Top 10 similar words or synonyms for اخلاف

لونیہ    0.746981

اڑائے    0.741639

disintegration    0.734412

غرغشت    0.732998

پاشے    0.725518

نقرالد    0.724863

السدس    0.723995

جذعہ    0.723784

پڑپوتے    0.722287

chamorro    0.722269

Top 30 analogous words or synonyms for اخلاف

Article Example
گدھا گدھے یا خر کا گھوڑے کی جنس کے ساتھ ملاپ کے نتیجے میں دوغلی نسل کا جانور بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں، مادہ گھوڑی اور نر گدھے کی اخلاف کو ٹٹو کہا جاتا ہے۔ جبکہ گدھے کی مادہ، اور نر گھوڑے کے اخلاف کو خچر پکارا جاتا ہے۔ گھوڑے اور گدھے کی دوغلی نسل کا جانور زیادہ مضبوط اور زیادہ مشقت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ٹٹو گدھے یا خر کا گھوڑے کی جنس کے ساتھ ملاپ کے نتیجے میں دوغلی نسل کا جانور بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں، مادہ گھوڑی اور نر گدھے کی اخلاف کو ٹٹو کہا جاتا ہے۔ جبکہ گدھے کی مادہ، اور نر گھوڑے کے اخلاف کو خچر پکارا جاتا ہے۔ گھوڑے اور گدھے کی دوغلی نسل کا جانور زیادہ مضبوط اور زیادہ مشقت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
غوری ٍٍ* عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے، جو اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے۔
چھتیس راج کلی راٹھوروں کے شجرنسب میں یہ رام کے لڑکے رام کے لڑکے کش کے اخلاف ہیں، اس طرح یہ سورج بنسی ہیں۔ لیکن ان کے کبشر (نسب داں) اس سے منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اگرچہ کش کے اخلاف نہیں ہیں، لیکن یہ کیوشت ہیں یعنی سورج بنسی اور یہ ویٹ (شیطان) کی لڑکی سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ قنوج پر حکمران تھے اور بعد میں اور بعد میں پنے ایک راجہ سوجی کی نسبت سوجی کہلائے۔ان سا دلیر اور بہادر راجپوتوں میں کم ہی ہیں۔ مغلیہ لشکر میں پجاس ہزار راٹھور تھے۔ ان کی شاخیں حسب ذیل ہیں۔
پشتون حکومتیں عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی ۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے ۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے اور اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے ۔ اس طرح غوری پہلی پشتون افغانوں کی پہلی آزاد حکومت غوریوں کی مملکت تھی جو مسلمانوں کی آمد سے قبل غور کے علاقے میں قائم ہوئی تھی اور بعد میں اپنے عروج کے زمانے میں بنگال سے لے کر خوارزم تک پھیلی ہوئی تھی ۔ ان کی سلطنت تیرویں صدی میں پہلے خوارزم شاہیوں اور پھر منگولوں نے مٹا دیا اور اس علاقے میں ایلخانی سلطنت قائم ہوگئی ۔
غوری خاندان نعمت اللہ ہراتی غوریوں کو ضحاک نسل بتاتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ یہ عربی نژاد تھا اور اس نے بہرام غوری کو غوریوں کا جد امجد بتایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سلطان بہرام غوری امیر المومنین حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانے میں کوفہ حاضر ہوا اور حضرت علیؓ نے ایک خاص فرمان اپنے دستخط سے تحریر فرما کر اسے عطا کیا جس کی رو سے غور ستان کی حکومت اسے عطا کی گئی۔ عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے، جو اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے۔
شیث علیہ السلام فلا ویس یو سیفس ایک رومی یہودی جو ایک دانشور، مؤرخ اور سیرت نگار تھا۔ اس نے قدیم آثار یہود نامی ایک کتاب میں شیث کو ایک متقی اور پرہیزگار شخص قراردیاہے۔فلا ویس یو سیفس نے مزید تحریر کیاہے کہ شیث کے اخلاف نے بہشتی دانش کا انسانوں میں اجراء کیا اور علمی تخلیقات اور ہنر سکھائے جیساکہ علم فلکیات وغیرہ۔یہ تمام علوم و ہنر اولاد شیث کے ذریعے قائم کئے گئے تھے ان علوم و ہنر کی بنیاد آدم کی ان پیشنگوئی کی بنیاد پر تھی کہ یہ دنیا ایک بار آگ اور ایک بار سیلاب عظیم کی وجہ سے تباہ کردی جائے گی۔شیث کی اولاد نے دو ستون تعمیر کئے ، ایک کو اینٹوں اور دوسرے کو پتھروں کی مدد سے تعمیرکیاگیاتھا تاکہ ایجادات اور دریافتوں کوان ستونوں پر تحریر کرکے محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی یاد باقی رہے۔ یہ ستون انسانوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ اینٹوں اور پتھروں سے تعمیرات کی گئیں اور مختلف علوم و ہنر کی بھی اختراع ہوئی۔ فلا ویس یو سیفس نے تحریر کیاہے کہ آج بھی پتھروں کا ستون مصر (سریاد:land of Siriad)کی سرزمین پر موجود ہے۔
غوری خاندان عزالدین حسین کے سات بیٹے تھے جو حکمرانی کے منصب پر فائز ہوئے۔ جو ذیل ہیں۔ (1) ملک شہاب الدین محمد (خرنک) رئیس مادین و غور (2) ملک فخر الدین مسعود امیر بامیان و طخارستان (3) سلطان علاؤ الدین حسین شاہ غقور و غزنی و بامیان (4) سلطان سیف الدین سوری بادشاہ غزنہ و غور (5) سلطان بہاء الدین سام بادشاہ غور (6) ملک الجبال قطب الدین محمد امیر غور و فیروز کوہ (7) ملک شجاع الدین امیر خراسان و غور۔ اس وجہ ہے ملک عزالدین ابو سلاطین کہلاتا ہے۔ اس نے سلجوقی سلطان ملک سنجر کی اطاعت اختیار کر لی تھی اس کے علاوہ اس کے سلاطین غزنہ سے بھی اچھے تعلقات تھے۔غوری حکمرانوں کا اب تک دور وہ تھا کہ سلطان محمود غزنوی کے غور کو مسخر 1010ء سے محمد بن سوری کے اخلاف غزنویوں کے زیر اقتدار رہے، جب غزنوی حکومت پر صعف طاری ہوا تو غوریوں کو آزادی کا زیادہ موقع ملا لیکن استقلال اور مستقل آزادی غزالدین کے بیٹوں نے اختیار کی۔