Top 10 similar words or synonyms for تجمل

الازھری    0.745335

الواسطی    0.735842

مقبل    0.735389

محمودالحسن    0.713879

مدیحہ    0.711439

umara    0.709591

مندریس    0.709243

داڑی    0.708293

الاصفهانی    0.708067

گادری    0.707340

Top 30 analogous words or synonyms for تجمل

Article Example
تھنیل کمال میجر جنرل تجمل حسین ملک کا تعلق تھنیل کمال سے ہے
شریف حسین شاکر بغدادی آپ کے والد کا 1935ء میں جب انتقال ہو ا۔قل کے دن آپ کے چچا جناب آغا سید تجمل حسین صاحب نے آپ کو اپنے والد کی جگہ صاحب سجادہ مقرر کر دیا اور سلسلہ قادریہ چشتیہ میں بیعت کر کے صاحب مجاز و معنعن بھی کردیا، اور جب تک زندہ رہے آپ کی تربیت کرتے رہے۔
دار العلوم منظر اسلام مولانا احسان علی مظفر آبادی، اختر حسین، اشرف علی بنگالی، آفتاب الدین، اکبر حسین خان رامپوری، امام بخش، امیر حسن بنگالی، محمد ثناء اللہ، حامد حسین رامپوری، حامد علی الہ آبادی، حسنین رضا خان، حشمت علی خان قادری، حمید الدین چاٹگام، خیل الرحمان، دین محمد پنجابی، رحیم بخش بنگالی، اصغر علی نواکھلی، برکت اللہ میمن سنگھ بنگال، تجمل حسین بریلی، تمیز الدین پترا بنگال، تمیز الدین میمن بنگال
نجم آفندی نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔
مینا مینا پنجرے میں رہ کر انسانی آواز کی نقل اتارتی ہے. مینا درخت کے تنے میں گھونسلا بناتی ہے. یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ تنے میں سوراخ ہد ہد کرتا ہے اور مینا بیٹھ کر گھونسلا بنا لیتی ہے.گندم اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد جب ہل چلایا جاتا ہے تو یہ وہاں آجاتی ہے اور کیڑے مکوڑے اور بیج کھاتی ہے. مینا کی چونچ اور پنجے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں (محمّد مجیب احمد ٢٠١٥). مینا مٹتی کے دھیر میں گھونسلا بناتی ہے اور دوہرے انڈے دیتی ہے. اس مینا کی چونچ اور پنجے سرخ ہوتے ہیں. نوع ایک ہی ہوتی ہے ( تجمل حسسیں ٢٠١٥)۔
کھووار زبان مرزا محمدسیر جنھیں پروفیسر اسرارالدین نے مولانا محمد سیئر ( ۱۰۱) لکھا ہے چترال میں مہسیار کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کو چترال کاعظیم ترین شاعر خیال کیا جاتاہے۔ ان کا زیادہ تر کلام فارسی میں ہے البتہ ان کا کھوار رومان ’’یار من ہمیں‘‘ایک عظیم کھوار دستاویز ہے جو چترال میں زبان زدخاص وعام ہے۔ ان کے فارسی کلام میں حمدکے اعلٰی نمونے ملتے ہیں۔ مگر ان کے ہاں بھی حمدیہ اشعار نہیں مل سکے۔البتہ ان کے کھوار کلام میںتصوف، معرفت اور عشق مجازی کے بے شمار رنگ ملتے ہیں جو مجازی سے بڑھ کر حقیقی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ان کے بارے میں ڈاکٹر فتح محمد ملک لکھتے ہوئے ان کی شاعری کو شیرازخراسان اور ہندکی صوفیانہ شاعری کا حسین امتزاج قرار دیا ہے(۱۰۲)َ۔ شہزادہ تجمل شاہ محوی کھوار ادب کا ایک اور معتبرنام ہے۔ آپ کٹور مہتر چترال کے فرزند تھے اور بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ وہ ۱۷۹۰ء میں پیدا ہوئے اور ۱۸۴۳ء میں شہید ہوئے۔ان کا فارسی دیوان موجودہے مگرکھوار میں کچھ غزلیات اور قطعات بھی محفوظ ہیں۔ آپ کے کلام میں عارفانہ کلام کثرت سے ہے جس میں معرفت اور عشق و مستی کا خاص رنگ ملتا ہے۔ ان کے ہاں دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی فکر عام ہے۔کلاسیکی دور کے شعراء جین ،آمان، زیارت خان زیرک،گل اعظم خان ،حسیب اللہ ، باچہ خان ھما ، مرزا فردوس فردوسی ، بابا ایوب، مہر گل ،اور منیر عزیزالرحمن بیغش شامل ہیں ان میں سے زیادہ تر کا کلام ابھی شائع نہیں ہوا۔
موچی دروازہ اندرون موچی دروازے میں قائم مبارک حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اس حوایلی کی بنیاد میربہادر علی، نادر علی اور بہار علی نے محمد شاہ بادشاہ کے دور میں رکھی تھی۔ جب حویلی کی تعمیر مکمل ہو گئی اور وہ اس حویلی میں آکر آباد ہوئے تو اسی مای بہادر علی کے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ اس تقریب نیک سے یہ حویلی مبارک حویلی کہلائی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وقت جب شاہ شجاع الملک کابل سے بے دخل ہو کر آیا تو اسی حویلی میں قید کیا گیا اور اسی حویلی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کو قید کر کے جواہر ٴکوہ نورٴ اس سے چھین لیا۔یہ حویلی سکھوں کے قبضہ میں رہی اور بعدازاں نواب علی رضا خان قزلباش کے ملکیت میں آگئی۔ کنہیا لال اس حویلی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نواب علی رضا قزلباش نے اپنی زندگی میں اس عمارت میں بہت سی تبدیلیاں کیں۔ مشرق کی جانب بڑا دروازہ نکلا اور بڑے بڑے دالان ، صحن اور عمارات بنوائی۔ نواب علی رضا خان قزلباش کے انتقال کے بعد ان کے جانشین نواب نوازش علی خان نے اس حویلی کی تعمیر و مرمت پر خصوصی توجہ دی۔ اس دور سے اس حویلی میں مجالس محرم منعقد کروانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مبارک حویلی سے متصل حویلی نثار حیسن ہے۔ جہاں دس محرم کو لاہور میں تعزیہ، علم اور ذولجناح کا جلوس برآمد ہوتا ہے۔ قدیم دور سے ہی اندرون موچی دروازہ شعیان علیۿ کا مرکز ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس علاقے میں دو سو کے قریب امام بارگاہیں ہیں۔ ان حویلیوں کے علاوہ حویلی تجمل شاہ اور اندھی حویلی کے نام سے مشہور حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔
کھووار زبان کھوار ادب میں اردو میں مروجہ تمام اضاف ادب موجود ہیں البتہ کھوار گیتوں کی صنف قدیم شاعری میں سب سے نمایاں اور کثرت سے ہے ۔مگر جدید شاعری میںاب نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں اور نئی نئی اضاف کا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ غزل کے حوالے سے دیکھیں تو کھوار ادب کی معلوم تاریخ کا پہلا شاعر ہی غزل گو ہے اور انکی غزل اس سطع پر تھی جہاں ان کی فارسی شاعری تھی ۔ یعنی اتالیق محمد شکور غریب نے اپنے دیوان کے آخر پر جو ’کھوار ادب‘ کا باب شامل کیا ہے اس میں غزل زیادہ ہے ۔وہ نہ صرف فارسی شعری روایت کے اساتذہ میں سے تھے بلکہ فارسی غزل کے نامور شاعر تھے۔ اس لیے جب وہ اپنی مادری زبان کی طرف رجوع ہوئے تو ان کی کھوار غزل میں فارسی غزل کا تمام تجربہ اور فن منتقل ہو گیا۔ مگر پہ کام فارسی زدہ سا لگتا ہے ان کے بعد مولانامحمد سیئر سیئر اور باچہ خان ہما نے غزل کو بلند مقام ہے تجمل شاہ محوی، حبیب اللہ فدا برنسوی ، مرزا فردوس فردوسی، بابا ایوب ایوب اور عزیرالرحمن بیغش نے کھوار غزل میں انپے قلم کے جوہر دکھائے۔ جدید ادب میں بھی غزل کا جادہ سر چڑھ کر بول رہا ہے البتہ روایتی مضامین کی جگہ جدید مضامین نے لے لی ہے ۔ جدید غزل لکھنے والوں میں امین الرحمن چغتائی کا مقام کسی تعارف کا معتاج نہیں ۔ انکی غزل میں تنوع،جدت،نازک خیالی،ندرت اور چابک دستی کا حسین امتنراج ہے۔ ذاکر محمد زخمی ، پروفسیراسرارلدین، فضل الرحمن بیغش، سعادت حسین مخفی، جمشید حسین مخفی اور محمد چنگیز خان طریقی جدید غزل کے اہم شعراہیں ان کی غزل بلاشبہ اردو اور فارسی غزل کی ہمسری کا دعوی کر سکتی ہے۔ موجودہ دور میں بھی غزل کا سفر جاری ہے جس میں بے شمار نئے لکھنے والے اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔ان میں سے چند نام یہ ہیں : پروفیسر اسرارالدین،جاوید حیات کا کا خیل، جاوید حیات، رحمت عزیزچترالی، امین اللہ امین، سبحان عالم سبحان، انورالدین انور، محمد شریف شکیب رب نواز خان نوازاور عطا حسین اظہر شامل ہیں۔سبحان عالم ساغر کی غزل سے سے ایک حمدپیش ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔ ترجمہ: ہر دور میں ہر زمانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے، کوہ طور میں، چاہ کنعان میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔پھول کی خاموشی میں، اس کے رنگ اور خوشبو میں اور بلبل کے ترانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔زندہ کر کے مارے گا بھی تو ہی اور مار کر زندہ بھی تو ہی کرے گا ، بہار اور خزاں میں تیرا جلوہ نمایاں ہے(۴۰)۔ مترجم ( رحمت عزیز چترالی)
کھووار زبان کھوار ادب میں اردو میں مروجہ تمام اضاف ادب موجود ہیں البتہ کھوار گیتوں کی صنف قدیم شاعری میں سب سے نمایاں اور کثرت سے ہے ۔مگر جدید شاعری میںاب نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں اور نئی نئی اضاف کا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ غزل کے حوالے سے دیکھیں تو کھوار ادب کی معلوم تاریخ کا پہلا شاعر ہی غزل گو ہے اور انکی غزل اس سطع پر تھی جہاں ان کی فارسی شاعری تھی ۔ یعنی اتالیق محمد شکور غریب نے اپنے دیوان کے آخر پر جو ’کھوار ادب‘ کا باب شامل کیا ہے اس میں غزل زیادہ ہے ۔وہ نہ صرف فارسی شعری روایت کے اساتذہ میں سے تھے بلکہ فارسی غزل کے نامور شاعر تھے۔ اس لیے جب وہ اپنی مادری زبان کی طرف رجوع ہوئے تو ان کی کھوار غزل میں فارسی غزل کا تمام تجربہ اور فن منتقل ہو گیا۔ مگر پہ کام فارسی زدہ سا لگتا ہے ان کے بعد مولانامحمد سیئر سیئر اور باچہ خان ہما نے غزل کو بلند مقام ہے تجمل شاہ محوی، حبیب اللہ فدا برنسوی ، مرزا فردوس فردوسی، بابا ایوب ایوب اور عزیرالرحمن بیغش نے کھوار غزل میں انپے قلم کے جوہر دکھائے۔ جدید ادب میں بھی غزل کا جادہ سر چڑھ کر بول رہا ہے البتہ روایتی مضامین کی جگہ جدید مضامین نے لے لی ہے ۔ جدید غزل لکھنے والوں میں امین الرحمن چغتائی کا مقام کسی تعارف کا معتاج نہیں ۔ انکی غزل میں تنوع،جدت،نازک خیالی،ندرت اور چابک دستی کا حسین امتنراج ہے۔ ذاکر محمد زخمی ، پروفسیراسرارلدین، فضل الرحمن بیغش، سعادت حسین مخفی، جمشید حسین مخفی اور محمد چنگیز خان طریقی جدید غزل کے اہم شعراہیں ان کی غزل بلاشبہ اردو اور فارسی غزل کی ہمسری کا دعوی کر سکتی ہے۔ موجودہ دور میں بھی غزل کا سفر جاری ہے جس میں بے شمار نئے لکھنے والے اپنا اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔ان میں سے چند نام یہ ہیں : پروفیسر اسرارالدین،جاوید حیات کا کا خیل، جاوید حیات، رحمت عزیزچترالی، امین اللہ امین، سبحان عالم سبحان، انورالدین انور، محمد شریف شکیب رب نواز خان نوازاور عطا حسین اظہر شامل ہیں۔سبحان عالم ساغر کی غزل سے تین حمدیہ اشعارپیش ہیں۔وہ لکھتے ہیں:۔ ہر دورا،ہر زمانہ جلوہ تہ نمایان شیر طورا ، چاہ کنعانہ ، جلوہ تہ نمایان شیر گمبو دیو خاموشیہ ، ہو رنگو چ ووریا بلبلو ہے ترانہ ، جلوہ تہ نمایان شیر زندہ کرے ماریس تو،ماری اجی زندہ کوس بہار اوچے خزاں،جلوہ تہ نمایان شیر(۷۰) ترجمہ: ہر دور میں ہر زمانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے، کوہ طور میں، چاہ کنعان میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔پھول کی خاموشی میں، اس کے رنگ اور خوشبو میں اور بلبل کے ترانے میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔زندہ کر کے مارے گا بھی تو ہی اور مار کر زندہ بھی تو ہی کرے گا ، بہار اور خزاں میں تیرا جلوہ نمایاں ہے۔ مترجم ( رحمت عزیز چترالی)
خان محمد خان انہی مقاصد کے حصول کے سلسلے میں انہوں نے کئی مرتبہ مہنڈر، کوٹلی، راجوری اور سریاہ تک سفرکیا۔ کئی بار وہ دشمن کے حملے کے دوران بھی ان میں موجود رہے۔ان کی خصوصی توجہ پونچھ سب سیکٹر میں آزاد فوجوں کی انتظامی ضروریات فراہم کرنے پر رہی۔وہ زیادہ تر ہجیرہ، تیتری نوٹ اور چڑی کوٹ کے علاقے میں رہے جہاں انہوں نے اور مولانا غلام حید جنڈالوی نے مجاہدین کو راشن وایمو نیشن سپلائی کے سلسلے میں بے مدددی۔ وہ فائرنگ کے دوران بھی ان محاذوں پر پیدل چل کر اسلحہ مہیاکرتے رہے۔اورمجاہدوں کے اونچے پہاڑی مورچوں تک بھی گئے۔ایک دفعہ کھڑا ہنچ (ہجیرہ) محاذ کے دورے کے وقت دشمن کے گولے ان کے ارد گرد گرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اپنا دورہ جاری رکھا۔پونچھ پر حملہ کے وقت بریگیڈئیر حیاالدین اپریشن کمانڈر تھے۔اس سیکٹر میں پہلے سے موجود کرنل محمد صادق خان ستی اور میجر تصدق حسین (بعد میں لیفٹیننٹ کرنل )بڑی جانفشانی سے اس محاذ پر کام کرتے رہے۔آزاد فوج کے سیکٹر کمانڈر کرنل رحمت اﷲ خان مرحوم بُردباری اور مُستعدی کے مینار تھے اور دن رات تیتری نوٹ ہیڈ کوارٹر میں فرائض منصبی انتہائی جذبہ حُب الوطنی اور لگن سے نبھاتے رہے۔اُنہوں نے دشمن کو ان کے مورچوں تک ہی محصور رکھا۔خان صاحب کی انتہائی خواہش اور کوشش تھی کہ پونچھ شہر کو جلد از جلد فتح کیاجائے۔اُنہوں نے اس کا اپنی ایک ڈائری میں بھی ذکر کیا ہے کہ پونچھ کی فتح کے ساتھ باقی جگہوں کی فتح آسان ہوجائے گی۔پلان کے مطابق پونچھ پر مشرق سے حملہ باغ بریگیڈ نے کرنا تھا۔ جس کی کمان بریگیڈئیر تجمل حسین کر رہے تھے۔جنوب سے بھینچ کے حملے کی کمان کرنل نورحسین کررہے تھے۔ کُنوہیاں کے رُخ سے میجر غلام محمد کے بریگیڈئیر نے دباؤ ڈالنا تھا اور بڑا حملہ رابطانوالی چوٹی سے ۳ آزاد بریگیڈکی ذمہ داری تھی۔ پٹھانوں کے لشکر نے حملہ میں حصہ لینے سے لیت و لعل کا مظاہرہ کیا ۔حملہ ۱۷ مارچ۱۹۴۸ء کو شام ۵ بجے شروع ہوا۔ اس وقت خان صاحب وہاں موجود تھے اور جیسا کہ اس وقت کے سینئر افسروں کی یادداشتوں سے عیاں ہے انہوں نے خان صاحب کے تجربے اور ہدایات سے بہت استفادہ کیا۔ بقول کرنل محمد گلزار جو وہاں توپ خانہ کی ایک بیٹری کے کمانڈر تھے،پونچھ پر حملے کے احکام کے اختتام پر خان صاحب نے ایک طویل دعامانگی۔ یہ دعا وہی تھی جوسلطان محمود غزنوی نے سومنات کے مندر پر حملہ کرنے سے پہلے مانگی تھی۔ بدقسمتی سے مختلف وجُوہ، خاص کر بارش ، آندھی، اولوں اوررات کی تاریکی کی بنا پر یہ حملہ کامیاب نہ ہوسکا۔ آزاد مجاہدین کو دشمن کی بارودی سرنگوں سے کافی نقصان پہنچا اور آپس میں رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ دشمن کی خالی کی ہوئی جگہوں پر قبضہ نہ کرسکے۔ کرنل گلزار آگے چل کر لکھتے ہیں کہ باوجود اس ناکامی کے خان صاحب نے سب کے حوصلے بڑھائے۔انہوں نے توپ خانہ کے جوانوں کو دشمن کی خالی کی ہوئی پوزیشنوں پر قبضہ کرے کی تجویز پیش کی۔لیکن رات ہوچکی تھی اور راستہ جاننے والے گائیڈ بھی مہیا نہ ہوسکے۔ لہذا اس پر عمل نہ ہوسکا۔ اس حملے کی ناکامی میں مجاہدین کی دوبارہ صف بندی میں خان صاحب نے اہم کردار اداکیا۔وہ جہاں بھی جاتے مجاہدین کے حوصلے بڑھ جاتے تھے اور وہ ان کی ہدایات پر پیرومرشد کی طرح عمل کرتے تھے دوسرے دن جب ایک ہندوستان ڈکوٹا ہوائی جہاز پونچھ کے ہوائی اڈا پر اترا تو خان صاحب کی ہدایت پر اس پر توپ خانہ کا فائر گراکر اُسے برباد کیاگیا۔ اسی طرح خان صاحب کی ہدایت پر توپ خانے کا فائر پونچھ شہر میں بھی گرایاگیا اور جیسا کہ انہوں نے پیشن گوئی کی تھی، دشمن نے سفید جھنڈا بلند کیا اور ٹروس کی پیش کش کی۔ خان صاحب اس ٹروس کے حق میں نہ تھے لیکن چونکہ ٹروس کا فیصلہ حکومت کی سطح پر ہوا تھا۔لہذا اس کی پابندیکرنی پڑی اور نتیجتاً نقصان اٹھایا۔ اس ٹروس کے دوران دشمن نے پونچھ میں مزید فوجی کمک پہنچا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی اور مجاہدین کوپیچھے دھکیل دیا۔