Top 10 similar words or synonyms for انفاق

العالمين    0.863467

والحمد    0.853734

نبي    0.851478

مئۃ    0.848639

لعبد    0.845663

مسئلۃ    0.841382

تسع    0.838376

الأبرار    0.836512

ثلاثة    0.835573

الشافعي    0.835063

Top 30 analogous words or synonyms for انفاق

Article Example
پارہ نمبر 1 ۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ
آغا حسن عابدی انہوں نے انفاق فاؤنڈیشن کی بھی بنیاد رکھی۔ جس کےتحت سماجی خدمت کے پروگرامز پیش کرنا ، طبی امداد فراہم کرنا ، مظلوم طبقے کی شنوائی ، مختلف تعلیم اداروں اور پروجیکٹس کو امداد فراہم کرنا، ذہین طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیش کرنا ، صحافیوں ، مصنفوں اور فنکاروں کی امداد کی گئی ۔یہ فاؤنڈیشن ابھی تک بہت سے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی امداد کی جا رہی ہے ۔
دور رشد و رشادت "جنگ تبوک میں جاتے وقت نبی کریم ص نے فرمایا ہر صاحب حیثیت اس جنگ میں جتنا انفاق کر سکتا ہے کرے، اس کی کوئی حد نہیں ہے. ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کیا. ابوبکر نے سب سے زیادہ خرچ کیا.پیغمبر نے پوچھا گھروالوں کیلئے کتنا چھوڑا ہے تو جواب دیا گھر میں اللہ اور اس کے رسول ص کا نام چھوڑا ہے.
الحدید اس کا موضوع انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین ہے۔ اسلام کی تاریخ کے اس نازک ترین دور میں، جبکہ عرب کی جاہلیت سے اسلام کا فیصلہ کن معرکہ برپا تھا، یہ سورت اس غرض کے لیے نازل فرمائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو خاص طور پر مالی قربانیوں کے لیے آمادہ کیا جائے اور یہ بات ان کے ذہن نشین کرائی جائے کہ ایمان محض زبانی اقرار اور کچھ ظاہری اعمال کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے دین کے لیے مخلص ہونا اس کی اصل روح اور حقیقت ہے۔ جو شخص اس روح سے خالی ہو اور خدا اور اس کے دین کے مقابلے میں اپنی جان و مال اور مفاد کو عزیز تر رکھے اور اس کا اقرار ایمان کھوکھلا ہے جس کی کوئی قدر و قیمت خدا کے ہاں نہیں ہے۔
سورہ محمد آخر میں مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی گئی ہے۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی معاشی حالت بہت پتلی تھی، مگر سامنے مسئلہ یہ درپیش تھا کہ عرب میں اسلام اور مسلمانوں کو زندہ رہنا ہے یا نہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت و نزاکت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں اپنے آپ کو اور اپنے دین کو کفر کے غلبہ سے بچانے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی جانیں بھی لڑائیں اور جنگی تیاری میں اپنے مالی وسائل بھی پوری امکانی حد تک کھپا دیں۔ اس لیےمسلمانوں سے فرمایا گیا کہ اس وقت جو شخص بھی بخل سے کام لے گا وہ دراصل اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ خود اپنے آپ ہی کو ہلاکت کے خطرے میں ڈال لے گا۔ اللہ تو انسانوں کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے دین کی خاطر قربانیاں دینے سے ایک گروہ اگر جی چرائے گا تو اللہ اسے ہٹا کر دوسرا گروہ اس کی جگہ لے آئے گا۔