Top 10 similar words or synonyms for بیتاب

چھما    0.734288

جھرونکوں    0.729536

sketches    0.727824

سوجا    0.723513

آئفا    0.717921

ودھیارتھی    0.717826

فسوں    0.716856

چمتکار    0.712410

رچا    0.712216

دھڑکے    0.710740

Top 30 analogous words or synonyms for بیتاب

Article Example
شکوہ نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نلکنے کے لئے
شکوہ کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
ترقی اردو بورڈ کی سفارشات بیکار، بیشک، بیگانہ، بیباک، بیتاب، بیوقوف، بیدخل، بیخود، بیدل، بیدم، بیہوش، بیکل
انور شمیم ایئر چیف مارشل انور شمیم ،پاکستان کی فضائیہ کے قابل فخر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے ہیرو رہے۔ وہ پاک فضائیہ کے نہایت سخت گیر افسران میں سے رہے ہیں۔ ہر لمحے کچھ بڑا کرنے کو بیتاب رہنے والے۔
سریہ علقمہ بن مجزز مدلجی ربیع الاخر 9 ہجری میں حبشہ کی جانب سریہ علقمہ بن مجزز المدلجی بھیجا گیا اطلاع ملی کہ الحبشہ کے لوگ ہیں جنہیں اہل جدہ نے دیکھا رسول اللہ ﷺ نے علقمہ بن مجزز کو تین سو سواروں کے ہمراہ بھیجا جب وہ ہوں پہنچے تو سمندر چڑھ گیا یہ لوگ بھاگ کر ایک جزیرے پہ پہنچ گئےجب سمندر اتر گیا تو کافی دن گذرنے سے کچھ لوگ اپنے اہل و عیال کی طرف جانے کیلئے بیتاب ہو گئے عبد اللہ بن حذافہ السہمی کو ان گھروں میں جانے والوں پر امیر بنایا گیا
محمد نقیب اللہ شاہ تلاش معاش کے سلسلے میں قدس اللہ سرہ العزیز نے اپنے والدین سے اجازت لے کر 1920ء میں کوئٹہ تشریف روانہ ہوگئے جہاں آپ قدس اللہ سرہ العزیزنے مختلف ہنر سیکھے اور پھر آرمی میں سروس شروع کردی۔اس طرح آپ اپنی زندگی کے روز شب گزارنے لگے۔آپ قدس اللہ سرہ العزیز جو کماتے اپنے والدین کی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد باقی سب اللہ کی مخلوق کی خدمت میں خرچ کردیتے۔اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنے کا شوق آپ کو دیوانگی کی حد تک تھا۔آپ باقاعدگی سےدرویشوں کی خدمت میں حاضری دیتے۔چمن کوئٹہ میں قیام کے دوران آپ پیر سید علی شاہ الگیلانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کی درخواست کی۔ پیر سید علی شاہ الگیلانی نے فرمایا! آپ کا فیض ہمارے پاس نہیں ہے ۔آپ کو مطلوب اور فیض رساں جلد مل جائے گا۔اس عرصے میں آپ اپنے روحانی مقصد کی تکمیل کے لیے ہر وقت بیتاب اور بے قرار رہتے۔
یاس یگانہ چنگیزی اسکول کے زمانے سے انہوں نے شاعری کا آغا کیا اور بیتاب عظیم آباد ی سے کے شاگرد ہوئے۔ سنہ 1903ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے، جس میں انہیں در در کی خاک چھاننی پڑی۔ چونکہ ان کی شادی لکھنؤ میں ہوئی تھی، اس لیے وہ لکھنؤ میں جا بسے لیکن وہاں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔ انہوں نے ہمیشہ وہ راہ ترک کر دی جو پہلے سے مستعمل تھی، اس لیے لکھنؤ اسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی سب سے منفرد شاعر ہیں، جن کی آواز سب سے الگ محسوس ہو تی ہے۔
علی نقی اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسو س نہیں ہے ابن السکیت بغدادی علم نحوولغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا . ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام سے ابن السکیت محبت اہل بیت علیہ السّلام رکھتے تھے اس سوال کو سن کر بیتاب ہوگئے اور انھوں نے متوکل کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے دھڑک کہ دیا کہہ حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام کا کیا ذکر , مجھے تو علی علیہ السّلام کے غلام قمبررض کے ساتھ ان دونوں سے کہیںزیادہ محبت ہے . اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہوگیا , حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے . یہی ہو اور اس طرح یہ ال ُ رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے .
سید فضل حسین شاہ سید فضل حسین شاہ 1956 میں اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے، وہ ایک بیتاب شخصیت ہونے کی وجہ سے ہر وقت کچھ کرتے رہنا چاہتے تھے، انہوں نے چہٹے کی ٹہنڈی (جہاں آج کل ممتاز شاہ کا مکان ہے) میں بورڈنگ ہائوس کے نام سے ایک مکان بنوایا اور وہاں منتقل ہو گئے، یہاں انہیں اپنے خاندانی مخالفین پر اپنی اخلاقی، علمی، دینی اور سماجی برتری کی وجہ سے بھی ایک اطمینان حاصل ہوتا تھا ساتھ ہی گائوں بھر کے لوگ ان کے پاس اسی جگہ روحانی مسائل، مشکلات اور الجھنوں کے حل کیلئے بھی آتے اور من کی مراد پاتے، دن کو وظائف کرتے اور ساری ساری رات نوافل ادا کرتے ہوئے گزرتی، زندگی کے آخری برس مارچ کے بعد ان کی طبیعت خاصی خراب رہنے لگی، انہیں دمہ، مرض شقیقہ اور دیگر امراض بھی لاحق تھے، انہیں علاج معالجے کیلئے راولپنڈی میں حکیم نتھو کے پاس لایا گیا تو اس نے انہیں کینسر کا مریض قرار دیا، 1958 کے ستمبر میں ان کی دوسری بیٹی کی علوی اعوان برادری میں انہی کی خواہش پر شادی ہوئی اور اگلے ہفتے 28 ستمبر کو زندگی کے آخری سانس پورے کئے، انہیں بیروٹ کے اجتماعی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
سونو نگم سونو نے اپنے اداکاری کے پیشہ کا آغاز چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر بیشمار فلموں میں کام کر کے کیا جس میں سنہ١٩٨٣ ء کی 'بیتاب' شامل ہے۔ جوان ہونے کے بعد انہوں نے ﮐﮁﮭ اور فلموں میں بھی کام کیا جن میں (اداکاروں میں سنی دیول ، منیشا کوئرالا اور اکشےکمار کے علاوہ ﮐﮁﮭ اور ستارے بھی شامل تھے) ، 'کاش آپ ہمارے ہوتے' جس میں انہوں نے بطور ہیرو 'جوہی ببر' کے ساتھ کام کیا۔ اور آخری فلم 'فلورہ سینی' اور 'شویتا کیسوانی' کے ساتھ کی جس کا نام 'لوان نیپال' تھا۔ اس میں بھی انہوں نے بطور ہیرو اپنی کارکردگی دکھائی۔ مگر افسوس یہ تین کی تین فلمیں باکس آفس میں ﮐﮁﮭ خاص کامیاب نہ ہوسکیں۔ حالانکہ انکی اداکاری کو اُن کی آخری کارکردگی میں خاصی پذیرائی ملی۔ اپنی آخری فلم 'لو ان نیپال' کے بعد سے اب تک انہوں نے اداکاری کو نہیں چھوا۔ مگر حال ہی میں انکے بارے میں سننے میں آیا ہےکہ وہ ایک اور فلم میں بحیثیت ہیرو اپنی قسمت آزمارہےہیں۔ فلم کا نام آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوگا۔ جس کے بارے میں اندازا کیا جارہا ہے کہ یہ ایک نابینا گلوکار کی کہانی ہے۔