Top 10 similar words or synonyms for اپنائیت

kellogg    0.784713

گوپیوں    0.783501

aging    0.783119

چالوس    0.781937

chevron    0.781634

matters    0.781258

fell    0.780969

سمابا    0.780676

ہرنل    0.780372

barriers    0.780205

Top 30 analogous words or synonyms for اپنائیت

Article Example
پیامِ مشرق علامہ اقبال ، خواجہ حافظ کے اسلوبِ کلام سے بھی متاثر تھے اور گوئٹے کے فکر وفن سے بھی ۔ انہیں گوئٹے کے طرزِ احساس میں اپنائیت محسوس ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے ایک سو سال بعد "پیام مشرق" کے نام سے اپنا فکر انگیز مجموعہ کلام شائع کیا اور اسے مشرق دنیا کی طرف سے جہانِ مغرب کو ایک تحفہ قرار دیا۔
گرڈ کمپیوٹنگ دونوں منقسم کمپیوٹر کاری کی تقریباًً ایک جیسی قسمیں ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے فائدہ بھی اٹھا سکتیں ہیں۔ تحفظ، انتقال اختیارات ، بین الادارتی تعلقات، ادارہ جاتی مجازسازی، تجریدی ادارہ جاتی معیارات، تجریدی تعلقات میں شفافیت (transparency)، معیاری خدمت کے حصول کیلئے مذاکرات وغیرہ طنابی خواص ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس p2p خود مختاری، متحرک تعلقات، اپنائیت یا مطابقت (adaptability) اور مقیاسیت (scalability) وغیرہ میں بہتری کا دعوہ کرتا ہے ۔ دونوں ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے کافی کچھ نہ صرف سیکھ سکتی ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ آگے چل کر مدغم بھی ہو جائیں، کیونکہ طناب مائل بہ خدمت ہے۔
راجہ مان سنگھ راجہ مان سنگھ برہمن ہندو تھا۔اُسکی وفاداری اور ملنساری اکبر بادشاہ کے دل پر نقش ہو گئی۔جس کی رفاقت نے بادشاہ کو اپنائیت اور محبت سکھائی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ اُنکی وجہ سے اکبر بادشاہ کو ہندوستان میں پذیرائی حاصل ہوئی اور تیموری خاندان کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی۔بہادری اور جوانمردی میں اپنی مثال آپ تھا لہذا سپہ سالار بھی مقرر ہوا۔اُسکی بہن کی شادی جہانگیر سے ہوئی اور پھر جہانگیر کے بیٹے خسرو کے اتالیق بھی مقرر ہوئے۔ جبکہ ایک روایت کے مطابق اکبر نے اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لیے راجہ مان سنگھ کی بہن مریم الزمانی سے شادی کی تھی یہ ملکہ ہو کر بھی ہندو دھرم پر قائم تھی۔
باوا جی سلوئی سلوئی میں دینی تعلیم کیلئے مدرسہ قائم کیا اس علاقے میں سب سے پہلا مدرسہ تھا جس نے قرآن کی تعلیم اور دینی خدمات سرانجام دیں بچوں کے ساتھ مدرسہ میں قیام اور کھانا ان کی سادگی کی علامت تھا ہر جمعہ جھلاری جاکر بچوں کے ساتھ کپڑے دھونا معمول تھا پورے گاؤں کی غمی خوشی میں شرکت ان کی اپنائیت کی پہچان تھی مڈل اسکول کو ہائی اسکول بنوانے میں آپ کا کاوش شامل تھی ، سلوئی کا راستہ نہ تھا پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ اور پھر سڑک کی تعمیر آپ کے نمایا ں کاموں کی یادگار ہے،سڑک کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کے ہر اس شخص کے پاس گئے جس کا تعلق سلوئی سے تھا اور افرادی قوت مہیا کر کے پہاڑی کو کھودنا باواجی سلوئی کا بڑا کارنامہ ہے جو انکے علاوہ کوئی اور نہ کر سکتا تھا۔اسی طرح کورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی بس چلانے میں بڑا حصہ باوا جی سلوئی کا ہے۔
محمد الیاس قادری پاک و ہند کے علماء و عوام میں آپ "امیر اہلسنت" کے نام سے مشہور ہیں۔ مریدین نام سے پہلے "شیخ طریقت" کا اضافہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو "حضرت صاحب" کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو "بانیء دعوت اسلامی" بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی آل و اولاد اور متعدد اسلامی بھائی آپ سے عرض و معروض کے وقت "باپا" کے اپنائیت بھرے الفاظ سے بھی پکارتے ہیں۔ پاک و ہند کے مختلف علماء کرام و مفتیان کرام نے مختلف مواقع پر امیر اہلسنت کو جن القابات سے تحریرا" یاد کیا ہے، ان میں چند ملاحظہ ہوں: عالم نبیل، فاضل جلیل، عاشق رسول مقبول، یادگارِ اسلاف، نمونہء اسلاف، مبلغ اسلام، رہبر قوم، عاشق مدینہ، فدائے مدینہ، فدائے غوث الوری، فدائے سیدنا امام احمد رضا خان، صاحب تقوی، مسلک اعلی حضرت کے عظیم ناشر و مبلغ پاسبان و ترجمان، ترجمان اہلسنت، مخدوم اہلسنت، محسن اہلسنت، حامی سنت، شیخ وقت، پیر طریقت، امیر ملت۔ و غیرہا
محمد اقبال ان کے زیر اثر اقبال کے دل میں بھی سرسید کی محبت پیدا ہوگئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبال کے گھر کی چیز تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی۔ اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں آگے تھے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجود تھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر وہ کتاب کے کیڑے نہیں تھے۔ کتاب کی لت پڑ جائے تو آدمی محض ایک دماغی وجود بن جاتا ہے۔ زندگی اور اس کے بیچ فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ زندگی کے حقائق اور تجربات بس دماغ میں منجمد ہوکر رہ جاتے ہیں، خونِ گرم کا حصّہ نہیں بنتے۔ انھیں کھیل کود کا بھی شوق تھا۔ بچوں کی طرح شوخیاں بھی کرتے تھے۔ حاضر جواب بھی بہت تھے۔ شیخ نُور محمد یہ سب دیکھتے مگر منع نہ کرتے۔ جانتے تھے کہ اس طرح چیزوں کے ساتھ اپنائیت اور بے تکلفی پیدا ہوجاتی ہے جو بے حد ضروری اور مفید ہے۔ غرض اقبال کا بچپن ایک فطری کشادگی اور بے ساختگی کے ساتھ گزرا۔ قدرت نے انھیں صوفی باپ اور عالم استاد عطا کیا جس سے ان کا دل اور عقل یکسو ہوگئے، دونوں کا ہدف ایک ہوگیا۔ یہ جو اقبال کے یہاں حِس اور فِکر کی نادر یکجائی نظر آتی ہے اس کے پیچھے یہی چیز کارفرما ہے۔ باپ کے قلبی فیضان نے جن حقائق کو اجمالاً محسوس کروایا تھا استاد کی تعلیم سے تفصیلاً معلوم بھی ہوگئے۔ سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغا اور وظیفہ ملا۔
سلطان باہو آپ اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ "میں تیس سال تک مرشد کی تلاش میں رہا مگر مجھے اپنے پائے کا مرشد نہ مل سکا"۔ یہ اس لیے کہ آپ فقر کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے جہاں دوسروں کی رسائی بہت مشکل تھی۔ چنانچہ آپ اپنا ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ دیدارِ الٰہی میں مستغرق شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور، صاحبِ حشمت سوار نمودار ہوئے جنہوں نے اپنائیت سے آپ کو اپنے قریب کیا اور آگاہ کیا کہ میں علیؓ ابنِ طالبؓ ہوں اور پھر فرمایا کہ "آج تم رسول اللہﷺ کے دربار میں طلب کیے گئے ہو"۔ پھر ایک لمحے میں آپ نے خود کو آقا پاک ﷺ کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہ میں ابوبکر صدیق ،عمر، عثمان غنی اور تمام اہلِ بیت حاضر تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی پہلے ابوبکر صدیق نے آپ پر توجہ فرمائی اور مجلس سے رخصت ہوئے، بعد ازاں عمر اور عثمان غنی بھی توجہ فرمانے کے بعد مجلس سے رخصت ہو گئے ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا "میرے ہاتھ پکڑو" اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔ بعد ازاں آقائے دو جہاں ﷺ نے آپ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے سپرد فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں "جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کر لیا"۔ پھر عبدالقادر جیلانی کے حکم پر سخی سلطان باہو نے دہلی میں عبدالرحمن جیلانی دہلوی کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی اور ایک ہی ملاقات میں فقر کی وراثت کی صورت میں اپنا ازلی نصیبا ان سے حاصل کر لیا۔