Top 10 similar words or synonyms for اوراب

کامروپ    0.709015

کوکن    0.691251

جمانہ    0.685740

مشکاف    0.680100

صہ    0.676575

وپن    0.676232

احتجاجوں    0.674567

جمعراتوں    0.673502

طیفوریہ    0.672589

uva    0.669329

Top 30 analogous words or synonyms for اوراب

Article Example
حبیب احمد نقشبندی قادری جائداد ہیں،مولاناصاحب اپنی زات کےلیے کوئی چیزخاص نہیں کی اوراب تک بلامعاوضہ
جمشید مسرور لاہور میں دس سال رہنے کے بعد جمشید مسرور ناروے آ گئے اوراب وہیں مقیم ہیں۔
ابوایوب انصاری ابوایوب کا مزار دیوار قسطنطنیہ کے قریب ہے اوراب تک زیارت گاہ خلائق ہے،رومی قحط کے زمانہ میں مزار اقدس پر جمع ہوتے تھے،اس کے وسیلہ سے بارانِ رحمت مانگتے تھے اورخدا کے لطف وکرم کا تماشا دیکھتے تھے۔
عبد اللہ بن سہیل "سہیل بن عمرو کو کوئی نگاہِ حقارت سے نہ دیکھے، قسم ہے کہ وہ نہایت ذی عزت و دانشمند ہے، ایسا شخص محاسن اسلام سے ناواقف نہیں ہوسکتا اوراب تو اس نے دیکھ لیا ہے کہ وہ جس کا حامی تھا اس میں کوئی منفعت نہیں۔
فضالہ بن عبید 53ھ میں وفات پائی، امیر معاویہ مسند حکومت پر تھے،خود جنازہ اٹھایا اوران کے بیٹے عبداللہ سے کہا، میری مدد کرو، کیونکہ اب ایسے شخص کے جنازہ کے اٹھانے کا موقع نہ ملے گا، دمشق میں دفن ہوئے مزار مبارک موجود ہے اوراب تک زیارت گاہ خلائق ہے۔
مير تقی میر میر کا دور شدید ابتری کا دور تھا۔ زندگی کے مختلف دائروں کی اقدار کی بے آبروئی ہو رہی تھی۔ انسانی خون کی ارزانی ، دنیا کی بے ثباتی اور ہمہ گیرانسانی تباہی نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا۔ میر اس تباہی کے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ حال معاشرہ کے ایک رکن تھے۔ جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی بردبادی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا۔ اوراب اس کو جوڑنا ممکن نہ رہا تھا۔ میر نے اس ماحول کے اثرات شدت سے محسوس کیے ہیں۔ ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں۔ لٹے ہوئے نگروں، شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات، بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں، زمانے کے گرد و غبار کی دھندلاہٹیں، تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میر کے ہاں موجود ہیں۔
محمد عباس (اسکی باز) انہوں نے المپکس کے لیے ترکی ایرن اور لبنان میں ہونے والے کوالیفائینگ راؤنڈ میں کامیابی حاصل کی اور سن دو ہزار آٹھ اور نو کے دوران آسٹریا میں ٹریننگ کی۔ ان المپکس میں عباس نے دونوں رن تین منٹ اور اکیس سیکنڈ میں مکمل کئے۔ عباس کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اتنے لمبے سلوپ سے کھیل رھے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شروع میں لکڑی کی مدد سے سکیئز بنا کرگاؤں کے لڑکوں کے ھمراہ برف پر کھیلا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال کی عمر میں وہ لکڑی کے دو ٹکروں کو ھموار کرکے رسیوں کی مدد سے پاؤں کے نیچے باندھ کر اور دو درخت کی ٹہنیوں کو ہاتھ میں پکڑ کر برف پر پھسلتے۔عباس کی عمر نو سال تھی جب ان کو باقاعدہ سکیئز ملے جس کے بعد ان کا کھیل بہتر ھوا اور 1999ء میں انہوں نے تیرہ سال کی عمر میں ایران میں منعقد ھونے والی چلڈرن ایشیشن چیمپین شپ میں حصہ لیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کےگاؤں میں بہت لوگوں کو سکئینگ کا شوق ہے اوراب پاکستان کے مختلف اداروں میں اس گاؤں کے کئی لڑکے بطور سکیئرملازمت کر رہے ہیں۔
سریہ اسامہ بن زید جب جوش جہاد میں بھرا ہوا عساکر اسلامیہ کا یہ سمندر موجیں مارتا ہوا روانہ ہوا تو اطراف وجوانب کے تمام قبائل میں شوکت اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اورمرتد ہوجانے والے قبائل یا وہ قبیلے جو مرتد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مسلمانوں کا یہ دل بادل لشکر دیکھ کر خوف ودہشت سے لزرہ براندام ہوگئے اورکہنے لگے کہ اگر خلیفہ وقت کے پاس بہت بڑی فوج ریزروموجود نہ ہوتی تو وہ بھلا اتنا بڑالشکر ملک کے باہر کس طرح بھیج سکتے تھے؟اس خیال کے آتے ہی ان جنگجو قبائل نے جنہوں نے مرتد ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا خوف ودہشت سے سہم کر اپنا پروگرام ختم کردیا بلکہ بہت سے پھر تائب ہوکر آغوش اسلام میں آگئے اورمدینہ منورہ مرتدین کے حملوں سے محفوظ رہا اور حضرت اسامہ بن زید کالشکرمقام "اُبنی"میں پہنچ کر رومیوں کے لشکرسے مصروف پیکار ہوگیا اور وہاں بہت ہی خوں ریزجنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوگیا اوراسامہ بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد فاتحانہ شان وشوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اوراب تمام صحابہ کرام انصار ومہاجرین پر اس راز کا انکشاف ہوگیا کہ اسامہ کے لشکر کو روانہ کرنا عین مصلحت کے مطابق تھا کیونکہ اس لشکر نے ایک طرف تورومیوں کی عسکری طاقت کوتہس نہس کردیا اوردوسری طرف مرتدین کے حوصلوں کو بھی پست کردیا۔
سید ساجد علی نقوی آپ نےیکم جنوری 1940 میں پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد سے ڈیڑھ سو کلومیٹر فاصلے پر ضلع اٹک کے گاؤں ملہووالی کے معروف علمی و مذہبی خاندان میں آنکھ کھولی۔ جس کا پاکستان میں اسلام کے فروغ اور اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت میں ایک معتبر کردار ہے۔ بالخصوص پاکستان میں دینی مدارس کے قیام اور ان کے ذریعے اسلامی طرز پر معاشرے کی تشکیل کے لیے خدمات ہیں جو تاحال جاری ہیں۔ اس ذاتی پس منظر کے سبب علامہ موصوف پاکستان کے ایک جید اور مسلمہ اہل علم اور اہل فکر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جہاں آپ کے حقیقی چچا پاکستان کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے وہاں آپ کے خاندان کے متعدد افراد بطور عالم دین پاکستان میں دینی، سماجی اور سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔آپ ایک علمی اور سیاسی اسکالر،سنجیدہ اورروشن فکر عالم دین اور با بصیرت و بالغ نظر سیاست دان کے طور پر، دینی و سیاسی افق پر موجود ہیں۔ معتدل مزاجی، روشن فکری، محتاط گفتگو، جچی تلی رائے، اتحاد امت اور وحدت ملی آپ کی شخصیت کا خاصہ ہیں اور اس حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں اور اتحادبین المسلمین کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان میں 28 دینی جماعتوں پرمشتمل ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدرہیں۔ خاص بات یہ کہ ملک اردن کے معتبرادارے Royal Islamic Strategic Studies Center کی طرف سے 2015, 2016 اوراب 2017کی دنیاکے سب سے زیادہ بااثرمسلمانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
کلاسیکی کلاسیک کے عظیم ادیبوں و شعرا ایک فطین ، زی شعور اور مخصوص جمالیاتی حسں کے حامل ھوتے تھے اور وہ اپنے اظہار میں ہنر بھی تھے۔ وہ اچھی طرح سے اور مؤثر طریقے سے لکھتےبھی تھے، اس میں حکمت بھی ھوتی تھی اور مستقبل آنے والے متوقع حادثات اور آنے والی دریافتوں کا عندیہ بھی دیا جاتا ہے۔ ان کے فکری واہموں میں حقیقت پسندانہ خواب پوشیدہ ھوتے تھے۔ کلاسیکل کہانیوں میں شیشے کے اندر کوسوں دور کے منظر نظر آتے تھے۔ پھر چند ہی صدیوں بعد یہی واہمے سچ ثابت ھوئے اور ہم نے دیکھا کہ پھر ٹیلی وژن بھی آیا اوراب ہم فیس ٹائم کا لطف بھی اٹھارھے ہیں ۔ قصہ مختصر یہ کہ کلاسیک کے بغیر ادب ایسا درخت ہوتا ہے جس کی جڑیں نہیں ھوتیں۔بہت آسان لفظوں میں کلاسیک وہ ادب جس کی تخلیق تو ماضی میں ہوئی ہو لیکن جو عہد حاضر میں بھی اہمیت کا حامل ہو۔ جو وقت کی گرد میں دب کر معدوم نہ ہوگیا ہو۔ مثال کے طور پر ہومر، شیکسپئیر، غالب ، میر، اقبال وغیرہ۔اب اگر کلاسیک کی فلسفیانہ مبادیات پر غور فکر کرنا ہو تو ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون "کلاسیک " کیا ہے؟ کا مطالعہ کافی ہوگا۔ جمیل جالبی کے ترجمے "ایلیٹ کے مضامین" میں یہ مضمون بھی شامل ہے۔ کلاسیک کی تفہیم و تعبیر کوئی ایسا پیچیدہ معاملہ نہیں ہے .اصل میں بنیادی بات وھی ہے کہ تاریخ کے ارتقائی عمل میں کلاسیک ادب اپنا کردار ادا کرتا ھوا تہذیبوں کو ایک اساس فراھم کر دیا کرتا ہے اور پھر اسی زبان کا ادب اپنے تسلسل میں روائیات کے ساتھ آگے بڑھتا ھوا عصر حاضر کی تمام ادبی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور پھر آج کا زندہ رہ جانے والا ادب آنے والے کل کا کلاسیک ادب کہلائے گا۔ ادب پر کلاسیک گہرا اثر ہوتا ہے۔ جو ادبی تاریخ کی ایک جمالیاتی قدر بھی ہے۔