Top 10 similar words or synonyms for بلیدی

سمہ    0.636347

نوشیروانی    0.612417

غلزئی    0.599508

تنولی    0.595780

دودائی    0.594054

jadoon    0.592571

qala    0.588044

میروانی    0.587350

لنڈ    0.586092

علیانی    0.583592

Top 30 analogous words or synonyms for بلیدی

Article Example
گبول بلوچ گبول قبیلہ بلیدیوں کے ساتھ بر سرِ پیکار رہا جس میں بلیدی غالب آ گئے اور گبول قبیلہ پورے سندھ میں بکھر گیا۔ لنڈ، بوذدار، پتافی اور گبول قبائل نے بلوچستان سے ہجرت کے بعد سندھ کے ضلع گھوٹکی کا رُخ کیا۔ وہاں پہلے سے آباد دھاریجوں ، مہروں، کلاچیوں اور ڈاہروں سے متعدد لڑائیوں کے بعد اُن کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔
نصیر آباد کے گولہ گولہ کو بلیدی کا ایک طائفہ ظاہر کیا جاتا ہے جو بلوچستان میں نصیر کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ گولوں کے نو حصے ہیں ، پندرانی کرمیانی ، ست مانی ، جولیانی ، جارانی ، کاشانی ، رکھیانی اور شمانی ہیں ۔ اس کے علاوہ کلیانی ، کلوانی ، کہہ گولا ، وسوانی ، چھٹیا یا شیرخانی اور چزیانی بھی منسلک ہیں ۔ ان قبائل کا دعویٰ ہے ان کے آبائ عیب خان اور موسیٰ خان میر چاکر کے ساتھ بطور سکاؤٹ یا رہنما آئے تھے ۔ جنہیںسندھی میں گولاؤ کہا جاتا ہے اور یہی نام ان کا ماخذ ہے ۔ وہ بیلیدوں کے مورث میرعلی بھی کہلاتے ہیں ۔
گوادر گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت کا حا مل رہا ہے۔ معلوم تاریخ کی ایک روایت کے مطابق حضرت داﺅد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آگئے ۔مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ کاﺅس اور افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا ۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار Admiral Nearchos نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات ،گوادر، پشوکان اور چابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا ۔303ق م میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202ق م میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی ۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ءمیں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا ۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچ کیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچ کی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پذیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچ کی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچ کیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کے لیے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات ، گرم مصالحے ، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔
جمالی بلوچ قبیلہ یہ قبیلہ رند کا ایک گروہ ہے۔ اس قبیلہ کی اکثریت ( سابقہ ) ضلع سبی کے سب ڈویژن نصیر آباد میں کھوسہ ، بلیدی اور جکھرانی قبائل کے قرب و جوار میں آباد ہے۔ خان قلات کے نصیر آباد سب ڈویژن کو بر طانوی حکومت کو پٹے پر دینے سے پہلے یہ قبیلہ قلات کے زیر حکو مت تھا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے کیرتھر بیراج کے کھوکنے سے اس سب ڈویژن میں زراعت کے لیے پانی کی کافی مقدار مہیا ہو گئی۔ جس سے اس علاقہ کے جمالی قبیلہ اور دوسرے قبائل کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا ، یہ لوگ زراعت میں ماہر ہیں۔ انہوں نے خانہ بدوشی کو خیر باد کہہ دیا اور بہت سے دیہات آباد کر کے ان میں رہنے لگے ۔ یہ ایک بہت بڑا قبیلہ ہے ۔ اس کے کچھ لوگ جیکب آباد اور زیریں سندھ کے کئی اضلاع میں رہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو پنجاب تک بھی اقامت پزیر ہیں۔