہت سے علوم میں آپ نے لکھا ہے۔ حدیث اور اس کے علوم، فقہ اور لغت وغیرہ میں تالیفات موجود ہیں۔ بظاہر اللہ اعلم وہ مخلص ترین مصنف تھے جبھی تو ان کی تالیفات کو مشرق ومغرب میں پھیلی ہوئی ہيں ، شاید ہی کوئی مسجد ہو جہاں ریاض الصالحین موجود نہ ہو۔ کسی کی کتاب کو لوگوں میں مقبول عام حاصل ہونا بظاہر اس کے اخلاص نیت کی دلیل ہے۔
لطائف (تصوف) اس کا مقام انسان کے سینے میں بائیں پستان کے برابر دو انگشت کے فاصلے پر مائل بہ وسط سینہ ہے اس کی فناء لطیفہ سِر پر اللہ تعالیٰ کی صفات کے شیونات و اعتبارات کا ظہور ہے اس کی علامات ہر دو سابق لطیفوں کی طرح اس میں ذکر کا جاری ہونا اور کیفیات میں ترقی رونما ہونا ہے (یاد رہے کہ یہ مشاہدہ اور دیدار کا مقام ہے) اس کی تاثیر طمع اور حرص کے خاتمے نیز دین کے اُمور کے معاملے میں بلا تکلف مال خرچ کرنے اور فکر آخرت کے جذبات کی بیداری سے ظاہر ہوتی ہے اس کا نور سفید ہے۔
محمد بن ادریس شافعی امام شافعی خود فرماتے ہیں کہ میں نے 20 سال سے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ میں نے طمع و لالچ کو کبھی اپنے پاس نہیں آنے دیا۔ اِس کی بدولت مجھے ہمیشہ آرام پہنچا اور اِسی وجہ سے ہمیشہ میری عزت، ذلت میں بدلنے سے محفوظ رہی۔ مزید فرماتے ہیں کہ: حرص و طمع وہ برائی ہے جس سے نفس کی دیانت پوری طرح ظاہر ہوتی ہے، خصوصاً ایسی حرص جس میں بخل کی آمیزش بھی ہو، فرماتے تھے کہ خانگی و زندگی کی ناگواری زیادہ تر اِسی وجہ سے ہوتی ہے کہ گھر کا مالک رقم زیادہ دینا نہیں چاہتا اور گھر والے لوگ زیادہ مانگتے ہیں۔ شوہروں کو مال سے محبت ہوتی ہے اور بیویاں لالچ سے زیادہ مانگتی ہیں۔ اِس سے خانگی معاملات میں کشمکش ہوجاتی ہے اور گھر روحانی تکالیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مزید یہ بھی فرماتے ہیں کہ: قرآن کی اِس آیت کو اچھی طرح سمجھو جس میں مسلمانوں کا وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھتے ہیں (آپ کا اشارہ سورۃ الحشر کی آیت 59 کی طرف تھا)۔
اہل سنت والجماعت کون ہیں؟ ● ’’اہل سنت والجماعت‘‘ اتحاد واتفاق پیداکرنے میں سب سے زیادہ حرص رکھنے والے ہیں، ان کاعقیدہ ہے کہ: جہاد ، جمعہ وجماعات ہر بھلے اور فاجر کے پیچھے جائز ہے، وہ اہل بدعت اور گنہگاروں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ اتفاق کو پسند کرتے ہیں، اور افتراق کو حد درجہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اپنے کو ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی طرف نسبت کرنے میں غلطی پر ہیں ، کیونکہ نسبت تو کرتے ہیں مگر ان کا منہج سمجھتے ہیں نہ ہی اسے اختیار کرتے ہیں، لہذا جوبھی اپنے کو ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ان کے طریقہ کو اختیار کرے ، اور ان کے طریقہ پر چلے، ( آج) شرفِ لقب کی طمع نے اس شخص کو بھی ’’اہل سنت والجماعت‘‘ میں داخل کردیا ہے جو در اصل ان میں سے نہیں ہے۔ 《16》