Top 10 similar words or synonyms for افلح

اقترب    0.976242

خطبکم    0.965755

فما    0.962616

وقال    0.959749

الملاء    0.946750

واعلموا    0.946485

تبارك    0.944993

سمعوا    0.942769

والمحصنات    0.940767

الذین    0.940292

Top 30 analogous words or synonyms for افلح

Article Example
قد افلح قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے 18 ویں پارے کا نام جو قرآن کریم کی 23 ویں سورۃ المؤمنون کی مکمل 118 آیات اور 24 ویں سورۃ النور کی مکمل 64 آیات اور 25 ویں سورۃ الفرقان کی ابتدائی 20 آیات پر مشتمل ہے لہزا یہ پارہ کل 202 آیات پر مشتمل ہے اور اس کے سترہ 17 رکوع ہیں۔
افلح الشام ضلع افلح الشام ضلع ( عربی: مديرية أفلح الشام) یمن کا ایک فہرست یمن کے اضلاع جو محافظہ حجہ میں واقع ہے۔
افلح الیمن ضلع افلح الیمن ضلع ( عربی: مديرية أفلح اليمن) یمن کا ایک فہرست یمن کے اضلاع جو محافظہ حجہ میں واقع ہے۔
افلح الیمن ضلع افلح الیمن ضلع کی مجموعی آبادی 38,874 افراد پر مشتمل ہے۔
افلح الشام ضلع افلح الشام ضلع کی مجموعی آبادی 54,054 افراد پر مشتمل ہے۔
عبد اللہ بن جحش مدینہ میں عاصم بن ثابت بن ابی افلح انصاری نے ان کے تمام قبیلہ کو اپنا مہمان بنایا، آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں بھائی چارہ کرادیا تھا۔
قاسم بن محمد بن ابی بکر قاسم، علم وعمل کے جامع اور مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ایک تھے، اپنی پھوپھی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، ابن عباس]]، امیرمعاویہؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور فاطمہ بنتِ قیسؓ سے حدیث پڑھی اور تعلیم حاصل کی اور آپؒ کے بیٹے عبدالرحمنؒ، امام زہریؒ، ابن المنکدرؒ، ربیعہ الرایؒ، افلح بن حمیدؒ، حنظلہ بن ابی سفیانؒ، ایوب السختیانیؒ جیسے آئمہ علم نے روایات لیں اور اکتسابِ علم کیا، آپؒ سے دوسو کے قریب حدیثیں مروی ہیں، ابوالزناد عبدالرحمٰن (131ھ) کہتے ہیں:
سریہ رجیع عضل اور قارہ کے چند لوگوں نے جناب رسول اللہ کی خدمت اقدس میں آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے یہاں مسلمان ہیں آپ چند صحابہ کو ہمارے ہمراہ بھیج دیجئے تاکہ وہ دین کی باتیں ہم کو سکھائیں حضور نے خبیب بن عدی انصاری اور مرثد بن ابی مرثد غنوی اور خالد بن بکر اور عبداللہ بن طارق اور زید بن دثنہ کو بھیج دیا اور عاصم بن ثابت انصاری کو ان کا امیر مقرر کیا جنہیں ابن ابو افلح بھی کہتے ہیں۔
صحف موسیٰ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا ساری کی ساری عبرتیں ہیں۔ مجھے اس پر تعجب ہے جو موت کا یقین رکھتا ہے وہ کس طرح خوش ہوتا ہے۔ اور جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر ہنستا ہے اور مجھے اس پر تعجب ہے جو دنیا کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنے رہنے والوں کو الٹی رہتی ہے پھر وہ اس کے ساتھ مطمئن رہتا ہے اور اس شخص کے لیے تعجب ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے پھر تھکتا رہتا ہے اور اس شخص کے لیے تعجب ہے جو حساب کا یقین رکھتا ہے پھر عمل نہیں کرتا میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ پر کوئی چیز ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں سے نازل ہوئی۔ فرمایا اے ابوذر ہاں وہ یہ ہے آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی ابل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی ان ہذا لفی الصحف الا ولی صحف ابراہیم وموسی۔ بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی بلکہ تم دنیا کی زندگی تو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ بے شک یہی بات ہے پہلے صحیفوں میں ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں۔
صحف ابراہیم عبد بن حمید وابن مردویہ وابن عساکر نے ابوذرغفاری سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں ؟ فرمایا ایک سو چار کتابیں اللہ تعالیٰ نے شیث (علیہ السلام) پر پچاس صحیح اور ادریس (علیہ السلام) پر تیس صحیفے اور ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات سے پہلے دس صحیفے نازل فرمائے اور یہ چار کتابیں تورات، انجیل زبور اور فرقان نازل فرمائیں۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے کیا تھے فرمایا ان تمام میں اس طرح ہے اے جابر۔ غالب آزمائش میں مبتلا رنے والے اور مغرور بادشاہ! میں نے تجھے نہیں بھیجا کہ تو دنیا کو ایک دوسرے پر جمع کرتا رہے لیکن تجھ کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ تو مجھ سے مظلوم کی دعا کو واپس لوٹا دے۔ کیونکہ اسے رد نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ کافر کی طرف سے ہو اور عقل پر لازم ہے جب تک اس کی عقل مغلوب نہ ہوجائے۔ اس کے لیے تین گھڑیاں ہوں۔ یعنی اس کا وقت تین حصوں میں منقسم ہو۔ کہ ایک گھڑی میں وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہو اور ایک گھڑی میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہو۔ اور اس میں غوروفکر کرتا ہو جو کچھ اس نے عمل کیا۔ اور ایک گھڑی اس کی حلال حاجات کے لیے خالی کیونکہ یہ گھڑی ان پہلی گھڑیوں کی مددگار ہوگی دلوں کو اطمینان پہنچائے گی۔ اور ان کو غفلت سے خالی خالی اور فارغ رکھے گی۔ اور عاقل پر لازم ہے کہ وہ آنے والے وقت میں پیش آنے والے کاموں پر نظر رکھے اور اپنی زبان کی حفاظت رکھے کیونکہ جوا پنے عمل سے اپنی کلام کا محاسبہ کرتا ہے اس کی گفتگو کم ہوجاتی ہے سوائے ایسے کاموں کے جو بامقصد اور نفع مند ہوتے ہیں۔ اور عاقل پر لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کی تلاش کرے۔ ذریعہ معاش کو توشہ آخرت کو اور غیر حرام چیزوں میں لذت کو۔میں نے کہا یا رسول اللہ! آپ پر کوئی چیز ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں سے نازل ہوئی۔ فرمایا اے ابوذر ہاں وہ یہ ہے آیت قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی ابل تو ثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی ان ہذا لفی الصحف الا ولی صحف ابراہیم وموسی۔ بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہوگیا اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی بلکہ تم دنیا کی زندگی تو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ بے شک یہی بات ہے پہلے صحیفوں میں ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں میں۔