Top 10 similar words or synonyms for ابتذال

چکھنا    0.790938

نخاعی    0.788914

chlorophyll    0.783936

persistent    0.781997

conventional    0.781739

laryngeal    0.779869

ventricular    0.779728

استماتت    0.778211

غیرجنسی    0.777500

activation    0.777374

Top 30 analogous words or synonyms for ابتذال

Article Example
دبستان دہلی ” دہلی میں تصوف کی تعلیم اور درویشی کی روایت نے خیالات میں بلندی اور گہرائی پیدا کی اور اسلوب میں متانت و سنجیدگی کو برقرار رکھا۔ تصوف کے روایات نے شاعری کو ایک اخلاقی لب و لہجہ دیا اور ابتذال سے دور رکھا۔ “
حیدرعلی آتش کی شاعری آتش بنیادی طور پر عشق و عاشقی کے شاعر ہیں لیکن ان کی عشقیہ شاعری میں وہ رکاکت اور ابتذال نہیں جو عام لکھنوی شعراءکے ہاں موجودہے۔ اس کے برعکس ان کے ہاں تہذیب اور نفاست کا احساس ہوتا ہے وہ محبوب کے کاکل و رخسار کا ذکر کرتے ہیں اور اپنے احساسات و جذبات کی بھی ترجمانی ان کے ہاں ملتی ہے لیکن عامیانہ پن سے وہ اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیتے ۔ ان کا محبوب شائد بازاری نہیں اسی لئے ان کی شاعری میں جنسیت کی کار فرمائی کا ِ احساس بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس میں ابتذال اور سوقیانہ پن نہیں ہے بلکہ جنس کا صحت مند تصور ان کے ہاں ملتا ہے۔
دبستان دہلی مومن تمام عمر غزل کے پابند رہے اور غزل میںکم سے کم الفاظ میں بڑے سے بڑے خیال ابلاغ اور شدید سے شدیدجذبہ کی عکاسی کی کوشش کی ۔ ا سی لیے جذبہ عشق سے وابستہ تہ در تہ کیفیات کے اظہار میں کمال پیدا کیا۔چنانچہ انہوں نے دہلی کی خالص اردو میں صاف ستھری غزل تخلیق کی۔ لکھنوی شعراءکے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدو د میں رہنے دیا۔ان کی معاملہ بندی لکھنوی شعراءسے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ ان کے ہاں ایک جدید تصور عشق ملتا ہے۔ مومن کاعاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔
مومن خان مومن مومن کی جنسی توانائی کا اظہار عملی زندگی سے ہی نہیں بلکہ کلام سے بھی ہوتا ہے۔دبستان لکھنو کے شعراء کے برعکس انہوں نے جنس نگاری کو فحش اور ابتذال سے بچا کر صحت مند حدود میں رہنے دیا۔ بیشتر اشعار میں روایت یا مفروضات کم ہیں اور ذاتی تجربات زیادہ، اسی لیے شاعری میں عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ میر تقی میر کی خود سپردگی اور خاکساری، لکھنوی شعراء کی ہوسناکی اور کجروی اور غالب کی نرگسیت اور خود پسندی سے قطعی مختلف ہے۔ مومن کا عاشق واضح طور پر ہرجائی ہے۔ ان کا یہ شعر عاشق کے تمام فلسفہ حیات کا نچوڑ ہے۔
انشاء اللہ خان انشاء انشاء نے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس بھی ہوتا ہے۔انشاء کی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ بانکا ہے۔ جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی جس حاضر جوابی اور بذلہ سنجی نے انہیں نواب سعادت علی خاں کا چہیتا بنا دیا تھا۔اس نے غزل میں مزاح کی ایک نئی طرح بھی ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے اشعار میں زبان کے ساتھ ساتھ جو چیز دگر ہے اسے محض انشائیت ہی سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔