Top 10 similar words or synonyms for ابوالفضل

ابوالحسن    0.865379

بدیع    0.856723

قزوینی    0.851745

المتوفی    0.845505

ابوالقاسم    0.843589

بدرالدین    0.840365

اصفہانی    0.834996

مصطفى    0.832683

دینوری    0.830008

سيد    0.826517

Top 30 analogous words or synonyms for ابوالفضل

Article Example
ابوالفضل صدیقی ابوالفضل صدیقی (پیدائش: 4 ستمبر، 1908ء- وفات: 16 ستمبر، 1987ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے صف اول کے افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔
ابوالفضل صدیقی ابو الفضل صاحب کی ادبی زندگی کا آغاز 1932ء میں ہوا۔ہفت روزہ "ریاست" دہلی کے 15 اگست، 1932ء کے شمارے میں ایک طنزیہ مضمون لکھا جوان کی پہلی مطبوعہ تحریر ہے۔ ابو الفضل صاحب کا پہلا افسانہ "سماج کا شکار" ہے جو رسالہ "ادبی دنیا" لاہور میں 1941ء میں اور پہلا افسانوی مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا۔ انہی دنوں برصغیر میں نفرت کا جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ابوالفضل اور ان کا خاندان چونکہ مسلم لیگی مشہور تھا، گھرانہ بھی مسلم روایت پسند تھا، پھر ان کی حویلی اطراف کے دیہاتوں میں پھوٹ پڑنے والے خونی فسادات سے متاثر ہونے والے مسلمانوں کی پناہ گاہ بن گیا تو گویا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ سازشی سازشوں کے جال بننے لگے ، لیکن ابوالفضل اتنے حوصلہ مند اور ذکی تھے کہ نہایت حکمت و بصیرت سے ان سازشوں کے تاروپود بکھیرتے رہے۔ لیکن جب تقسیم ہند کے بعد حکومت ہند نے تنسیخ زمینداری کا قانون نافذ کر دیا جس سے جس سے بڑے بڑے زمیندار معاشی طور پر بدحال ہو گئے تو ابوالفضل صدیقی کا جی اتنا برا ہوا کہ بالآخر 1954ء میں پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی میں جیکب لائنز کے ایک دو کمروں کے کوارٹر میں رہنے لگے۔ کہاں ایکڑوں پر پھیلی ہوئی حویلی اور نوکروں کی قطاریں اور کہاں یہ دو کمرے! کوئی اور ہوتا تو ماضی کی یادیں اوڑھ کر لیٹا رہتا لیکن انہوں نے نہ صرف پامردی سے حالات کا مقابلہ کیا بلکہ ساتھ ساتھ قلم سے افسوں بھی پھونکتے رہے۔ ایک کے بعد ایک ان کی لازوال کہانیاں آتی گئیں ۔ ان کے موضوع بہت منفرد تھے۔ دیہات، وہاں کے تمام طبقات، کسان، کھیت ، مزدور، مہاجن، جاگیرداروں اور ان کے کارندوں، دیہاتیوں کے مسائل اور ان کی نفسیات... پھرجنگل، نباتات، جانوروں، چرند پرند، درند،ان کی عادات و خصائل، جبلت اور انسان سے ان کے باہمی رشتوں کو جس طرح انہوں نے لکھا، وہ بلاشبہ اردو ادب کے سرمائے میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ذخیرہ ہے ۔
ابوالفضل صدیقی ابوالفضل صدیقی کی تصانیف و تراجم درج ذیل ہیں:
ابوالفضل صدیقی ابوالفضل صدیقی 16 ستمبر، 1987ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی کے پاپوش نگر کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
ابوالفضل بیہقی پیدائش:995ء
ابوالفضل بیہقی وفات:1077ء
انشائے ابوالفضل شہنشاہ اکبر اعظم کے وزیر ابوالفضل کے مکتوبات کا مجموعہ جو اس نے بادشاہ کی طرف سے لکھے۔ ابوالفضل نے متعدد کتابیں لکھیں۔ مثلاً اکبر نامہ بشمول آئین اکبری ، جامع اللغات ، عیار دانش ، رقعات ابوالفضل ، رزم نامہ ، مہابھارت کا فارسی ترجمہ ۔
انشائے ابوالفضل انشائے ابوالفضل تین دفتروں پرمشتمل ہے۔ ان کو عبدالصمد افضل محمد نے مرتب کیا۔ پہلے دفتر میں وہ مکاتیب و فرامین ہیں جو مختلف فرمان رواؤں کو لکھے گئے۔ دفتر دوم اور دفتر چہارم بادشاہ کے ذاتی خطوط پر مبنی ہے۔ تیسرا دفتر ابوالفضل کی ذاتی یاداشتوں اور تحریروں پر مشتمل ہے۔ جو اس نے زیر مطالعہ کتب یا مختلف حالات و واقعات سے اثر پزیر ہو کر اپنے استفادہ کی خاطر لکھے۔
ابوالفضل بیہقی ابوالفضل محمد بن حسین بیہقی علاقہ بیہق کے شہر حارث آباد میں پیدا ہوا۔ نیشا پور میں تحصیل علم کے بعد غزنی کے دربار میں رسائی حاصل ہوئی۔ عبدالرشید کے دور میں دیوان رسائل کا رئیس مقرر ہوا۔ لیکن حاسدوں کی سازش کے باعث محبوس ہوا۔ رشید کے خاتمے کے بعد زندان سے نجات ملی اور باقی عمر تصنیف و تالیف میں گزار دی۔ اس کی یادگار تاریخ بیہقی یا تاریخ مسعودی ہے جو تیس جلدوں پر مشتمل ہے۔ لیکن اب صرف ایک حصہ باقی رہ گیا ہے۔
ابوالفضل صدیقی ابوالفضل صدیقی 4 ستمبر، 1908ء کو عارف پور نوادہ، بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں ایک معزز زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کا خاندان 1857ء کی جنگ آزادی میں مجاہدین کی مدد کرنے کے پاداش میں معتوبین ِحکومت میں رہ چکا تھا۔ آپ کے دادا چوہدری احمد حسن علاقے کے معزز زمیندارہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے اور "علیل" تخلص کرتے تھے، اس کے علاوہ قانون پر اچھی دسترس رکھنے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے اعزازی عدالتی عہدے 'منصفی' پر بھی فائز تھے۔ چوہدری احمد حسن کے چھوٹے بیٹے اور ابوالفضل کے والد محترم ابوالحسن صدیقی بھی علی گڑھ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، معروف وکیل اور شاعر و ادیب بھی تھے۔اس وقت کے مستند ادبی رسائل میں ان کی نگارشات شائع ہوتی تھیں۔ اس خاندان کے علم و شائستگی کا اتنا چرچا تھا کہ زمینداری کا روایتی رعب داب ان کی حویلی کے دروازے پر ہی کھڑا رہتا تھا، زمینداروں کے مظالم کی جگہ شاعرانہ حساسیت نے لے لی تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کے مزارع اپنے مالکوں پر جان چھڑکتے تھے۔ ابوالفضل کے والد نے بدایوں میں ابوالفضل کو ایک مشن اسکول میں داخل کروا دیا۔ مشن اسکول میں دو سال گزارنے کے بعد وہ سینٹ جارجز کالج مسوری میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے جو اس وقت ہندوستانیوں کے لیےتقریباً ناممکن تھا۔ بہرحال وہاں سے 'سینئر کیمبرج' کر کے واپس آئے تو اپنی زمینداری سنبھالی۔ شکار، زراعت، باغات اور جانوروں کا باریک بینی سے مشاہدہ ...غرض جنگل اور دیہات سے متعلق ان کا سارا علم کتابِ فطرت سے براہِ راست اکتساب کا نتیجہ تھا جو پھر ان کے لازوال افسانوں میں جھلکا اور ایک زمانے کو اپنا معترف بنا لیا۔